پہلا پروپیگنڈہ ختم ہونے پرPTIنے نیا محاذ کھول لیا

اسلام آباد (بیوروچیف) وفاقی حکومت نے گزشتہ روز طویل انتظار کے بعد وہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے تحت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو 5 سال کیلئے چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) اور ساتھ ہی چیف آف دی ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) تعینات کیا گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے بعد کئی مہینوں سے جاری وہ پروپیگنڈا دم توڑ گیا جو سیاسی وابستگیوں کے حامل سوشل میڈیا سیلز سے چلایا جا رہا تھا کہ ان کی مدتِ ملازمت کیلئے نومبر 2025کے بعد توسیع درکار ہے۔ وزارتِ دفاع کی جانب سے 5 دسمبر 2025 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ تقرری صدرِ مملکت نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 243 اور پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے سیکشن 8 اے کے تحت کی ہے۔ کئی ماہ سے مسلسل یہ بیانیہ پھیلایا جا رہا تھا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نومبر 2025 کے آخر میں ریٹائر ہو جائیں گے تاوقتیکہ کہ انہیں نئی توسیع نہ دی جائے۔ اس بحث میں 2024 کی وہ قانون سازی نظر انداز کر دی گئی جس کے تحت تینوں سروس چیفس یعنی آرمی، نیوی اور ایئر فورس کی مدتِ ملازمت تین سے بڑھا کر پانچ سال کی گئی تھی۔ انہی ترامیم کے تحت جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف مدتِ ملازمت پہلے ہی قانونا نومبر 2027 تک آگے جا چکی ہے۔ تاہم، 27ویں ترمیم کے نتیجے میں مسلح افواج کے سربراہ کے نئے عہدے کی تخلیق کے بعد ایک مرتبہ پھر ابہام پیدا ہوا اور یہ ابہام مرکزی میڈیا تک بھی پہنچ گیا۔ 27ویں ترمیم میں یہ تصور شامل تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورس کا عہدہ بھی سنبھالے گا۔ اس کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ میں ایک اہم شق کا اضافہ کیا گیا جس میں کہا گیا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جو بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورس بھی ہوں گے، کی پہلی تقرری ۔۔۔۔ اس سیکشن کے تحت مدتِ ملازمت کا آغاز اس عہدے کے نوٹیفکیشن کے اجرا کی تاریخ سے ہوگا۔ قانون میں واضح ہونے کے باوجود، مرکزی میڈیا میں بھی یہ تاثر دہرایا گیا کہ نوٹیفکیشن تاخیر کا شکار ہے، جس سے غیر ارادی طور پر وہی غلط بیانیہ مضبوط ہوا کہ یہ نوٹیفکیشن نومبر کے آخر تک جاری ہو جانا چاہئے تھا۔ رواں ہفتے دی نیوز نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ قانونا حکومت کسی مخصوص تاریخ پر نوٹیفکیشن جاری کرنے کی پابند نہیں اور اس دستاویز کی عدم موجودگی سے کوئی عہدہ خالی ہوتا ہے اور نہ کوئی قانونی خلا پیدا ہوتا ہے۔ 5 دسمبر کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس میں کسی طرح سے بھی پرانی تاریخ کا حوالہ نہیں دیا گیا (یعنی بیک ڈیٹنگ نہیں کی گئی) اور اسی تاریخ یعنی 5 دسمبر 2025 کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورس پانچ سالہ مدتِ ملازمت کا موثر آغاز قرار دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے اجرا کے ساتھ ہی مہینوں طویل وہ پروپیگنڈا دم توڑ گیا جو بنیادی طور پر آرمی چیف پر تنقید کیلئے پھیلایا گیا تھا۔ اس پیشرفت نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت اور اختیارات 2024 کے قانونی ڈھانچے کے تحت ان کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز حالیہ باضابطہ تقرری سے قبل بھی مکمل طور پر برقرار تھے۔ دریں اثنائ۔اسلام آباد (بیوروچیف) حکمران اتحاد اور اس کے رفقا سے آویزش کے بعد تحریک انصاف نے نئے محاذ کھول لئے ہیں جہاں آئندہ دنوں میں گھمسان کا رن پڑنے کا امکان ہے۔ گزشتہ روز خیبر پختونخوا حکومت نے نو مئی کے متعدد مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو تحریک انصاف کے بارے میں سخت تادیبی اقدامات کا فوری ردعمل ہے۔ اطلاعات کے مطابق کے پی محکمہ قانون نے نو مئی کے 57 مقدمات ختم کرنے کی سفارش صوبائی کابینہ کو بھیج دی ہے دوسری جانب وفاقی حکومت نو مئی کے مقدمات برقرار رکھنے کیلئے نئی قانون سازی سے بھی گریز نہیں کریگی۔ باور کیا جاتا ہے کہ کے پی حکومت نے یہ قدم باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے اٹھایا ہے جن مقدمات کو ختم کیا جارہا ہے ان میں تحریک انصاف کے متعدد ارکان اسمبلی ماخوذ ہیں اور نامزد ہیں ان کے خلاف عدالت سزا سناتی ہے تو وہ نا اہل ہوجائیں گے صوبائی ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر سے کئی مقدمات واپس لینے کی باضابطہ سفارش تیار ہوچکی ہے وفاقی وزارت قانون کے ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت اس پوری صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے کے پی حکومت قبل ازیں کئی ایسے مقدمات سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہوچکی ہے ان مقدمات کو بلاوجہ ختم کرنا ایک طرف دہشت گردی کی مدد کرنا ہے تو دوسری جانب وفاقی حکومت کے معاملات میں دخل اندازی بھی بنتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی کو اڈیالہ جیل سے حکم ملا ہے کہ وہ فرنٹ فٹ پر کھیلیں۔ انہیں اس کا پہلا عملی مظاہرہ کل اس وقت کرنا ہوگا جب وہ پشاور میں اپنے پہلے جلسہ عام سے خطاب کرینگے۔ وفاقی حکومت اور ادارے اس جلسہ عام کے سلسلے میں وزیر اعلی کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھے ہیں وہ وزیراعلی کے خطاب کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیں گے اس سلسلے میں صوبائی انتظامیہ اور اس کے سربراہ کی بداحتیاطی وفاقی حکومت کے سخت اقدام اور کاررو ائی کا سب بھی بن سکتی ہے معلوم ہوا ہے کہ تحریک انصاف کے ماہرین آئین و قانون نئی صورتحال سے کافی خوفزدہ ہیں۔ جمعہ کو تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر سے اعلی سطح کی تبدیلیوں پر ان کی ر ائے دریافت کی گئی تو وہ یہ کہہ کر ٹال گئے کہ ذر ائع ابلاغ سے اس بارے میں گفتگو کرینگے تو اس پر رائے زنی کرینگے۔ جمعہ کے روز بانی تحریک انصاف کی بہن علیمہ خان نے دھمکی دی ہے کہ وہ بہنوں کی ملاقات پر پابندی کے بعد اب اس پر احتجاج کے لئے سڑکوں پر آئیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں