36

پاکستان میں دراندازی’ 70فی صد افغان ملوث (اداریہ)

چیف آف آرمی سٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش داخلی وخارجی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قومی اتحاد’ فکری یکجہتی اور علم کی طاقت ناگزیر ہے، پاکستان میں دراندازی میں 70فی صد افغان ملوث ہیں 10دسمبر 2025ء کو اسلام آباد میں منعقدہ قومی علماء ومشائخ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس میں تمام مکاتب فکرکے علماء ومشائخ نے بھرپور شرکت کی فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں دہشت گردی’ قومی سلامتی’ عالمی برادری میں پاکستان کے ابھرتے کردار’ جنگی تیاریوں اور علم وقلم کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی، انہوں نے قرآن کریم کی آیات اور اشعار کے حوالہ جات پیش کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں اپنا واضح اور دوٹوک موقف بیان کیا۔ انہوں نے کہا اﷲ تعالیٰ نے اسلامی ممالک میں سے محافظین حرمین کا شرف پاکستان کو عطاء کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ریاست طیبہ اور ریاست پاکستان کے درمیان ایک گہرا تعلق اورمماثلت پائی جاتی ہے کیونکہ دونوں کا قیام کلمہ طیبہ کی بنیاد پر ماہ رمضان کی بابرکت ساعتوں میں عمل میں آیا فیلڈ مارشل نے کہا کہ دونوں ریاستوں میں یہ مماثلت اس لئے ہے کہ رب کائنات نے ایک کو خادم حرمین اور دوسری کو محافظ حرمین کا کردار عطا کرنا تھا انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص کے دوران اﷲ تعالیٰ کی خصوصی مدد کو انہوں نے نہ صرف دیکھا بلکہ محسوس بھی کیا، انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی اسلامی ریاست میں جہاد کا حکم یا فتویٰ ریاست کے علاوہ کوئی اور نہیں دے سکتا انہوں نے دہشت گردی کے مسئلے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی پشت پناہی سے دہشت گردی کے ذریعے پاکستان میں معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج کی جو تشکیلیں افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوتی ہیں ان میں تقریباً 70فی صد افراد افغانی ہیں انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ افغانستان کو فتنہ الخوارج اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا فیلڈ مارشل نے کہا کہ جن قوموں نے اپنے اسلاف کی علمی وفکری میراث اور قلم کی طاقت کو ترک کر دیا، وہ زبوں حالی اور پسماندگی کا شکار ہو گئیں، انہوں نے علماء ومشائخ پر زور دیا کہ وہ قلم’ فکر اور اتحاد کے ذریعے قوم کی راہنمائی کا فریضہ ادا کریں…،، چیف آف آرمی سٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اسلام آباد میں منعقدہ قومی علماء ومشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو درپیش داخلی وخارجی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قومی اتحاد’ فکری یکجہتی اور علم کی طاقت کے استعمال کو ناگزیر قرار دیا ہے انہوں نے دہشت گردی کے مسئلے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا کہ افغانستان کو فتنہ الخوارج اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا،، یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں دراندازی میں 70فی صد افغان ملوث ہیں پاکستان نے افغان مہاجرین کی کئی دہائیوں تک میزبانی کی اور ان کو بنیادی سہولتیں فراہم کیں مگر افغانیوں نے پاکستان کے احسان کا بدلہ دہشت گرد گروہوں کا پاکستان کے خلاف ساتھ دیکر دیا جو قابل مذمت ہے پاکستان کی طرف سے افغان مہاجرین کو خصوصی کارڈ دیئے جن کی وجہ سے ان کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی ممکن بنائی مگر مہاجرین نے غیر قانونی افغانیوں کو پناہ دی اور ان کے سہولت کار بن کر پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کیلئے کام کیا اور پاکستان میں سول اور سکیورٹی فورسز کو نقصان پہنچایا افغانیوں کو جب پاکستان سے نکالنے کا اعلان کیا گیا تو طالبان حکومت نے پاکستان سے درخواست کی کہ ان کو ملک بدر نہ کیا جائے پاکستان نے افغان مہاجرین کی اپنے وطن لوٹنے کیلئے مہلت میں توسیع کی مگر مہاجرین نے اپنے مذموم کام نہ چھوڑے، بالآخر پاکستان نے افغان مہاجرین کو بے دخل کرنا شروع کر دیا جب تک افغانستان میں جنگ تھی اس وقت تو مہاجرین کو پناہ دینے کی ضرورت تھی آج جب وہاں افغان طالبان کی عبوری حکومت ہے تو افغان مہاجرین کو اپنے وطن لوٹنا چاہئے تھا مگر وہ یہاں سے جانے کیلئے تیار نہیں حکومت کی طرف سے ان کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ درست ہے اور ان کو جتنی جلدی بھی ممکن ہو سکے ملک سے نکال دیا جائے کیونکہ یہ پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں فتنہ الخوارج کی سرپرستی کرنے والی افغان طالبان عبوری حکومت بھارت کے ہاتھوں کھلونا بنی ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی اس فتنہ سے بچنا نہیں چاہتی ایسے میں پاکستان کا سخت موقف اپنانا تو بنتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان طالبان عبوری حکومت خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کے ساتھ سچے دل سے مذاکرات کرے اور پھر ان پر قائم رہے کیونکہ امن میں ہی افغانستان اور پاکستان دونوں کا فائدہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں