ملک پور فیکٹری دھماکہ،علاقے کی فضا سوگوار،مرحومین کی نماز جنازہ ادا

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) تھانہ منصور آباد کے علاقہ ملک پورشہاب ٹائون کبڈی سٹیڈیم کے قریب کیمیکل بنانے والی فیکٹری میں گیس لیکج کے باعث دھماکہ اور آگ لگنے سے جاں بحق ہونے والے20 افراد کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ جنازے اٹھنے سے علاقہ میں کہرام مچ گیا۔ ہر آنکھ اشکبار ، سوگ کی فضا برقرار، وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شیرف کا المناک حادثہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس،قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس، واقع کی رپورٹ طلب کر لی۔ آج جو صبح صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت منشاء اللہ بٹ نے جائے وقوعہ کا دورہ، سوگوار خاندان سے اظہار تعزیت جبکہ الائیڈ ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ سے زخمیوں کے علاج مالجہ کرنے کے احکامات جاری کر کئے، کمشنر فیصل آباد راجہ جہانگیر انور نے10رکنی کمیٹی قائم کر کے حادثہ کی وجوہات کا جائزہ لیکر رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کر دیئے، تھانہ منصور آباد پولیس نے فیکٹری مالک قیصر چغتائی، مینیجر بلال علی عمران اور ان کے 5ساتھیوں کیخلاف قتل، اقدام قتل ،7ATAسمیت9دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے فیکٹری مالک کو گرفتار کر لیا،تفصیل کے مطابق گذشتہ روز علی الصبح ملک پور کے قریب صمد بانڈ بنانے والی کرسٹل فیکٹری میں گیس لیکج کے باعث زور دار دھماکہ سے علاقہ لرز اٹھا۔ دھماکہ کے بعد فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی، دھماکہ اتنا شدید تھا کہ قریبی گھروں کی چھتیں گر گئیںاورکمروں میں سوئے تین خاندانوں کے 12افراد سمیت مجموعی طور پر20مرد خواتین اور بچے جاں بحق ہو گئے۔ دھماکہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو1122ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔اور اہل محلہ سے مل کر ملبے تلے سے زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کی نعشوں کو باہر نکالا۔ جاں بحق ہونے والوں میں شفیق ولد نذیر احمد اس کی اہلیہ منصوراں بی بی اور بیٹا عرفان ولد شفیق، ریاست علی کی اہلیہ فاخرہ بی بی،تین بیٹیاںاور ایک بیٹا ایمان فاطمہ،3سالہ سالہ بیٹی جنت، 2سالہ ماہم اور ایک سالہ علی حسنین بھی زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ50سالہ عاشق حسین ولد سلیم اس کے تین بیٹے 28سالہ بیٹا بلال ولد عاشق،24سالہ محمد عمر ولد عاشق اور22سالہ عبید ولد عاشق حادثہ میں زندگی کی بازی ہار گیا۔ دو بھائی احمد ولد عبدالرحمن اور اذان ولد عبدالرحمن،بہن بھائی مقدس دختر عرفان اور ریحان ولد عرفان اور دو بھائی صائم علی ولد غلام عباس، وقاص اور غلام عباس کے علاوہ فرخ ولد نامعلوم اور ایک 20سالہ نامعلوم زندگی کی بازی ہار گئے۔ جبکہ زخموں میں رفعت علی زوجہ عرفان، یونس ولد منشی، احسن ولد ارشد، ندیم ولد عبدالغفور، اشرف ولد اکرام، معظم ولد اعظم، لیاقت ولد اقبال کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا۔ حادثہ کی اطلاتے ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں پولیس کے اعلی افسران، کمشنر راجہ جہانگیر انور ، ڈپٹی کمشنر کیپٹن(ر) ندیم ناصر سمیت اعلی افسران موقع پر پہنچ گئے۔ اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کی۔ دھماکہ کے بعد علاقہ میں قیامت کے مناظر تھے ہر طرف چیخ و پکار اور ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔ تاہم جاں بحق ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد قریبی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں سیاستدانوں، ضلعی انتظامیہ سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔20افراد کے جاں بحق ہونے پر شہر بھر میں سوگ کی فضا برقرار تاہم منصور آباد پولیس نے سب انسپکٹر احتشام عباس کی مدعیت میں کرسٹل فیکٹری کے مالک قیصر چغتائی مینیجر بلال علی عمران اور 5نامعلوم ملزمان کیخلاف ایکسپلوز و ایکٹ7ATA، قتل،اقدام قتل،سمیت9دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے فیکٹری مالکان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ خطرناک کیمیکل و آتش گیر مادہ سٹاک و استعمال کرنے سے ملحقہ آبادیوں کے لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے کہ علاقہ نے متعدد بار شکایات کیں کہ خطرناک کیمیکل و آتش گیر مادہ کی وجہ سے جانی و مالی کے شدید خطرات لاحق ہیں اور کسی بھی وقت کسی بڑے حادثہ کا سبب بن سکتا ہے کہ دھماکہ سے20افراد جاں بحق اور7شدید زخمی ہو گئے۔تاہم علاقہ میں خوف و ہراس و سوگ کی فضا برقرار، بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ کرسٹل فیکٹری کے علاوہ تین فیکٹریوںمیں گلو، سیلیکون اور ایمبرائیڈری کا کام کیا جاتا تھا کی فیکٹریاں شامل ہے جبکہ کرسٹل فیکٹری میں مختلف کیمیکلز سے صمد بانڈ تیار کیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں