FDAکی ریکوری مہم،55کروڑ18لاکھ کے واجبات کی وصولی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ایف ڈی اے نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران 55 کروڑ اٹھارہ لاکھ روپے کے واجبات کی وصولی کی ہے جبکہ بقایا جات کے نادہندگان کے خلاف بھرپور ریکوری مہم جاری ہے۔ یہ بات ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری کی ہدایات پر منعقدہ اجلاس کے دوران بتائی گئی جس کی صدارت ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے قیصر عباس رند نے کی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ٹائون پلاننگ اسما محسن، ڈائریکٹرز اسٹیٹ مینجمنٹ جنید حسن منج، سہیل مقصود پنوں، ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس حمیرا اشرف، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ ولید خالد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریکوری میاں اختر و دیگر افسران موجود تھے۔ صدر اجلاس نے تمام شعبوں کی انفرادی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ریکوری کے اعداد و شمار چیک کئے اور ریونیو میں مزید اضافہ کے لئے ضروری ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران اسٹیٹ مینجمنٹ ٹو میں 17 کروڑ 89 اور 52 ہزار روپے، ٹان پلاننگ ٹو میں 15 کروڑ 85 لاکھ 51 ہزار روپے، اسٹیٹ مینجمنٹ ون میں گیارہ کروڑ پندرہ لاکھ 39 ہزارروپے، ٹائون پلاننگ ون میں آٹھ کروڑ 63 لاکھ 64 ہزار روپے، سپیشل جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت کے جرمانوں کی مد میں 22 لاکھ اٹھارہ ہزار روپے، شعبہ کچی آبادی میں ایک کروڑ بارہ لاکھ 73 ہزار روپے، ٹیسٹگ لیبارٹری میں 15 لاکھ 46 ہزار روپے اور شعبہ آئی ٹی کی سروسز میں 13 لاکھ 97 ہزار وپے کی وصولی کی گئی ہے۔ صدر اجلاس نے ریونیو ریکوری کی مجموعی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سنجیدگی ، محنت اور توجہ سے فرائض انجام دیتے ہوئے ادارہ کے ذرائع آمدنی بڑھائے جا سکتے ہیں لہذا ریونیو میں اضافہ کے لئے اقدامات کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے ریونیو سٹاف کی انفرادی کارگزاری کا جائزہ لیتے ہوئے بعض اہلکار وں کی سست روی پر برہمی کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ ناقص کارکردگی کے حامل سٹاف کی جواب طلبی ہونی چاہیئے۔ اے ڈی جی نے مختلف شعبوں کو ریونیو ریکوری کے لئے اہداف تفویض کرتے ہوئے کہا کہ سوفیصد نتائج کے حصول کے لئے مثر اور ٹھوس حکمت عملی اختیار کی جائے۔ انہوں نے جائیدادوں کی کمرشلائزیشن کے امور پر کڑی نظر رکھنے اور منظوری کے لئے موصول ہونے والی ایسی درخواستوں کو بلاتاخیر نمٹانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں افسران نے اپنے اپنے شعبوں میں ریونیو کی وصولی کے اعداد و شمار اور ریکوری کے لئے آئندہ اقدامات پر عملدرآمد کے بارے میں آگاہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں