35

پاکستان کے حوالے سے امریکی سوچ میں نمایاں تبدیلی (اداریہ)

معروف امریکی جریدے واشنگٹن ٹائمز کی ایک آرٹیکل میں اہم انکشافات اور تفصیلات سامنے آئی ہیں جس میں سال 2025ء کو پاک امریکہ تعلقات میں انقلابی تبدیلیوں کا سال قرار دیا گیا ہے پاکستان کا ناپسندیدہ ریاست سے شراکت دار ملک بن جانا اور امریکہ میں پاکستان کے بارے میں رائے کا اس قدر تیزی سے بدلنا ایک منفرد واقعہ ہے واشنگٹن میں انڈیا فرسٹ کا دور اب ختم ہو چکا ہے ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اس آرٹیکل کے مطابق واشنگٹن کا ”انڈیا فرسٹ” کا دور ختم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے آرٹیکل کے مطابق امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ایک غیر متوقع موڑ سامنے آیا ہے جہاں صدر ٹرمپ کی قیادت میں پاکستان کے حوالے سے امریکی سوچ میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے وہ پاکستان کو جو کچھ عرصہ قبل سفارتی طور پر تنہاسمجھا جاتا تھا اب وہ جنوبی ایشیا میں امریکی پالیسی کا ایک اہم ستون بنتا دکھائی دے رہا ہے آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کو گزشتہ ایک دہائی بلکہ 1990ء کے بعد سنگین ترین قومی سلامتی کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے تاہم 2025ء کے اختتام تک صورتحال ڈرامائی طور پر تبدیل ہو گئی اور پاکستان ایک نظرانداز ملک سے امریکہ کا شراکت دار بنتا دکھائی دیا پاکستان اب صدر ٹرمپ کے جنوبی ایشیا سے متعلق ابھرتے ہوئے خارجہ پالیسی ویژن میں ایک اہم ملک کی حیثیت اختیار کر چکا ہے آرٹیکل کے مطابق ٹرمپ کی نئی خارجہ پالیسی ٹیم میں غالب سوچ یہی تھی کہ بھارت پر مزید انحصار کیا جائے کواڈ اتحاد کو نمبر پیسفک میں مضبوط کیا جائے اور بھارت کے دیرینہ مفادات کے تحت پاکستان کو پس منظر میں رکھا جائے تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی مختصر جنگ کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں فیصلہ کن تبدیلیاں سامنے آئیں اس جنگ کے دوران پاکستان کی غیر متوقع عسکری کارکردگی نے امریکی صدر کو حیران کر دیا اس جنگ میں پاکستانی افواج نے عسکری نظم وضبط سٹریٹجک توجہ اور غیر متوازن صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا جو امریکی توقعات سے کہیں زیادہ تھا ڈونلڈ ٹرمپ کو سیزفائر پر بھارت کا ردعمل سخت ناگوار گزرا جبکہ پاکستان نے ثالثی کی کوششوں کو قبول کیا جس کے نتیجے میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی حیثیت واشنگٹن میں مزید مضبوط ہو گئی آرٹیکل کے مطابق اس پیشرفت کے بعد پاکستان کو دوبارہ ایک سنجیدہ علاقائی قوت کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے آرٹیکل کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی صدر کے قریبی حلقوں میں نمایاں شخصیت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں یہی وجہ ہے کہ دونوں شخصیات کے تعلق کو مثالی بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بہت زیادہ احترام دیا گیا ہے واشنگٹن ٹائمز کے آرٹیکل میں وائٹ ہائوس میں لنچ میٹنگ کو کسی پاکستانی عسکری سربراہ کیلئے پہلی مثال قرار دیا گیا جبکہ سینیٹ کام ہیڈ کوارٹرز میں فیلڈ مارشل کا ریڈ کارپٹ استقبال اور امریکی عسکری تاجر کے ساتھ اعلیٰ سطحی سٹریٹجک میٹنگ کو بھی غیر معمولی قرار دیا گیا ہے” امریکی جریدے واشنگٹن ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں سال 2025ء کو پاک امریکہ تعلقات میں انقلابی تبدیلیوں کا سال قرار دینا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اب پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی ہے ایک ناپسندیدہ ملک سے امریکہ کا شراکت دار ملک بن جانا کوئی عام بات نہیں امریکہ میں پاکستان کے بارے میں رائے کا اس قدر تیزی سے بدلنا واقعی ایک منفرد واقعہ ہے ماضی میں امریکہ پاکستان کے بارے میں جو خیالات رکھتا تھا اب اس کے برعکس ہے اب پاکستان کا جنوبی ایشیا میں امریکہ کی نظر میں ایک اہم مقام ہے جو پاکستانیوں کیلئے باعث مسرت ہے آرٹیکل کا لب لباب یہ ہے کہ اب ”انڈیا فرسٹ” کا دور ختم ہو چکا اور پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے چیف آف آرمی سٹاف وچیف آف ڈیفنس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکی صدر کے قریبی حلقوں میں نمایاں شخصیت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں پاکستان کے حوالے سے امریکی قیادت میں نمایاں سوچ کی تبدیلی خوش آئند ہے تاہم امید ہے کہ صدر ٹرمپ پاکستان کو معاشی طور پر ترقی کیلئے سپورٹ کریں گے پاکستان کیلئے امریکی امداد بحال کر کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ کریں گے پاکستانی برآمدات کے فروغ کیلئے آسانیاں پیدا کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں