47

زمینوں’ پراپرٹیز پر قبضے کے خلاف نیا قانون نافذ (اداریہ)

پنجاب حکومت نے زمینوں اور جائیدادوں کے حقیقی مالکان کے حقوق کے تحفظ اور ناجائز قبضوں کے خاتمے کیلئے پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ اموریبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 نافذ کر دیا گیا ہے گورنر نے آرڈی نینس پر دستخط کر دیئے جو فوری طور پر پورے صوبے میں نافذ العمل ہو گیا ہے نئے قانون کا مقصد زمینوں پر غیر قانونی قبضے دھوکا دہی اور زبردستی کی روک تھام اور ملکیتی تنازعات کے فوری حل کو ممکن بتانا ہے آرڈی نینس کے تحت کسی بھی غیر منقولہ جائیداد پر بلااجازت یا دھوکہ دہی کے ذریعے قبضہ سنگین جرم قرار دیا گیا ہے جس پر کم ازکم 5سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا دی جا سکے گی معاونت یا سازش کرنے والوں کو ایک سال سے 3 سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے کمپنیوں اور سوسائٹیوں کے سربراہان بھی جوابدہ ہوں گے جب تک وہ اپنی لاعلمی یا احتیاط ثابت نہ کر سکیں، آرڈی نینس کے مطابق ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ ڈسپوزٹ ریزویشن کمیٹی (ڈی آر سی) تشکیل دی جائے گی جس کی سربراہی ڈپٹی کمشنر کرے گا جبکہ ڈی پی او ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو’ اسسٹنٹ کمشنر’ ایس ڈی پی او اور ایک سرکاری نامزد افسر اس کے رکن ہوں گے کمیٹی کو سول عدالت جسے اختیارات حاصل ہوں گے تاکہ وہ ریکارڈ طلب کر سکے، گواہ بلائے اور جائز مالک کا تحفظ یقینی بنائے کمیٹی کو ہر شکایت 90روز کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے جسے صرف ایک بار 90دن کے لیے بڑھایا جا سکے گا اگر فریقین میں مصالحت نہ ہو تو کیس ضلع سطح پر قائم ہونے والے پراپرٹی ٹربیونل کو بھیجا جائے گا پراپرٹی ٹربیونلز کی سربراہی لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج یا ڈسٹرکٹ جج کریں گے جنہیں لاہور ہائی کورٹ کی سفارش پر 3سال کے لیے تعینات کیا جائے ٹربیونلز کو ملکیت’ قبضہ اور فوجداری نوعیت کے تمام مقدمات سننے کا خصوصی اختیار ہو گا ہر مقدمہ روزانہ کی بنیاد پر چلایا جائے گا 90روز میں فیصلہ دینا لازمی ہو گا ٹربیونلز ناجائز قابضین سے جائیداد کی واپسی’ گرفتاری کے احکامات اور مارکیٹ ویلیو کے برابر یا زیادہ معاوضے کی ادائیگی کا حکم دے سکتا ہے فیصلے کے خلاف صرف دو رکنی بنچ لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کی جا سکے گی جھوٹی یا بدنیتی پر مبنی درخواست دینے والے کو پانچ سال قید اور پراپرٹی کی کل مالیت کے 25فی صد تک جرمانہ کیا جا سکے گا مزیدبرآں، کسی مقدمے کے دوران جائیداد کی فروخت’ لیز یا رہن کی منتقلی کو کالعدم قرار دیا گیا ہے اگر کسی مالک کو ناجائز قبضے کا خطرہ ہو تو وہ ڈپٹی کمشنر کے پاس حفاظتی درخواست دے سکتا ہے ڈی آر سی عارضی احکامات جاری کر سکتی ہے یا ضمانتیں طلب کر سکتی ہے تاکہ جرم کے امکان کو روکا جا سکے پنجاب حکومت ہر ٹربیونلز کے لیے عملہ اور دفاتر فراہم کرے گی جبکہ پبلک پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ سے سرکاری وکلاء تعینات کئے جائیں گے قانون کے تحت نیک نیتی سے کارروائی کرنے والے سرکاری افسران کو تحفظ حاصل ہو گا،، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت صوبہ میں امن وامان شہریوں کے تحفظ کیلئے اہم قوانین کیلئے سنجیدہ ہیں صوبہ میں قبضہ مافیا کے گرد سخت ہاتھ ڈالنے کیلئے قانون نافذ کر دیا گیا ہے وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اب کوئی کسی کی زمین نہیں چھینے گا یہ باب ہمیشہ کیلئے بند کر دیا ہے عوام کی ملکیت ہتھیانے والوں کے خلاف نئے قانون کے تحت کارروائی ہو گی بلاشبہ نیا قانون اراضی اور پراپرٹیز مالکان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گا قبل ازیں صوبہ میں کمزور افراد اور اوورسیز پاکستانیوں جو کہ پاکستان سے اکثر باہر رہتے ہیں کی پاکستان میں موجود جائیدادوں پر محکمہ مال کے ذمہ داران کی ملی بھگت سے ناجائز قبضے کئے جاتے رہے ہیں اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے اوورسیز کی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے تھے مگر بااثر افراد اپنے اثرورسوخ سے خود کو کسی بھی گرفت سے بچائے رکھتے تھے پنجاب میں ناجائز قبضہ مافیا نے اپنے گہرے پنجے گاڑ رکھے تھے پنجاب حکومت کی طرف سے نئے قانون کے بعد اب قبضہ مافیا کا کسی کی بھی جائیداد پر قابض ہونا ناممکن ہو گا۔ قانون کے مطابق 90روز میں کیس کا فیصلہ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے جس سے امید بندھ چلی ہے کہ ایسے کیسز زیادہ عرصہ تک لٹک نہیں سکیں گے اور انصاف جلد ہوتا نظر آئے گا بلاشبہ وزیراعلیٰ نے یہ قانون نافذ کرا کے کمزوروں اور اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں کا نہ صرف تحفظ کیا ہے بلکہ قبضہ مافیا کے آگے ایک ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے جو پار کرنی انتہائی دشوار ہو گی، عرصہ دراز سے ایسے قانون کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی اب جبکہ قانون نافذ ہو گیا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر من وعن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں