ضمنی الیکشن،3حلقوں میں لیگی امیدواروں کو مشکلات کا سامنا

فیصل آباد (وقائع نگار خصوصی) ماہ نومبر کے آغاز کے ساتھ ہی ضمنی الیکشن کے حوالے سے انتخابی سرگرمیاں زور پکڑ چکی ہیں۔ فیصل آباد کے قومی اسمبلی کے 2 اور صوبائی اسمبلی کے 3 حلقوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدواروں کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے تاہم پی پی116′ این اے96 اور این اے104 میں آزاد امیدواروں کی پوزیشن بھی کافی مضبوط نظر آ رہی ہے۔ پی پی115 میں رانا برادران کے انتخابی معرکے سے آئوٹ ہونے پر میاں طاہر جمیل کیلئے الیکشن تقریباً تقریباً ون سائیڈڈ ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود میاں طاہر جمیل انتخابی نشان ”شیر” کے ساتھ میدان میں موجود ہیں اور سابق وفاقی وزیر چوہدری عابد شیر علی اپنے انتہائی قریبی دوست میاں طاہر جمیل کی انتخابی مہم میں پیش پیش ہیں۔ اس حلقہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے محمد اصغر ملک آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں لیکن ان کی پوزیشن کافی کمزور ہے۔ پی پی116 میں 8امیدوار میدان میں موجود ہیں جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا احمد شہریار خاں سرفہرست ہیں تاہم سابق ایم پی اے ملک اصغر علی قیصر ایڈووکیٹ کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت رانا احمد شہریار کیلئے درد سر بنتی جا رہی ہے۔ سابق ناظم خواجہ اسد منا بھی رانا احمد شہریار کے راستے کی دیوار بنے بیٹھے ہیں۔ عوامی سروے کے مطابق پی پی116 میں اگر حکومتی مداخلت نہ ہوئی تو سابق ایم پی اے ملک اصغر علی قیصر ایڈووکیٹ سرپرائز دے سکتے ہیں۔ پی پی98چک جھمرہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار آزاد علی تبسم کو باقی تمام امیدواروں پر واضح برتری حاصل ہے۔ تاہم سابق صوبائی وزیر چوہدری اجمل چیمہ کی انتخابی مہم بھی زوروشور سے جاری ہے۔ این اے96 جڑانوالہ میں 24 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں سینیٹر طلال چوہدری کے بھائی بلال بدر چوہدری مسلم لیگ (ن) کے انتخابی نشان ”شیر” کے ساتھ انتخابی مہم چلا رہے ہیں تاہم اس حلقہ میں سابق ایم این اے ملک نواب شیر وسیر کا اثرورسوخ اور عوامی مقبولیت اچھا خاصا پریشان کر رہا ہے۔ این اے104 فیصل آباد میں اگرچہ سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض احمد اپنے بیٹے راجہ دانیال کو مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ دلوانے میں کامیاب ہو گئے ہیں تاہم انہیں حلقہ میں بہت ساری عوامی مزاحمت کا سامنا ہے۔ مسلم لیگی کارکنوں کی بہت بڑی تعداد بھی ناراض ہے، اس حلقہ میں باقی 12امیدواروں میں سابق ایم پی اے شکیل شاہد سب سے مضبوط ترین امیدوار ہیں، جن کے والد محترم سابق میئر فیصل آباد ریاض شاہد 2002ء کے الیکشن میں اسی حلقہ کے ذیلی حلقہ سے ایم پی اے منتخب ہوئے تھے اور ان کا اس حلقہ میں اچھا خاصا ووٹ بنک موجود ہے۔ جس کے بعد 2018ء کے الیکشن میں ریاض شاہد کے صاحبزادے شکیل شاہد اس حلقہ سے ایم پی اے منتخب ہوئے اور انہوں نے ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے اس وجہ سے ان کا بھی اچھا خاصا ووٹ بنک بھی راجہ دانیال کی راہ میں رکاوٹ بنا نظر آ رہا ہے۔ اگر ”مداخلت” نہ ہوئی تو شکیل شاہد الیکشن جیت بھی سکتے ہیں اور راجہ دانیال کو مسلسل دوسری بار شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان پانچوں حلقوں میں 23نومبر کو ہونیوالی پولنگ کیلئے انتظامات کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ووٹرز کا جوش وخروش بھی بڑھ رہا ہے اور امیدواروں نے انتخابی مہم بھی تیز کر دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں