18

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے تربوز کے بیج کی افادیت

ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جو نہ صرف دنیا بھر میں بلکہ پاکستان میں بھی پہلے نمبر پر ہے۔ جدید طر ز زندگی، غیر متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی کی کمی اور ذہنی دبائو جیسے عوامل اس بیماری کے پھیلنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس بیماری میں مبتال افراد کو اپنی غذا کے انتخاب میں بہت زیادہ احتیاط برتنی پڑتی ہے کیونکہ معمولی غلطی بھی خون میں گلوکوز کی سطح کو خطرناک حد تک بڑھا سکتی ہے۔ ایسے میں قدرتی اجزا پر مشتمل غذا ایک موثر ذریعہ بن سکتی ہے جس سے نہ صرف شوگر لیول متوازن رکھا جا سکتا ہے عموماً بے کار سمجھ کر پھینک دیے بلکہ مجموعی صحت میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے۔ تربوز کے بیج جو جاتے ہیں، درحقیقت ذیابیطس کے مخصوص مریضوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ہیں۔ تربوز کے بیج بظاہر چھوٹے اور معمولی نظر آتے ہیں لیکن غذائیت کے اعتبار سے یہ بے پناہ فوائد کے حامل ہوتے ہیں۔ ان بیجوں میں وافر مقدار میں پروٹین، فائبر، زنک، میگنیشیئم، آئرن، پوٹاشیئم اور صحت بخش چکنائی موجود ہوتی ہے۔ یہ تمام اجزا جسم میں قوت مدافعت کو مضبوط بنانے، توانائی فراہم کرنے اور مختلف نظاموں کے افعال کو درست رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ خاص طور پر میگنیشیئم ایک ایسا منرل ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ انسولین کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور گلوکوز کے جذب کو منظم کرتا ہے۔ تربوز کے بیجوں میں موجود میگنیشیئم خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے انہیں ایسی غذا کا استعمال کرنا ہے- ذیابیطس کے مریضوں کو دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی الحق ہوتا چاہیے جو صحت کے لیے فائدہ مند ہو۔ تربوز کے بیجوں میں موجود غیر سیر شدہ چکنائی، اومیگا-6 فیٹی ایسڈ اور اینٹی آکسیڈنٹس دل کو توانا رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ اجزا خراب کولیسٹرول کو کم کرتے ہیں اور خون کی شریانوں کو نرم رکھتے ہیں، جس سے ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ نظا م ہضم کو بہتر کرتا ہے اور آنتوں کی صفائی میں ازیں ان بیجوں میں فائبر بھی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو مدد دیتا ہے۔ جب نظا م ہضم درست کام کرتا ہے تو گلوکوز آہستہ آہستہ خون میں جذب ہوتا ہے جس سے بلڈ شوگر میں اچانک اضافہ نہیں ہوتا۔ ڈیٹا برج مارکیٹ ریسرچ کے مطابق، تربوز کی مارکیٹ 2021 میں 18.1 بلین ڈالر تھی اور توقع ہے کہ یہ جس کی کمپانڈ اینول گروتھ ریٹ 40.10% ہوگی۔ 60.2بلین ڈالر تک پہنچ جائے 2029 علاوہ سال 2023میں تربوز کے بیجوں کی عالمی منڈی کی مالیت تقریباً 3بلین امریکی ڈالر رہی، جبکہ اندازہ ہے کہ 2033تک یہ بڑھ کر 78.7بلین امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ تربوز کے بیج میں موجود آئرن خون کے خلیات کو آکسیجن فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے جو کہ ذیابیطس کے مریضوں میں اکثر کم ہو جاتا ہے۔ اس کے عالوہ زنک جسم میں انسولین کی تیاری اور استعمال میں کردار ادا کرتا ہے۔ تربوز کے بیج نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی معاون ہیں۔ ان میں پائے جانے والے میگنیشیئم اور زنک جیسے منرلز دماغی افعال کو بہتر بناتے ہیں، نیند میں بہتری لاتے عموماً نیند کی کمی اور ذہنی تنا کا شکار رہتے ہیں، ہیں اور ذہنی دبا کو کم کرتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریض ایسے میں یہ بیج ان کے لیے ایک قدرتی حل ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان بیجوں کا استعمال نہایت آسان ہے۔ انہیں دھو کر دھوپ میں خشک کریں اور ہلکی آنچ پر بھون لیں تاکہ ان کا ذائقہ بہتر ہو جائے۔ روزانہ ایک سے دو چمچ بیجوں کو ناشتے میں یا دوپہر کی چائے کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا پاڈر بنا کر دہی یا اسموتھی میں شامل کرنا بھی ایک اچھا انتخاب ہے۔ اگرچہ یہ بیج مکمل طور پر قدرتی ہیں، تاہم کسی بھی نئی غذا کو باقاعدہ طور پر خوراک میں شامل کرنے سے قبل معالج یا ماہر غذائیت سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے، خاص طور پر اگر مریض دیگر ادویات کا استعمال بھی کر رہا ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قدرت کے ان انمول تحفوں کی اہمیت کو پہچانیں اور انہیں اپنی خوراک کا مستقل حصہ بنائیں تاکہ ہم صحت مند، متحرک اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔ موجودہ دور میں جہاں ہر دوسرا فرد فاسٹ فوڈ اور بازاری کھانوں کی طرف مائل ہو چکا ہے، وہاں قدرتی اشیا کو ترک کرنا معمول بن چکا ہے۔ ہم ایسی بے شمار غذاں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو صحت کے لیے خزانے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تربوز کے بیج بھی انہی نعمتوں میں شامل ہیں۔ بدقسمتی سے عوام الناس میں ان بیجوں کے فوائد سے متعلق آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ عام طور پر لوگ تربوز کھانے کے بعد بیجوں کو کچرے میں پھینک دیتے ہیں، حالانکہ اگر ان بیجوں کو محفوظ کیا جائے اور روزمرہ خوراک میں شامل کیا جائے تو نہ صرف شوگر کنٹرول میں رہ سکتی ہے بلکہ کئی اور امراض سے بھی بچا ممکن ہو سکتا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ تربوز کے بیجوں میں ایسے قدرتی اجزا موجود ہوتے ہیں جو ذیابیطس سمیت دیگر دائمی امراض پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق، ان بیجوں میں موجود لیسین، آرگینائن اور ٹرپٹوفین جیسے امینو ایسڈز جسم میں انسولین کی حساسیت بڑھاتے ہیں اور گلوکوز کے میٹابولزم کو بہتر بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں موجود فری ریڈیکلز کو ختم کرتے ہیں جو کہ خلیاتی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ یہ خصوصیت ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے کیونکہ ان کے جسم میں سوزش اور آکسیڈیٹیو اسٹریس کی سطح بلند ہوتی ہے۔ دیہی عالقوں میں تو لوگ اکثر قدرتی جڑی بوٹیوں اور بیجوں کا استعمال کرتے رہتے ہیں، لیکن شہری عالقوں میں اس عمل میں کمی آ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسی قدرتی اور سستی غذائوں کے فوائد پر عوام میں شعور اجاگر کریں تاکہ ہماری آئندہ نسلیں مہنگی دواں پر انحصار کرنے کے بجائے قدرتی علاج کی طرف مائل ہوں۔ ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ تربوز کے بیج صرف ذیابیطس ہی نہیں بلکہ ہڈیوں کی مضبوطی، جلد کی بہتری اور بالوں کی افزائش میں بھی مدد دیتے ہیں۔ ان میں پائے جانیوالا پروٹین اور زنک جلد کو شفاف اور بالوں کو گھنے رکھنے میں موثر ثابت ہوتا ہے۔ تربوز کے بیجوں سے ایک قسم کا تیل بھی نکالا جاتا ہے جو مختلف جلدی مسائل کے عالج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں یہ رجحان ابھی نیا ہے، لیکن دیگر ممالک جیسے چین، بھارت اور افریقی ریاستوں میں تربوز کے بیجوں کا استعمال روایتی اور جدید دونوں طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اگر اس جانب توجہ دی جائے تو نہ صرف یہ ایک غذائی انقالب بن سکتا ہے بلکہ دیہی معیشت میں بہتری کا بھی باعث بن سکتا ہے۔ آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر دوا یا غذا کا فائدہ تبھی ممکن ہے جب اس کا استعمال متوازن انداز میں اور تسلسل کیساتھ کیا جائے۔ تربوز کے بیج قدرت کا وہ عطیہ ہیں جنہیں صرف سمجھ بوجھ اور آگاہی کی ضرورت ہے۔ اگر ذیابیطس کے مریض انہیں اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں اور مجموعی طر ز زندگی کو بہتر کریں تو وہ نہ صرف اپنی شوگر کو قابو میں رکھ سکتے ہیں بلکہ صحت مند زندگی کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں