28

ایک ماں ہونی چاہیے

حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کی وفات پر جس طرح دنیا بھر میں غم، محبت، وابستگی اور عقیدت کی لہر اٹھی، وہ ایک پورے عہد کا وداع ہے ۔لاکھوں مریدین، غیر معمولی اجتماع ، دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلا ہوا فکری و روحانی نیٹ ورک، اور خاص طور پر جدید تعلیم یافتہ، سنجیدہ اور متانت والے طبقے کی اصلاح یہ سب کچھ کسی ایک دن کی محنت کا نتیجہ نہیں تھا۔لیکن اگر اس عظیم الشان منظر کے پیچھے جھانک کر دیکھا جائے تو ایک خاموش، گمنام اور بے مثال حقیقت نظر آتی ہے: ایک ماں ہونی چاہیے۔ حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی خود فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے زندگی میں سب سے زیادہ جس ہستی کو روتے ہوئے دیکھا، وہ ان کی ماں تھیں۔تین سال کی عمر، تہجد کا وقت، ماں کا اللہ کے سامنے رونا، گڑ گڑانا ، دعائیں کرنا اور ننھا ذوالفقار جاگ کر بیٹھ جانا۔ کبھی کبھی ماں دعا میں بیٹے کا نام بھی لے لیتی تھیں۔وہ آنسو کسی دنیاوی کامیابی کے لیے نہ تھے، وہ آنسو اللہ سے ایک بندہ مانگنے کے تھے ۔ آج ہم پیر ذوالفقار کے لاکھوں مریدین کو دیکھتے ہیں، مگر اصل میں کہنا یہ چاہیے: ایک ماں ہونی چاہیے۔ امام محمد بن اسماعیل بخاری کو دیکھ لیجیے۔ سات سال کی عمر میں بینائی ختم ہو گئی۔ ایک ماں ہے جو ہمت نہیں ہارتی، مایوس نہیں ہوتی، راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتی ہے، دعائیں کرتی ہے، تڑپتی ہے۔یہاں تک کہ خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام آتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تمہاری دعائوں کی وجہ سے اللہ نے تمہارے بیٹے کی بینائی واپس کر دی۔صرف بینائی ہی واپس نہ آئی، ایسی غیر معمولی ذہانت عطا ہوئی کہ وہ امام بخاری بن گئے۔ہم امام بخاری کو دیکھتے ہیں، مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے: ایک ماں ہونی چاہیے۔ حضرت ابوالحسن علی حسنی ندوی جنہیں دنیا محبت سے علی میاں اور میاں جی کہتی ہے۔ایک عجمی عالم، مگر عرب دنیا میں ایسی علمی قبولیت کہ بڑے بڑے عرب علما ان کے معترف بن گئے۔ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔اس کے پیچھے بھی ایک ماں تھی دعائوں میں گھلی ہوئی، آنسوں میں بھیگی ہوئی، ہر لمحہ بیٹے کو اللہ کے حوالے کرنے والی۔ یہ عظمت خود بخود نہیں آتی، اس کے پیچھے بھی وہی راز ہے: ایک ماں ہونی چاہیے۔ دعوت و تبلیغ کے عالمی کام کو دیکھیے۔حضرت مولانا محمد الیاس جن کے ذریعے اللہ تعالی نے ایک عالمی دعوتی تحریک قائم فرمائی۔ظاہر میں یہ ایک جماعت ہے، ایک نظم ہے، ایک تحریک ہے، مگر اس کے پیچھے بھی ایک ماں کا درد، ایک ماں کی قربانی، ایک ماں کی دعائیں شامل ہیں۔ دعوت کی تاریخ بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے: ایک ماں ہونی چاہیے ۔حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی پیرانِ پیر۔ بچپن میں ڈاکوئوں کے سامنے بھی جھوٹ نہ بولنا، یہ کوئی وقتی نیکی نہیں تھی، یہ ماں کی گود میں دی گئی تربیت تھی۔ سچ بولنے کا وہ سبق جس نے ایک عبدالقادر کو غوثِ اعظم بنا دیا۔یہ کردار یونہی نہیں بنتے، ان کے پیچھے بھی وہی حقیقت ہے: ایک ماں ہونی چاہیے ۔اور ذرا موجودہ دور کی مثال لیجیے۔حرمِ کعبہ کے امام ، شیخ عبدالرحمن السدیس حفظہ اللہ۔ روایت ہے کہ بچپن میں جب وہ شرارت کرتے تو ان کی ماں محبت اور دعا کے انداز میں کہا کرتی تھیں:”جا، تجھے اللہ حرم کا امام بنائے!”وہ جملہ ماں کی زبان سے نکلا، مگر دعا بن کر آسمانوں تک پہنچ گیا۔آج وہی بچہ حرم کا امام ہے، دنیا کروڑوں لوگوں کے دل اس کی آواز سے جڑے ہوئے ہیں۔یہ بھی کوئی اتفاق نہیں تھا، اس کے پیچھے بھی وہی راز ہے:ایک ماں ہونی چاہیے۔یہ مضمون کسی ایک شخصیت کی تعریف یا کسی ایک وفات کا نوحہ نہیں، بلکہ ایک نسلی پیغام ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمیں بہتر نسل چاہیے، ہمیں علما چاہیے، ہمیں داعی چاہیے، ہمیں مصلح چاہیے مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ نسلیں صرف اداروں سے نہیں بنتیں، اصل نسل ماں کی گود میں بنتی ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ پیر ذوالفقار جیسے لوگ پیدا ہوں،امام بخاری جیسے محقق آئیں،علی میاں جیسے مفکر پیدا ہوں، مولانا الیاس جیسے داعی اٹھیں،اور سدیس جیسے امام سامنے آئیںتو پھر ہمیں ماننا ہوگا: ایک ماں ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں