الٹرا پراسیس غذاؤں سے دائمی امراض کا خطرہ

کراچی ( بیو رو چیف ) ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال سے ذیابیطس ٹائپ 2، امراض قلب، ڈپریشن، الزائمر امراض اور کینسر سمیت کم از کم 12 دائمی امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔جرنل دی لانسیٹ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں الٹرا پراسیس فوڈز کے استعمال کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران متعدد بار پراسیس کی جاتی ہیں اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ صحت کے لیے مفید غذائی اجزا جیسے فائبر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔اس تحقیق میں متعدد تحقیقی رپورٹس، تجزیوں اور دیگر ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی اور ان شواہد کے بارے میں بتایا گیا جن سے الٹرا پراسیس غذاں کے استعمال اور 12 بڑے طبی مسائل کے خطرے کے درمیان تعلق کا عندیہ ملتا ہے۔محققین نے بتایا کہ دنیا بھر میں ان غذاں کا استعمال بڑھ گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ غذائی عادات میں اس تبدیلی سے امراض کا پھیلا بھی بڑھا ہے۔اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ان غذاں کے استعمال سے توند نکلنے، گردوں کے دائمی امراض، امراض قلب، شریانوں کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول، جگر کے امراض، موٹاپے، ذیابیطس ٹائپ 2، ڈپریشن اور carebrovascular امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔یہ غذائیں سستی اور ذائقے میں اچھی لگتی ہیں، اسی وجہ سے لوگ ان کی بہت زیادہ مقدار کھالیتے ہیں۔اسی وجہ سے ان غذاؤں سے جسمانی وزن اور چربی میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں