کفایت شعاری پالیسی کے باوجود حکومتی اخراجات میں 13 فیصد اضافہ

اسلام آباد (بیوروچیف) حکومت کے سول ایڈمنسٹریشن اور پنشن کی ادائیگیوں پر اخراجات گزشتہ 5برسوں کے دوران مسلسل بڑھتے رہے ہیں، جب کہ سخت سرکاری کفایت شعاری پالیسی اور جارحانہ انداز میں عملے کی کمی کے باوجود رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ان اخراجات میں دوہرے ہندسے کا اضافہ دیکھا گیا ہے رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے ستمبر تک جاری پہلی سہ ماہی میں سول حکومت کے انتظام کے اخراجات میں 13فیصد اضافہ ہوا، موجودہ مالی سال میں یہ اخراجات بڑھ کر 161ارب 20کروڑ روپے تک پہنچ گئے، جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 142ارب 50کروڑ روپے تھے۔یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے، جب حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ نمایاں عملے میں کمی اور ساختی اصلاحات کے ذریعے اپنے اخراجات کم کر رہی ہے۔یہ اضافہ اس لیے بھی قابلِ ذکر ہے کہ حکومت نے گزشتہ سال ڈیڑھ لاکھ سے زائد آسامیوں کو ختم کر دیا تھا اور مختلف وزارتوں، ڈویژنز اور ان کے ماتحت اداروں میں انضمام اور بندشوں کے ذریعے رائٹ سائزنگ جاری ہے۔مزید یہ کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے مختلف محکموں میں 54ہزار مزید خالی آسامیوں کو ختم کر دیا ہے، جس سے خزانے کو سالانہ 56ارب روپے سے زائد کی بچت ہو گی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مالیاتی اصلاحات کے تحت کئی وزارتوں اور ڈویژنز کے انضمام اور ساختی تبدیلیوں کا عمل بھی جاری ہے۔اخراجات کے بڑھنے کا یہ رجحان نیا نہیں، گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی سول حکومت کے اخراجات میں 8 فیصد اضافہ ہوا تھا، جب کہ اسی عرصے کے دوران مالی سال 2024میں یہ اضافہ 29فیصد تھا جو مالی سال 2023کے مقابلے میں تھا۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال 2022کی پہلی سہ ماہی میں سول حکومت کے انتظامی اخراجات 89ارب 50کروڑ روپے تھے، جو اب تقریباً 80فیصد بڑھ چکے ہیں، پورے مالی سال کے دوران سول حکومت کے انتظامی اخراجات کا بل 892 ارب روپے سے تجاوز کر گیا تھا۔اسی طرح پنشن کے اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں، موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پنشن کی ادائیگیاں 249 ارب 50 کروڑ روپے رہیں، جو پچھلے سال اسی عرصے میں 223 ارب روپے کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہیں۔گزشتہ برس بھی پنشن کی ادائیگیوں میں 9 فیصد اضافہ ہوا تھا، گزشتہ 5 برسوں میں پنشن اخراجات میں تقریبا 125 فیصد اضافہ ہوا ہے، یعنی مالی سال 2022 کی پہلی سہ ماہی میں 111 ارب روپے سے بڑھ کر اب یہ اعداد و شمار کئی گنا ہو چکے ہیں، گزشتہ مالی سال کے اختتام تک پنشن کا مجموعی بل 911 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔سول انتظامیہ اور پنشن جیسے سخت اور ماہانہ واجب الادا اخراجات کے برعکس، سرکاری اعداد و شمار نے سبسڈی کی ادائیگیوں میں نمایاں اتار چڑھا ظاہر کیا ہے، کیوں کہ حکومت انہیں مخر کر سکتی ہے۔رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں سبسڈی کی ادائیگیوں میں 6 گنا اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کے 20 ارب روپے کے مقابلے میں 120 ارب روپے تک پہنچ گیا۔مالی سال 2024 کی پہلی سہ ماہی میں حکومت نے صرف ڈھائی ارب روپے کی سبسڈی جاری کی تھی، جب کہ اس سے پہلے کے دو برسوں میں یہ ادائیگیاں بالترتیب 93 ارب اور 74 ارب روپے تھیں۔گزشتہ برس سبسڈی کا مجموعی بل 12 کھرب 98 ارب روپے تک جا پہنچا تھا۔بظاہر، حکومت 2021 سے تمام شعبوں میں کفایت شعاری پالیسی پر عمل پیرا ہے، جو مسلسل آئی ایم ایف پروگراموں کی سخت مالیاتی نگرانی کے تحت نافذ کی گئی ہے۔جون میں حکومت نے مالی سال 2026 کے لیے بھی کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا، جن میں ہر قسم کی گاڑیوں کی خریداری، مشینری و آلات کی خریداری اور وفاقی حکومت میں نئی آسامیوں کی تخلیق پر مکمل پابندی شامل ہے۔تاہم مختلف وزارتیں، ڈویژنز اور ادارے کسی نہ کسی بہانے سے ان پابندیوں کو بائی پاس کرنے کے طریقے تلاش کرتے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں