21

موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار خوراک کا انتخاب

موسمیاتی تبدیلی آج دنیا بھر میں ایک نہایت بڑا اور سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شمار ہوتا ہے ، اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان دس تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ جو اس ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید طور پر دوچار ہیں۔ اسی طرح، گلوبل کالئمیٹ رسک انڈیکس 2021 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ بیس برسوں میں پاکستان کو 173 سے زائد موسمیاتی آفات جیسے غیر معمولی گرمی کی لہریں، شدید بارشیں، تباہ کن سیلاب اور خشک سالی برداشت کرنا پڑی ہیں۔ ماہرین ماحولیات اس بات پر متفق ہیں کہ اگر فوری اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں پاکستان کو خوراک اور زمین پانی کی سطح پانی کے مزید سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ زرعی زمینیں تیزی سے بنجر ہو رہی ہیں،مسلسل کم ہو رہی ہے اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت فصلوں کی پیداوار کو برا ہ راست متاثر کر رہا ہے۔ ان مسائل نے نہ صرف کسانوں کی زندگی کو مشکل بنایا ہے بلکہ شہروں میں بسنے والے عام لوگوں کے روزمرہ معمولات پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کا سب سے نمایاں اثر ہماری خوراک کی پیداوار، دستیابی اور معیار پر پڑ رہا ہے۔ ایک اندازے کے ،مطابق پاکستان میں ہر سال زرعی پیداوار میں 10 سے 15 فیصد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔ خاص طور پر گندم، چاول کپاس، مکئی اور چینی جیسی فصلیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ ان اثرات کی وجہ سے نہ صرف کسانوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ عام شہری کو بھی مہنگائی اور غذائی قلت کا سامنا ہے۔ پاکستان نے اپنی پہلی قومی غذائی تحفظ پالیسی کو متعارف کرایا تھا۔ جس کا مقصدموثر، منافع بخش، موسم کے خالف لچکدار اور مقابلے کی صلاحیت کے حامل زرعی شعبے کے ذریعے غذائی دستیابی میں اضافہ تھا۔ پاکستان نے قومی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں اور غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے لیے ایک جامع پالیسی فریم ورک تشکیل دیا ہے۔ تاہم صوبائی سطح پر فنڈز کی کمی کی وجہ سے بہت سی پالیسیوں کے نفاذ میں خال ہے۔ نیویارک عالمی بینک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا بھرمیں خوراک کے عدم تحفظ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں تقریباً 29کروڑ 50لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر یہ تسلیم کیا جا چکا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے خوراک کے شعبے میں پائیداری اپنانا نہایت ضروری ہے۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹس میں بھی زور دیا گیا ہے کہ خوراک نظام کو پائیدار بنانے سے نہ صرف ماحولیاتی تحفظ ممکن ہے بلکہ عوامی صحت میں بھی بہتری آتی ہے۔ ایسے حاالت میں “پائیدار خوراک” کا تصور بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پائیدار خوراک کا مطلب ہے ایسی خوراک جوقدرتی وسائل کو نقصان پہنچائے بغیر اگائی جائے اور جو ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دے۔ ہمیں اپنی خوراک میں مقامی، موسمی، نباتاتی اور قدرتی اجزا کو ترجیح دینی چاہیے۔ ایک تحقیق سے پتا چلا کہ پاکستان میں 60% شہری صارفین موسمیاتی تبدیلی سے آگاہ ہیں مگر صرف 22% صارفین پائیدار خوراک کے تصور سے واقف ہیں۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ پودوں پر مبنی خوراک جیسے دالیں، سبزیاں، پھل اور اناج کا استعمال ماحول کے لیے بہتر ہے۔ ورلڈ ریسورسز انسٹیٹیوٹ کے مطابق گوشت اور ڈیری مصنوعات کی پیداوار سے عالمی سطح پر گرین ہائوس گیسز کے اخراج میں 5.14 فیصد حصہ آتا ہے۔ اگر ہم گوشت کے استعمال میں کمی کریں تو کاربن فٹ پرنٹ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ عالمی ادارہ برائے تحفظ قدرت کے مطالعے کے مطابق اگر پاکستانی شہری صرف ہفتے میں دو دن گوشت کا تقریبا اتنی مقدار ہے جتنی استعمال ترک کریں تو سالانہ 5ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی ممکن ہے۔ جو پاکستان کی تمام نجی گاڑیاں ایک سال میں خارج کرتی ہیں۔ یہ تبدیلی صرف ماحول دوست ہی نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ ان کی تیاری اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ مقامی سطح پر اگنے والی موسمی غذائیں نہ صرف کم خرچ ہوتی ہیں بلکہ نقل و حمل کے دوران ایندھن اور توانائی کا استعمال بھی کم ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے آلودگی میں کمی آتی ہے۔ ہمیںچاہیے کہ ہم مارکیٹ میں دستیاب قدرتی، موسمی اور مقامی غذائوں کی طرف رجوع کریں اور درآمد شدہ یا غیر ضروری طور پر پروسیسڈ اشیا کی بجائے سادہ غذا کو اپنائیں، گلگت بلتستان اور ہنزہ جیسے علاقوں میں مقامی اور سادہ خوراک کا استعمال آج بھی عام ہے۔ جیسے خشک خوبانیاں دالیں، جو اور مقامی سبزیاں۔ یہ غذائیت سے بھرپور ہیں اور ان کہ تیاری میں ماحول پر کم دبائو پڑتا ہے۔ عالمی فطرت فنڈ کے ایک منصوبے “ری تھنک یور پلیٹ” کے تحت کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں نوجوانوں کو سکھایا گیا کہ وہ اپنی روزمرہ خوراک کو ماحول کے لحاظ سے زیادہ موثر کیسے بنا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ پالیسی بنانے پر اقدامات کرے۔ جیسے کہ ماحول دوست زرعی تکنیک کو فروغ دینا، کسانوں کو ماحولیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ تربیت فراہم کرنا اور ایسے پروگرامز کا آغاز کرنا جو پائیدار خوراک کے استعمال کو عام کریں۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور معاشرتی تنظیمیں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے ہمیں کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی لانا ہو گی۔ اسکولوں، کالجز اور میڈیا کے ذریعے عوام میں آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ یہ سمجھ سکیں کہ ان کے روزمرہ کے کھانے کا انتخاب ماحولیاتی تبدیلی پر کتنا اثر ڈال سکتا ہے۔ کالئمیٹ چینج کونسل آف پاکستان کی حالیہ قومی مشاورت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پائیدار خوراک کو قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے تاکہ صحت مند معاشرہ اور ماحولیاتی توازن قائم رکھا جا سکے۔ اگر ہم سب مل کر صحیح خوراک کا انتخاب کریں تو نہ صرف اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے زمین کو محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں۔ یاد رکھیں! موسمیاتی تبدیلی ایک ماحولیاتی ہی نہیں بلکہ یہ خوراک، صحت، معیشت اور مستقبل کا مسئلہ ہے۔ ہمیں اپنی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی عادات میں تبدیلی لا کر ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھنی ہو گی۔ یہ تبدیلی ایک ہی دن میں نہیں آئے گی لیکن اگر ہم سب مل کر قدم اٹھائیں تو یہ سفر آسان اور نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں