دھند’ محفوظ ڈرائیونگ کے طریقے

اسلام آباد (بیوروچیف) دھند کی شدت اور بڑھتی ہوئی آلودگی کے سبب سڑکوں پر حادثات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ خاص طور پر صبح کے وقت جب دھند سڑکوں پر چھائی ہوتی ہے، کم حدِ نگاہ (زیرو ویزیبیلٹی) کی وجہ سے تیز رفتار گاڑیاں ڈیوائیڈر سے ٹکرا رہی ہیں، جبکہ پیچھے سے آنے والی گاڑیاں آپس میں ٹکرا کر حادثے کا شکار ہو رہی ہیں۔ ایسے میں، اگر آپ بھی روزانہ دفتر یا اسکول جاتے ہیں، تودھند ایک بڑا چیلنچ بن جاتی ہے۔ایسی صورت میں آپ کو اپنی حفاظت کے لیے کچھ اہم تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ یہاں ہم آپ کو 5سنہری حفاظتی نکات بتا رہے ہیں، جو دھند میں ڈرائیونگ کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ دھند میں تیز رفتاری حادثے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ گاڑی کی رفتار 40سے 50کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہ رکھیں۔ آہستہ اورایک ہی رفتار سے گاڑی چلائیں۔دھند میں ہائی بیم لائٹس ہرگز استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے روشنی واپس آنکھوں پر پڑتی ہے اور دیکھنے میں مزید دشواری ہوتی ہے۔ ہمیشہ لو بیم ہیڈلائٹس یا فوگ لیمپس آن رکھیں۔ پیلی روشنی والی فوگ لائٹس دھند میں زیادہ مثر ثابت ہوتی ہیں۔دھند میں ڈرائیونگ کرتے وقت محفوظ فاصلہ برقرار رکھنا ایک انتہائی اہم حفاظتی تدبیر ہے، کیونکہ کم حدِ نگاہ کی وجہ سے کسی بھی حادثے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سامنے چلنے والی گاڑی سے معمول سے دگنا فاصلہ رکھیں۔ اس طرح اچانک بریک لگنے کی صورت میں ٹکر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ دھند میں لین مارکنگ یا سڑک کے کنارے بنی لائن کو فالو کرتے ہوئے گاڑی چلائیں۔دھند میں گاڑی چلانا ایک چیلنج ہو سکتا ہے، اور اس چیلنج کو مزید بڑھانے والی ایک بڑی وجہ اوورٹیک کرنا ہے۔ اوورٹیک یعنی دوسرے گاڑیوں کو سبقت دے کر آگے نکلنا، خاص طور پر دھند میں، نہ صرف آپ کی بلکہ دوسرے ڈرائیورز کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے اور پیچھے سے آنے والی گاڑی سے تصادم کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے صبر کا مظاہرہ کریں، اپنی لین میں رہیں اور غیر ضروری اوورٹیک سے بچیں۔گاڑی کے ڈی فوگر اور وائپر آن رکھیں تاکہ شیشوں پر دھند نہ جمے۔ سفر شروع کرنے سے پہلے تمام شیشے اچھی طرح صاف کر لیں۔ ہر موڑ پر انڈیکیٹر کا استعمال کریں، ضرورت پڑنے پر ہلکا ہارن بجائیں۔ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال نہ کریں اور میوزک کی آواز کم رکھیں تاکہ توجہ منتشر نہ ہو۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تھوڑی سی احتیاط اور درست ڈرائیونگ عادات اپنا کر دھند کے موسم میں نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جان بھی محفوظ رکھی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں