22

پٹرولیم مصنوعات پر 5 روپے لیوی کی تجویز (اداریہ)

پاکستان کا گیس گردشی قرضہ بڑھ کر 3200ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جو پہلے 2600 ارب روپے تھا اس اضافہ کی بڑی وجہ لیٹ پیمنٹ چارجز میں نمایاں اضافہ ہے جو اب 1450 ارب روپے تک جا پہنچا ہے حکام کے مطابق 1750 ارب روپے میں سے تقریباً 210 ارب روپے انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی کی مد میں جمع ہوئے ہیں باقی ماندہ 1.5 کھرب گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے انرجی ٹاسک فورس نے KPMG اور پٹرولیم ڈویژن کے ساتھ مل کر کئی تجاویز شامل کی ہیں۔ ان میں پٹرول اور ڈیزل پر 5 روپے فی لیٹر تک پٹرولیم لیوی عائد کرنا آر ایل این جی کارگو کو عالمی مارکیٹ کی طرف موڑنا اور سرکاری تیل وگیس کمپنیوں کے منافع کو بجٹ کی حد تک محدود کر کے قرض کی ادائیگی میں استعمال کرنا شامل ہے حکومت (LPS) معاف کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ گیس سپلائزر یعنی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیاں اور خریدار یعنی سوئی گیس کمپنیاں سرکاری ادارے ہیں اور انہوں نے یہ رقم بینکوں سے قرض لیکر ادا نہیں کی، البتہ پاکستان اسٹیٹ آئل PSO کو اپنا LPS ادا کرنا ہو گا کیونکہ اس نے ادائیگیاں کرنے کے لیے بینکوں سے قرضہ لیا تھا حکومت 210 ارب روپے کے انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی واجبات ختم کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے 15ارب روپے کے گردشی قرضے کی ادائیگی کیلئے انرجی ٹاسک فورس نے اور پٹرولیم ڈویژن کے ساتھ مل کر کئی تجاویز پیش کی ہیں ان میں پٹرول اور ڈیزل پر 5 روپے فی لیٹر تک پٹرولیم لیوی عائد کرنا’ آر ایل این جی کارگو کو عالمی مارکیٹ کی طرف موڑنا اور سرکاری تیل وگیس کمپنیوں کے منافع کو بجٹ کی حد تک محدود کر کے قرض کی ادائیگی میں شامل کرنا ہے منصوبے کے تحت حکومت 2026ء میں 35 ایل این جی کارگو عالمی منڈی کی طرف بھیجے گی جس سے ایندھن کی درآمدی لاگت میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی کمی متوقع ہے اور ہر سال 160 ارب روپے پیدا ہوں گے، جو گیس کے گردشی قرضے کے ادائیگی کے لیے استعمال کئے جائیں گے مجوزہ پٹرولیم لیوی سے سالانہ 90ارب روپے حاصل ہو سکتے ہیں جبکہ سرکاری کمپنیوں کے منافع بھی 5 سال میں قرض اتارنے میں مدد دیں گے گیس گردشی ڈیٹ مینجمنٹ پلان 31دسمبر 2025ء کو وزیراعظم کو پیش کیا گیا،، گیس کے گردشی قرضہ میں کمی کیلئے حکومت کو پٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 5 روپے پٹرولیم لیوی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کے لاگو ہونے سے اس کا بوجھ پٹرول’ ڈیزل استعمال کرنے والے صارفین کو برداشت کرنا ہو گا جو اتنا آسان نہیں ہو گا جتنا کہ تجویز دینے والے سمجھ رہے ہیں موجودہ مہنگائی کے دور میں عام آدمی اپنے گھر کا بجٹ کس طرح بناتے اور کیسے گھر کا انتظام چلا رہے ہیں اس کا صاحب اقتدار اور اشرافیہ کو کس طرح علم ہو سکتا ہے جن کو بجلی’ گیس’ پٹرول مفت اور بے شمار مراعات الگ مل رہی ہوں ایک غیر سرکاری این جی او گیلپ پاکستان کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق افراط زر نے عام آدمی کیلئے بہت مشکلات پیدا کیں 2024-25 کے اعداد وشمار کے مطابق اوسط گھریلو آمدن میں روپے کی صورت میں نمایاں اضافہ ہوا لیکن مستقل بڑھتی مہنگائی نے اس آمدن کی آمدن حقیقی قدر کو کم کر دیا 2018-19ء سے 2024-25ء کے دوران ملک میں یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کے ہاتھ میں پہلے سے زیادہ رقم ضرور آ رہی ہے مگر افراط زر نے ان کے مسائل کو کم کرنے کے بعد بڑھایا ہے 2019ء کے مقابلے میں اب قوت خرید کم ہے حکومت اگر ڈیزل اور پٹرول پر فی لیٹر 5روپے پٹرولیم لیوی عائد کرے گی تو اس سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا حکومت کو عام آدمی پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اس کیلئے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں تاکہ زندگی کی گاڑی چلتی رہے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے ادا کرنے کیلئے حکوم کسی اور ذریعے سے رقم حاصل کرنے پر غور کرے عام آدمی پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں