19

گھی یا ویجیٹیبل آئل؟ پاکستانی گھرانوں کی غذائی جنگ

اگر آپ نے کبھی پاکستانی گھرانے کے باورچی خانے میں قدم رکھا ہو تو ایک مخصوص خوشبو اور ذائقے کا احساس عموماً دیسی گھی کی ہوتی ہے جو صدیوں سے ہمار ی ثقافت، خوراک اور خاندانی آپ کو گھیر لیتا ہے۔ یہ خوشبو روایات کا حصہ رہا ہے۔ لیکن گزشتہ چند دہائیوں سے ایک نئی اصطالح ویجیٹی بل آئل نے نہ صرف بازاروں میں جگہ بنائی ہے بلکہ گھر یلو پکوان میں بھی اپنی شناخت قائم کی ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسالم آباد کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 63فیصد دیہی پاکستانی گھرانے آج بھی روزمرہ کھانوں میں گھی کا استعمال ترجیح ی بنیادوں پر کرتے ہیں جب کہ شہر ی عالقوں میں 58فیصد افراد ویجیٹیبل آئل کو بہتر سمجھتے ہیں۔ روایتی طور پر پاکستان کے دیہی عالقوں میں دیسی گھی کا استعمال عام رہا ہے۔ بڑے بوڑھے، بچوں کی نشوونما، خواتین کی زچگی کے بعد کی غذا ئیت اور سردیوں کے موسم میں جسم کو طاقتور بنانے کیلئے گھی کو ضرور ی سمجھتے ہیں۔ گھروں میں مکھن سے بنایا جانیوالا دیسی گھی خالص اور بغیر کسی کیمیکل کے ہوتا ہے جسے قدرتی غذا تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم شہر ی عالقوں میں جہاں بازار سے گھی خر یدا جاتا ہے وہاں اس کی خالصیت اور معیار پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ دیسی گھی کو روائتی طور پر گاے یا بھینس کے دودھ سے حاصل کیا جاتا ہے جو کہ وٹامنز اور فیٹی ایسڈ کا بھرپور ذر یعہ ہے ۔ اس میں 62 سے 65 فیصد س یچور یٹڈ فیٹس ، وٹامن اے، ڈی، ای، کے، کنجیو گیٹڈ لینولیک ایسڈ اور بٹیرک ایسڈ پایا جاتا ہے۔ دیسی گھی قوت مدافعت میں اضافہ، دماغی افعال میں بہتر ی اور ہارمونل توازن میں مدد کرتا ہے ۔ ایک بین القوامی تحقیقی جر یدے “امر یکن جرنل آف کلینیکل نیوٹر یشن” میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق س ی ر شدہ چکنائی )جو کہ گھی میں ز یادہ پائی جاتی ہے( کا معتدل استعمال دل کی بیمار یوں کیلئے اتنا خطرناک نہیں جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا۔ اس تحقیق کیمطابق اگر س یر شدہ چکنائی خالص ہو اور متوازن غذا کے ساتھ استعمال کی جائے تو یہ جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے اور قوت مدافعت بڑھاتی ہے۔ تاہم اس ی موضوع پر کی گئی ایک اور تحقیق جو “ورلڈ ہیلتھ آرگنائز یشن” یعنی عالمی ادار ہ صحت نے جار ی کی اس میں واضح کیا گیا ہے کہ س یر شدہ چکنائی کی ز یادتی سے دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس ی لیے عالمی ادار ہ صحت تجویز کرتا ہے کہ خوراک میں س ی ر شدہ چکنائی کی مقدار کل توانائی کا دس فیصد سے کم ہونی چاہیے۔ پاکستان میں عمومی طور پر گھی کا استعمال اس حد سے تجاوز کر جاتا ہے جو صحت کیلئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ قابل لغور ہے۔ ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق کے ل ادھر ویجیٹیبل آئل کے حق میں ہونے والی تحقیق بھی مطابق غیر س یر شدہ چکنائی )جو ویجیٹیبل آئل جیسے کینول، سورج مکھی یا سویا بین آئل میں پائی جاتی ہے( دل کیلئے بہتر ہوتی ہے اور یہ خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو متوازن رکھتی ہے۔ پاکستان میں بھی گزشتہ دو دہائیوں میں شہر ی آبادی نے تیز ی سے گھی کو چھوڑ کر ویجیٹیبل آئل کو اختیار کیا ہے۔ لیکن مسئلہ یہاں بھی پیدا ہوتا ہے کہ اکثر تیل کی تیار ی کے دوران کیمیکل استعمال کیے جاتے ہیں یا انہیں بار بار گرم کیا جاتا ہے جس سے یہ نقصان دہ بن جاتے ہیں۔ ایک مقامی پاکستانی تحقیق جو آغا خان یونیورسٹی کراچ ی نے دو ہزار بیس میں کی سا میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ پاکستان میں فروخت ہونے والے تیس فیصد ویجیٹیبل آئل مصنوعات میں وہ ضرور ی چکنائی والے تیزاب موجود نہیں تھے جو انسانی جسم کیلئے ضرور ی ہوتے ہیں اور بعض تیلوں میں ممنوعہ نقصان دہ چکنائی کی مقدار مقررہ حد سے ز یادہ پائی گئی۔ یہ وہ زہر یلے مادے ہیں جو دل، جگر اور اعصابی نظام کیلئے خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ انڈین جرنیل آف کلینیکل نیوٹر یشن کے مطابق وہ افراد جو دن میں 30گرام سے ز یادہ گھی استعمال کرتے ہیں ان میں نقصان دہ کولیسٹرول کی شرح 25 فیصد سے ز یادہ دیکھی گئی ہے۔ ماہر ین غذائیت اس بات پر متفق ہیں کہ روزمرہ کی غذا میں چکنائی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کی مقدار اورنوعیت اہم ہے۔ دیس ی گھی میں اگرچہ کہ غذائی اجزا ہوتے ہیں لیکن اس کے ز یادہ استعمال سے خون کی نالیو ں میںرکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ناقص معیار کا ویجیٹیبل آئل جسم میں زہر یلے مادے داخل کر سکتا ہے۔گھی بمقابلہ آئل کی اس بحث میں ایک اہم عنصر معیشت بھی ہے ۔ خالص دیس ی گھی کی قیمت ویجیٹیبل آئل سے کہیں ز یادہ ہے جس ک ی وجہ سے متوسط طبقے کیلئے اسے روزمرہ کے استعمال میں لنا مشکل ہے۔ یوں اکثر اوقات سستا لیکن ناقص آئل ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ ادھر اشتہارات میں گھی کو ماں کے ہاتھ کا ذائقہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور آئل کو صحت کا محافظ۔ یہ متضاد پیغامات صارفین کو ذہنی الجھن میں مبتال کرتے ہیں۔ مارکیٹنگ کے اس میدان میں جذبات کو اس طرح چھیڑا جاتا ہے کہ صارفین فیصلہ سائنس ی بنیادوں پر نہیں بلکہ اشتہارات کی اپیل پر کرتا ہے ۔ یہ کہنا کہ گھی مکمل طور پر نقصان دہ ہے یا ویجیٹیبل آئل مکمل طور پر فائدہ مند درست نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کے جسم کی ضرور یات، اس کی سرگرمیاں، عمر اور طبی کیفیت کیمطابق غذا کی نوعت طے ہونی چاہیے۔ اگر کس ی کا کولیسٹرول پہلے سے بلند ہے تو گھی سے پرہیز لزم ہے جبکہ ایک نوجوان محنت کش اگر خالص گھی تھوڑ ی مقدار میں استعمال کرے تو یہ اس کیلئے مفید ہو سکتا ہے۔ پاکستانی معاشرے کو ایک ایسے غذائی شعور کی ضرورت ہے جو جذبات، روایت اور سائنس کے درمیان توازن قائم کر سکے۔ حکومت، تعلیمی ادارے اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ معیار ی خوراک، درست لیبلنگ اور صارفین کی آگہی کیلئے مہمات چالئیں تاکہ ہر پاکستانی باشعور طر یقے سے اپنی صحت کے فیصلے کر سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں