15

حکومتی اداروں کی ناکامی کا ہر شعبے پر اثر

پاکستان حالیہ برسوں میں اپنے شہریوں کے ایک بڑے انخلا کا مشاہدہ کر رہا ہے، جو قوم کے لیے ایک سنگین اور تشویشناک مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ قوم کی بہترین صلاحیتوں اور امیدوں کا کھو جانا ہے، جو ملک کی ترقی کی رفتار کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، صرف 2023 میں 0.9ملین سے زائد تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانوں نے ملک چھوڑ دیا، اور گزشتہ دو برسوں میں سالانہ 8لاکھ سے زیادہ پاکستانیوں کا ملک سے باہر جانا، 2021کے مقابلے میں تقریبا تین گنا زیادہ ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر انخلا ملک میں موجود گہری جڑوں والے مسائل اور حکومتی ناکامی کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔نوجوانوں کی یہ ہجرت معاشی عدم استحکام اور مواقع کی شدید کمی کا نتیجہ ہے۔ حکومتی سطح پر طویل مدتی اور پائیدار اقتصادی پالیسیوں کا فقدان رہا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے، اور سرمایہ کاری کا ماحول تباہ ہو چکا ہے۔ ہر سال ہزاروں نوجوان ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور دیگر شعبوں کے گریجویٹس یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، لیکن ملکی مارکیٹ ان کے لیے مناسب اور باعزت روزگار فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ نوجوانوں کو ملک میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے، وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی محنت اور صلاحیتوں کی یہاں کوئی قدر و منزلت نہیں ہے۔ حکومتی اداروں کی ناکامی کا ہر شعبے پر اثر:ملک میں کئی شعبوں میں حکومتی اداروں کی نااہلی اور فرسودہ نظام نے عوام کی امیدیں توڑ دی ہیں۔ تعلیمی شعبہ جو کہ قوم کی معمار ہوتا ہے، خود بے یقینی اور فرسودگی کا شکار ہے۔ حکومتیں تعلیم پر مطلوبہ سرمایہ کاری کرنے میں ناکام رہی ہیں، جس کے باعث تحقیق کا معیار انتہائی پست ہے، اور نصاب جدید بین الاقوامی معیار سے کوسوں دور ہے۔ تعلیم حاصل کرنے پر خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود، نوجوان جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قابلیتیں مقامی صنعت اور ملازمتوں کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ نتیجتاً، بہترین دماغ اعلی تعلیم اور تحقیق کے بہتر مواقع کی تلاش میں بیرون ملک کا رخ کرتے ہیں۔طبی شعبہ بھی برین ڈرین کا سب سے بڑا شکار ہے۔ ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر طبی عملہ بہتر تنخواہوں، جدید سہولیات اور محفوظ پیشہ ورانہ ماحول کی تلاش میں تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں انتظامی بدحالی، وسائل کی کمی اور مریضوں کی کثرت کی وجہ سے پیشہ ورانہ اطمینان کا شدید فقدان ہے۔ ایک ڈاکٹر اپنے کیریئر کے عروج پر ملک کی خدمت کرنے کے بجائے بیرون ملک جا کر آسانی سے بہتر مالی مستقبل اور زندگی کا معیار حاصل کر سکتا ہے۔قانون کی حکمرانی اور میرٹ کے فروغ میں حکومتی ناکامی ایک اور کلیدی عنصر ہے۔ ملک میں سفارش، بدعنوانی اور اقربا پروری کا کلچر اس قدر مضبوط ہے کہ میرٹ پر آنے والے نوجوان مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سرکاری نوکریوں میں شفافیت کا فقدان اور انصاف کی سست روی لوگوں کا قانونی نظام پر سے اعتماد ختم کر دیتی ہے۔ جب ایک باصلاحیت نوجوان کو اپنی محنت پر نتیجہ اور مقام ملتا نظر نہیں آتا تو وہ اپنے مستقبل کی ضمانت کے لیے دوسرے ممالک کے شفاف نظام کو ترجیح دیتا ہے۔ حکومتوں کی سب سے بڑی ناکامی کرپشن اور ناقص حکمرانی (Bad Governance) پر قابو نہ پانا ہے۔ ہر شعبے میں بدعنوانی نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔ اس ماحول میں، نوجوان دیکھتے ہیں کہ صداقت اور محنت سے کامیابی حاصل کرنا مشکل ہے، جبکہ سفارش اور پیسہ ہی کامیابی کی کنجی ہیں۔ یہ صورتحال ایک ذہنی دبا اور بے چینی کو جنم دیتی ہے، جو نوجوانوں کو اپنی قابلیت اور کردار کے مطابق ایک صاف ستھری اور محفوظ زندگی کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔برین ڈرین کے تباہ کن نتائج اور حل:برین ڈرین ایک ایسا زہر ہے جو قوم کے جسم کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ ملک اپنی انتہائی ہنر مند افرادی قوت کو کھو رہا ہے جو جدت، تحقیق اور اقتصادی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ صلاحیتیں اب بیرون ملک کی معیشتوں کو مضبوط کر رہی ہیں۔ تعلیم یافتہ طبقے کا انخلا ملک کے سماجی اور ثقافتی تسلسل کو بھی متاثر کرتا ہے، اور ایک ایسے تخلیقی اور باشعور طبقے کا خلا پیدا ہو جاتا ہے جو قوم کی سیاسی اور سماجی شعور کی آبیاری کر سکے۔ والدین اپنے بچوں کی تعلیم پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں، لیکن جب وہ ہنر مند بن کر بیرون ملک چلے جاتے ہیں، تو اس سرمائے کا فائدہ دوسرے ممالک اٹھاتے ہیں۔اس تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کو سنجیدہ اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔ سرکاری اور نجی دونوں سطح پر تحقیق اور ترقی (R&D) پر بھاری سرمایہ کاری کی جائے، اور نصاب کو عالمی مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ میرٹ کی مکمل بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور ہر شعبے میں شفافیت لائی جائے تاکہ نوجوانوں میں یہ یقین پیدا ہو کہ ان کی محنت اور قابلیت کو تسلیم کیا جائے گا۔ نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، انٹرپرینیور شپ کی حوصلہ افزائی کی جائے اور معاشی استحکام کو اولین ترجیح دی جائے۔ بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں اور گڈ گورننس کو فروغ دیا جائے تاکہ ملک کا نظام انصاف اور برابری کی بنیاد پر چلے۔ ان اقدامات کے بغیر، ملک کا مستقبل کا سرمایہ یوں ہی ضائع ہوتا رہے گا، اور ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا خطرہ مستقل منڈلاتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں