25

باپ کا بڑھاپا

باپ وہ عظیم ہستی ہے کہ جسے رب تعالیٰ نے جنت کے دروازے کا رتبہ عطا فرمایا ہے اور وہ چٹان ہے کہ جو ہر طوفان کا سامنا کرجاتی ہے کہ کوئی آفت اس کی اولاد تک پہنچے، باپ ایک درخت کی مانند ہے کہ اگر دھوپ چبھ رہی ہو تو اس کے سائے میں بیٹھ جاؤ اور اگر سردی محسوس ہو تو جیسے دھوپ اس کے پتوں سے چھن کر آپ کے چہرے کو روشن کر رہی ہو ، باپ اس مورچے کی مانند ہے جو دشمنوں کی نظر ہم تک پہنچنے ہی نہیں دیتا اور ہمیں کچھ برا دکھائی ہی نہیں دیتا ، باپ اس پانی کی مانند ہے کہ جس کی پیاس ہر موسم میں اس زمین کو ہوتی ہے اور وہ پانی اگر آسمان سے برس جائے تو زمین سیراب ہو جاتی ہے اور اناج اگاتی ہے ، باپ اس ہوا کی مانند ہے جو گرمی میں راحت دیتی ہے اور کبھی اس دھوپ کی مانند ہے جو سردی میں سکون دیتی ہے ،باپ اس لباس کی مانند ہے کہ جس کی وجہ سے ہمارے ظاہری عیب چھپ جاتے ہیں ۔باپ کی اگر صفات بیان کی جائیں تو میرے پاس موجود حروف کا پیمانہ محدود معلوم ہوتا ہے اور مقدار قلیل ۔ باپ کے بغیر ہر خوشی ادھوری ہے جیسے بے رنگ سی کوئی تصویر کہ مصور نے بنانے کا ارادہ کیا مگر مکمل نہ کر پایا ۔ اور اس رنج و دکھ کو افسوس کے ساتھ ہم صرف تب ہی سمجھ پاتے ہیں جب یہ سایہ ہم سے چھن جاتا ہے ۔ جب باپ کا سایہ سر پہ نہیں ہوتا تو دنیا کے وہ رنگ ہمیں نظر آتے ہیں کہ جو خوفناک اور بھیانک ہوتے ہیں وہی دنیا جو کہ جب ہم باپ کے زیر سایہ ہوتے ہیں ہم سے ہم آہنگی اور پیار کا اظہار کرتے ہیں پھر ان کے من کی سیاہی ان کے ہیبت ناک چہرے ہمیں نظر آتے ہیں ان کی چالوں سے ہم چونکہ ناواقف ہوتے ہیں نا ہی تو سمجھ پاتے ہیں اور نا ہی ان کا سامنا اور مقابلہ کر پاتے ہیں ۔ باپ کے زیر سایہ ہم اپنے آپ کو عاقل اور طاقتور محسوس کر رہے ہوتے ہیں وہیں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم کتنے کمزور ہیں ۔ جب تک باپ کی شفقت کا ہاتھ ہمارے سر پر ہوتا ہے ہم اپنے آپ میں ایک ساگر ہوتے ہیں اور بعد ازاں محظ لاغر ہوتے ہیں ۔ وہ قریبی وہ اپنے وہ رشتہ دار کہ جو سہلاتے نہیں تھکتے تھے وہ اب ترغیب سوچتے ہیں کہ کسی طرح آپ کو نیچا دکھا سکیں آپ کے کسی اثاثہ کو ہتھیا سکیں آپ کو دوسروں کی نظروں میں جھکا سکیں اور سب سے بڑی بات آپ کو اپنے پاؤں میں بٹھا سکیں اور یہ اتنی مہارت اور ذہانت سے منصوبہ کیا جاتا ہے کہ آپ کو اس کا احساس ہی نہ ہوسکے مانو آپ کی آنکھوں پر کوئی پٹی سی بندھ گئی ہو جیسے آپ کا دماغ کام کرنا بند کر دے اور آپ کوکچھ سجھائی ہی نہ دے اور پر آپ کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے ۔ اور جب تک آپ کو اصلی چہرے دکھائی دیتے ہیں آپ حقیقی رنگوں سے آشنا ہوتے ہیں تب تلک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے (اب پچھتائے کیا ہو وت جب چڑیا چگ گئی کھیت) ۔ باپ اس ہستی کو کہتے ہیں کہ جو اپنی تمام خوشیاں اور آسائشیں اولاد کی نظر کر دیتا ہے اور جی جان سے محنت کر کے اولاد کی خواہشات کو ( ضروری اور غیر ضروری ) پورا کر نے کی کوشش کرتا ہے اور باوجود اس کے کوئی احسان نہیں جتلاتا مانو کہ جیسے رب تعالیٰ فرماتے ہیں کہ رب تعالیٰ نے اپنی صفت باپ کو عطا فرمائی ہے ، یہ ہستی خود بھوکی رہ کر کے آپ کا پیٹ بھرتی ہے اور آپ کے لیے نوا و اقسام کے پکوان بھی خواہش کرتی ہے کہ آپ کو کچھ تنگی کچھ دکھائی ہی نہ دے آپ کو اس چھوٹی سی سلطنت میں کسی شہزادے سے کم نہیں رکھا جاتا آپ کی فرمائشیں بلاتعطیل پوری کرنے کیلئے جی جان جٹا دی جاتی ہی اور اس کے عوظ آپ کے چہرے پر مسکراہٹ ہی معاوضہ ہوتی ہے ۔باپ مانو تو ایک مشین کو کہتے ہیں کہ تھکتی ہی نہیں اور جب چاہو جیسے چاہو استعمال کر لو ۔ باپ میں ایک غصہ صفت دماغ بھی موجود ہوتا ہے کہ جو صرف اور صرف اولاد کی بھلائی اور بہتری کیلئے ہوتا وہ آپ کا دشمن نہیں ہوتا وہ آپ سے بہت زیادہ پیار کرتا ہے بس ڈرتا ہے کہ تم کہیں راستہ نہ بھٹک جاؤ تم کہیں دوسروں سے پیچھے نہ رہ جاؤ دوسروں کے مذاق کا سبب نہ بن جاؤ ، یہ سخت لہجہ صرف تمھاری بہتر تربیت کے لیے ہوتا ہے جو عارضی ہوتا ہے وہ تو تمھیں بس خوش دیکھنا چاہتا ہے اور تمھیں کامیاب بنانا چاہتا ہے اور اس کے عوض وہ تم سے کوئی اگر توقع کرتا ہے تو آپ کو اس عظیم ہستی کی توقعات کی قدر کرنی چاہیے اور اس راستے میں آنے والی مشکلات کو مسکرا کر گلے سے لگانا چاہیے اور اس کی تکالیف کا ذکر باپ سے نہیں کرنا چاہیے ورگرنہ وہ ہستی اندر سے ٹوٹ جاتی ہے اور وہ وقت یاد کرنا چاہیے کہ جب باپ تمھارے لیے ہر دن مشکلات سے لڑتا رہا اور کوئی شکوہ نہیں کیا یہ وہ ہستی ہے کہ جو روز دھاڑیں مار مار کر رونا چاہتی ہے لیکن اس کے آنسو اس ڈر سے رخسار پر نہیں بہتے کہ کوئی ان کو دیکھ کر کمزور نہ پڑ جائے ۔ اور وہ جو ایک عارضی ڈر کا ماحول ہوتا ہے اسے آپ جوانی کو جب پہنچتے ہیں اور کسی بھی خوشی کے موقع پر گلے لگ کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کرسکتے ہیں یہ ماحول ہر وقت اس لمحے کے انتظار میں ہوتا ہے اور وہ سخت ماحول بھی دنیاوی جبر و ستم سے بیسیوں درجات کم ہوتا ہے اور بھلائی تو صرف آپ ہی کی ہوتی ہے کیونکہ یہ زندگی آپ نے گزارنی ہے باپ کی زندگی تو اس دن مکمل ہوگئی تھی جس دن آپ کے آنے کی خبر اس کے کانوں تک پہنچی تھی اس کے بعد وہ ہر لمحہ آپ کے لئے زندہ تھا آپ کے اندر اپنی خوشیاں تلاش کررہا تھا اب آپ کو چاہیے جتنی مرضی اذیتیں ہوں اپنے باپ کے سامنے مسکراتے ہوئے چہرہ لے کر جائیں اور حسرت بھری نگاہوں سے اس رونق افروز چہرے کا دیدار کریں اور مقبول حج کا ثواب اپنے نامہ اعمال میں درج کروائیں۔
اس دنیا میں کہ جسکا دل تمہارے لیے صاف ہے
پردہ ڈالنے کی جو کوشش کرتا ہے وہ تمھارا باپ ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں