19

2025۔ عالمی سطح پر پاکستانی بیانیہ کی فتح (اداریہ)

نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ غزہ میں پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے نہیں جائیگا انہوں نے غزہ امن فورس کا حصہ بننے کو غیر مبہم الفاظ میں مشروط کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان کے اصولی موقف کا پرعزم اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بخوشی غزہ امن فورس کا حصہ بننے کیلئے تیار ہے بشرطیکہ امن فورس کا مینڈیٹ حماس کو غیر مسلح کرنا نہ ہو۔ عالمی سطح پر پاکستانی بیانیہ کی فتح’ بنگلہ دیش سے تعلقات میں جمود ٹوٹا’ عرب امارات ایک ارب کی لائیلٹی (واجبات) کو سرمایہ کاری میں تبدیل کر رہا ہے، فوجی فائونڈیشن میں سرمایہ کاری کرے گا حالیہ بحران کے بعد 60عالمی راہنمائوں نے رابطہ کیا، 9مئی کو وزیراعظم شہباز شریف کے زیرصدارت اجلاس میں اہم فیصلے ہوئے، آرمی چیف نے عسکری کے ساتھ سفارتی کردار بھی ادا کیا، امریکہ نے رواں برس بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا، ہفتے کو اسلام آباد میں اپنی سالانہ خصوصی پریس بریفنگ میں کہا کہ غزہ میں امن کے قیام کیلئے تعینات کی جانے والی انٹرنیشنل فورس میں پاکستان کی شمولیت ہو گی یا نہیں کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا یہ بڑا حساس معاملہ ہے اسی لئے ہم نیویارک استنبول اور یہاں بھی امن کے قیام کا لفظ استعمال کرتے رہے ہیں کبھی بھی ”امن نافذ” کرنا کا نہیں کہا ان کا کہنا تھا کہ میں واضح کر چکا ہوں کہ پاکستان خوشی سے اس کا حصہ بنے گا اگر اس کا مینڈیٹ” امن نافذ کرنا پیس انفورسمنٹ اور حماس کو غیر مسلح کرنا نہیں ہو گا، سال 2025ء میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا وقار دنیا بھر میں بلند ہوا ہے بنگلہ دیش میں آنے والی نئی حکومت سے بہتر روابط قائم کریں گے پی ڈی ایم اے نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار تھا مگر حالیہ بحران اور اس کے بعد 60 سے زیادہ عالمی راہنمائوں نے رابطہ کیا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنی عسکری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے امیج بڑھانے میں سفارتی کردار بھی ادا کیا ہے وزیراعظم شہباز شریف اہم دوروں پر انہیں ساتھ لیکر جاتے ہیں ہم سب ایک ٹیم ہیں اور ایجنڈا پاکستان ہے بھارت کو عبرتناک شکست دینے کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کو بھرپور پذیرائی ملی پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن اسے تاریخی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ پاکستان نے کسی ملک سے ثالث یا صلح صفائی کی درخواست کی تھی نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا غزہ فورس کا حصہ بننے بارے واضح جواب سامنے آنے کے بعد اب سوال کو دہرانا نامناسب ہو گا پاکستان نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے کہ وہ غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے نہیں جائے گا انٹرنیشنل فورس میں امن کیلئے حصہ لے گا نائب وزیراعظم نے کہا کہ سال 2025ء میں عالمی سطح پر پاکستانی بیانیہ کی فتح اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری سفارتی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے اور ملک کی ترقی’ خوشحالی’ پاکستان کا امیج عالمی طور پر بہتر بنانے اور سفارت کاری کو کامیاب بنانے کیلئے پرعزم ہے جو خوش آئند ہے حکومت بحرانوں سے نکل کر پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے متحرک ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری لانے میں بھی کامیاب ہو رہی ہے حکومت برآمدات میں اضافہ صنعتوں کے فروغ کیلئے بھی سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے جس سے امید بندھ ملی ہے کہ پاکستان بہت جلد عالمی سطح پر ایک ابھرتی ہوئی معاشی قوت بنے گا، انشاء اﷲ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں