جے یو آئی (ف) کے ایم این اے سمیع اللہ کی کامیابی کالعدم

پشاور (بیوروچیف) الیکشن ٹربیونل نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ کی جانب سے این اے251کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست منظور کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سید سمیع اللہ کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد عامر نواز رانا کی سربراہی میں قائم ٹربیونل نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو ہدایت کی کہ سید سمیع اللہ کی کامیابی کا نوٹیفکیشن منسوخ کیا جائے اور حلقے کے 22 متنازع پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔اپنی درخواست میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ خوشحال کاکڑ نے این اے-251 (ژوب/قلعہ سیف اللہ/شرانی) میں عام انتخابات 2024کے دوران سنگین بے ضابطگیوں اور جعلی ووٹوں کا الزام لگایا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ جے یو آئی (ف) کے امیدوار کو ڈی سیٹ کیا جائے اور انہیں کامیاب امیدوار قرار دیا جائے۔ کیس کی سماعت کے بعد ٹربیونل نے اس کے بجائے 22متنازع پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا۔ایک بیان میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناقابلِ تردید شواہد، تمام پولنگ اسٹیشنوں کے تصدیق شدہ ریکارڈ اور خوشحال کاکڑ کی کامیابی کے واضح ثبوت پیش کیے جانے کے باوجود دوبارہ پولنگ کا حکم سمجھ سے بالاتر ہے۔پارٹی نے کہا کہ اسے توقع تھی کہ ٹربیونل خوشحال کاکڑ کی کامیابی برقرار رکھے گا، کیوں کہ ای سی پی پہلے ہی اپنی ویب سائٹ پر باضابطہ کارروائیوں کے دوران اور ایک خصوصی تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے ان کی واضح برتری تسلیم کر چکا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹربیونل نے پہلے خوشحال کاکڑ کو کامیاب قرار دیا تھا اور مخالف فریق کو مطمئن کرنے کے لیے صرف 22پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا۔اس دوبارہ گنتی نے ایک بار پھر خوشحال کاکڑ کی 4ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری کی تصدیق کی، اور یہ نتیجہ ریٹرننگ افسر نے باقاعدہ طور پر جمع بھی کرا دیا تھا، مزید کہا گیا کہ پولنگ ایجنٹس اور پریزائیڈنگ افسران نے بھی ان کے حق میں گواہی دی، جب کہ ای سی پی نے مکمل ریکارڈ پیش کیا جو ان کے دعوے کی تائید کرتا تھا۔پارٹی نے دوبارہ پولنگ کے حکم کو مایوس کن اور انتخابی انصاف کے منافی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 8فروری کے انتخابات کے بعد خوشحال کاکڑ کی 20ہزار سے زائد ووٹوں کی اصل برتری کو غیرقانونی طور پر تبدیل کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں