12

ایک عہد ساز شخصیت ۔۔۔۔ صاحبزادہ عطا المصطفیٰ نوری

موت ایک اٹل حقیقت ھے اس سے فرار اور سے انکار ممکن ہی نہیں ھے موت کا ذائقہ ہر ذی نفس کو چکھنا ہے کوئی کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ایک دن اس کو جانا ہی ہے موت و حیات کا یہ سلسلہ تخلیق آدم سے جاری ہے ہر روز اپنے پیاروں کو اپنے ہاتھوں سے دفناتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد ان کو بھول جاتے ہیں لیکن کچھ جانے والے ایسے ہوتے ہیں جن کو کسی صورت بلایا نہیں جا سکتا وہ اپنے کردار اور عمل سے ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتے ہیں ایسے ہی لوگوں میں محسن انسانیت ممتاز سماجی کارکن اور میرے قائد صاحبزادہ عطا المصطفیٰ نوری ہیں حدیث مبارکہ ہے کہ ترجمہ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہو” صاحبزادہ عطا المصطفیٰ نوری بندہ مومن کی عملی تفسیر تھے دین متین کے سچے علمبردار راہ حق کے عظیم مسافر عشق رسولۖ کی عالمگیر تحریک انجمن طلبہ اسلام کے عظیم رہنما تھے بظاہر تو نوری صاحب ہماری نظروں سے اوجھل ہوئے ہیں لیکن ان کے تربیت یافتہ کارکنان المصطفیٰ کی شکل میں موجود ہیں اور وہ ہمارے دل کی گہرائیوں اور نہال خانوں میں تاحیات موجود رہیں گے آپ معاشرے کے دکھوں کا مداوا چاہتے تھے اور انہوں نے ساری زندگی انسانوں کے دکھ سمیٹنے اور سکھ بانٹنے میں گزار دی . حق بات کہتے اور پھر ڈٹ جاتے اور دوسروں کی خاطر سب کچھ کر گزرتے لیکن خودداری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے لیکن کسی کا دل نہ دکھاتے۔ صاحبزادہ عطا المصطفیٰ نوری ایک مرد مجاہد تھے آپ کی شخصیت ایک مرکز اور ادارہ کی سی تھی آپ نے اپنی اولاد کی فکری اور عملی تربیت کی۔ روایتی گروہ بندی اور شخصیت پرستی کے ماحول سے خود کو الگ رکھا اور بغیر کسی لالچ کے اپنا کام جاری رکھا ویسے تو صاحبزادہ نوری سے بہت ساری یادیں وابستہ ہیں لیکن الفاظ میں ان کی شخصیت کا احاطہ کرنا میرے لیے مشکل ہے فیصل آباد میں تنظیمات اہل سنت کی بنیاد قبلہ نوری نے رکھی اور 27سنی تنظیموں کو اکٹھا کر کے ابتدائی دو اجلاس جامعہ قادریہ میں کروائے بعد از اپنی دینی اور سماجی مصروفیات کی وجہ سے اور اکثر فیصل آباد سے باہر رہنے کی وجہ سے حضرت سید ہدایت رسول شاہ کو تنظیمات کی سربراہی سونپی اور آج بھی تنظیمات اہلسنت اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ ان کے ساتھ مختلف شہروں میں المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے کاموں کے حوالے سے جانے کا موقع ملا۔ اکتوبر 2005کے زلزلہ کے دن شام تقریبا چھ بجے ان کا فون آیا کہ صبح آٹھ بجے ہم نے مظفرآباد کشمیر کے لیے نکلنا ہے اور ایک دوست کو ساتھ لے آنا اگلے دن ہم صبح آٹھ بجے سے پہلے جامعہ قادریہ رضویہ پہنچ گئے اور پھر ان کے ساتھ مظفرآباد کے لیے روانہ ہو گئے وہاں پر لاشوں اور زخمیوں کو ملبے سے نکالنا اور ان کی مرہم پٹی کرنا اس کیفیت کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے مشکل ہی نہیں ناممکن ہے اللہ رب العزت نے دیگر بہت سی خوبیوں کے ساتھ پہلو بہ پہلو انہیں اجز و انکسار کی نعمت سے نوازا تھا اللہ تعالی کو اپنے ایسے بندے یقینا بہت پیارے ہوتے ہیں پھر وہ ان کی عزت لوگوں کو دنیا میں اتار دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان سے پیار کرنے والوں کا سلسلہ بہت وسیع ہے۔ 1985 غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد عام انتخابات میں محمد خان جونیجو مرحوم کی قیادت میں بننے والی کابینہ کا جب محترم قبلہ حاجی محمد نے طیب کو وزارت کا قلمدان ملنے لگا تو حلف برداری کی تقریب سے پہلے قبلہ حاجی محمد حنیف طیب نے پورے پاکستان میں اپنے چاہنے والوں اور نظریاتی ایماندار لوگوں پر نظر دوڑائی کہ ان کے ساتھ ایک محنتی دیانت دار کامل اخلاص اور وفاشعار ساتھی جو وزارت کے اہم امور چلا سکے تو اس وقت قبلہ ان کی نگاہ انتخاب صاحبزادہ عطا مصطفی نوری پر آ کر ٹھہر گئی انہوں نے نوری صاحب کو فون کیا اور اسلام آباد بلا لیا ۔ یہاں ایک بات بتاتا چلوں کہ جب حاجی حنیف طیب یہ بات بتاتے ہیں تو آپ کی آنکھیں آبدیدہ ہو جاتی ہیں اور کچھ لمحے خاموش رہتے ہیں اور طبیعت سنبھلنے پر دوبارہ باتیں کرتے ہیں ایک مرتبہ میں رقم الحروف (ڈاکٹر سعید طاہر) عطاء المصطفیٰ کے ساتھ اجتماعی شادیوں کی تقریب میں شرکت کے لیے اوکاڑہ جا رہے تھے تو انہوں نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ جو ہر پٹرول پمپ پر مسجد بنی ہے۔ یہ ہماری کوششوں سے ھے میں نے پوچھا وہ کیسے؟ آپ فرمانے لگے یہ ان دنوں کی بات ہے جب حاجی محمد حنیف طیب وفاقی وزیر برائے پٹرولیم و قدرتی گیس تھے ہم یعنی نور اور حاجی محمد حنیف طیب فیصل آباد سے ملتان کی طرف محو سفر تھے کہ راستے میں نماز عصر کا وقت ہو گیا اور گاڑی میں پٹرول بھی ڈلوانا تھا تو جب پٹرول پمپ پر پٹرول ڈلوانے کے لیے رُکے اور نماز عصر ادا کرنے کے لیے پٹرول پمپ پر کوئی جگہ نہ تھی تو عطاء المصطفیٰ نوری نے قبلہ حاجی محمد حنیف طیب کو مشورہ دیا کہ پٹرول پمپ بنواتے وقت مسجد کی جگہ کا تعین کیا جائے تاکہ نمازی حضرات پٹرول پمپ پر نماز بھی ادا کر سکیں تو اس وقت سے لے کر آج تک جتنے بھی پٹرول پمپ بنے ہیں ان میں مسجد لازمی ہے یہ فیضان نوری ہے صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری گفتار کے غازی ہی نہ تھے بلکہ عملی طور پر ہمیشہ متحرک رھے۔ انجمن طلبا اسلام سے فراغت کے بعد فلاح عامہ کے کاموں کے لیے جب المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کا کام 1987 میں فیصل اباد میں عمل میں آیا تو آپ اس کے نائب صدر اور حاجی محمد شریف قادری صدر تھے جبکہ ایگزیکٹو کونسل میں آپ کے ساتھ ڈاکٹر غلام قادر فیاض، محمد عارف سیال، غلام مصطفی بھٹی، ساجد سہیل، ڈاکٹر عبدالشکور ساجد انصاری، محمد سلیم مرتضیٰ، اقتدار اسلم اور محمد صابر مرتضائی شامل تھے اس وقت المصطفیٰ ڈایا گناسٹک سینٹر، ایمبولنس سروس، المصطفیٰ کلینیکل لیبارٹری، بلڈ بینک اور المصطفیٰ فری ڈسپنسری کا قیام عمل میں لایا گیا پھر کچھ عرصہ تعطل کا شکار رہنے کے بعد 2010 میں المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی فیصل آباد نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا آپ اس وقت پنجاب کے صدر تھے اور مجھے فیصل آباد ڈویژن کا کنوینئر مقرر کیا گیا بعد ازاں ضلع فیصل آباد ،ضلع جنگ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ، ضلع چنیوٹ کے لیے مخلص دوستوں کو المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ فیصل آباد میں المصطفیٰ کلینیکل لیبارٹری، المصطفیٰ قران اکیڈمیز، المصطفیٰ ماہانہ راشن اور اجتماعی شادیوں کی تقریبات کا آغاز آپ ہی کا لگایا ہوا ہے شجر سایہ دار ہے۔ تربیت کے حوالے سے عرض کرتا چلوں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر انتظام شادیوں کی اجتماعی تقریب تھی جس میں آپ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرنا تھی جبکہ آپ کے ساتھ اس تقریب میں اس وقت کے ڈی سی او ٹوبہ جاوید اقبال بخاری اور ڈی پی او ٹوبہ منصور الحق، مقامی ایم این اے جنید انوار مہمان گرامی تھے کیونکہ ڈویژن کنویر کی ذمہ داری کی حیثیت سے میں نے اس پروگرام کو ارینج کرنے میں ضلع ٹوبہ کے صدر شاہ جاوید جدی کے ساتھ کافی کام کیا تو اس پروگرام میں لے کر جانا میری ذمہ داری تھی تو میں صبح تقریب والے دن جامعہ قادریہ پہنچ گیا تاکہ عطاء المصطفیٰ نوری کو ساتھ لے کر تقریب میں شامل ہو سکو انہوں نے چائے پلائی اور بسکٹ بھی کھلائے اور فرمانے لگے، آپ نے اکیلے تقریب میں جانا ہے میری طبیعت کچھ ناساز ھے ۔میں یہ سن کر سوچ میں پڑ گیا کہ اتنی بڑی تقریب میں کتنے بڑے بڑے لوگ آ رہے ہیں اور میں تو سٹیج پر کچھ بھی بول نہیں سکتا۔ ان کا حکم تھا تو جامعہ قادریہ سے نکلا اور مرکزی انجمن طلبہ اسلام سید آفتاب عظیم بخاری کو فون کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اجتماعی شادیوں کا پروگرام ہے وہاں جانا ہے خیر ہم دونوں تقریب میں گئے واپسی پر اگلے دن مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا مجھے دیکھ کر مسکرانے لگے اور فرمایا سنا کل کا پروگرام کیسا رہا میں نے تقریب کی ساری روداد سنائی تو آپ فرمانے لگے یہ آپ کی تربیت کا آخری حصہ ہے ۔المصطفیٰ قران اکیڈمی بیرون چنیوٹ بازار سالانہ تقریبات چناب کلب میں ہوا کرتی تھی مدینہ ٹائون میں میرے ایک محسن دوست حاجی محمد لیاقت علی تنویر کو میں تین سال لگاتار المصطفیٰ قران اکیڈمی کی سالانہ تقریبات میں شرکت کے لیے ساتھ لے کر جایا کرتا تھا حاجی لیاقت علی تنویر نے المصطفیٰ قرآن اکیڈمی کے سسٹم سے متاثر ہو کر اپنے بیٹے کو المصطفیٰ قرآن اکیڈمی چنیوٹ بازار میں داخل کروایا اس نے تقریباً ایک سال میں قرآن مجید حفظ کر لیا، سالانہ تقریب میں حاجی لیاقت علی تنویر فرمانے لگے کہ عطاء المصطفیٰ نوری آپ مجھے اجازت دیں تو میں مدینہ ٹائون میں ایسی ہی ایک قرآن اکیڈمی کا قیام عمل میں لانا چاہتا ھوں قبلہ تو فرمانے لگے اجازت ہے لیکن اس کا طریقہ کار اور اس کے قواعد و ضوابط کا پابند ہونا پڑے گا آپ شروع کریں لیکن اس بات کا خیال رکھیں کہ ہر بچہ کم ازکم پرائمری پاس ہو ایک سال گزر گیا، اگلے سال پھر تقریب میں حاجی لیاقت سٹیج پر تشریف لائے اور فرمانے لگے میں نے آپ سے قران اکیڈمی کی اجازت تو لے لی تھی لیکن مجھے کوئی ایسا بندہ نہیں ملا جو قران اکیڈمی چلا سکے تبسم فرمایا اور فرمانے لگے جو بندہ آپ کو یہاں تک لے آیا ہے وہ پورے پاکستان کی تنظیم چلا رہا ہے اور آپ بندہ ڈھونڈ رہے ہیں یعنی ان کا اشارہ راقم الحروف (ڈاکٹر محمد سعید طاہر) کی طرف تھا اس کے تین ماہ بعد المصطفیٰ قران اکیڈمی مدینہ ٹائون کے افتتاح ضیاء المصطفیٰ نوری سے کروایا اور مجھے حکم دیا کہ آپ اس قران اکیڈمی کے منتطم اعلیٰ ہیں اور آپ نے ہی مجھے گاہے بگاہے رپورٹ دیتے رہنا ۔ آپ کا یہ لگایا ہوا پودا آج شجر سایہ دار کی شکل اختیار کر گیا ہے اس وقت مدینہ ٹائون میں المصطفیٰ قران اکیڈمی خیابان نمبر 3 میں حاجی لیاقت علی تنویر کی سرپرستی میں جبکہ بچیوں کے مدرسے بھی دین متین کی تبلیغ کے لیے اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ المصطفیٰ قران اکیڈمی رسول پارک میں راقم الحروف کی زیر نگرانی دینی خدمات سر انجام دیا ہے۔ صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے آپ جس سمت اپنی صلاحیتوں کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس فرمان عالی شان کو ہمیشہ مقدم سمجھا ”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے” اس فرمان عالی شان کی روشنی میں انہوں نے مقامی بچیوں کے لیے مصطفائی ماڈل سکول قائم کیا جو اب مصطفائی کالج برائے خواتین کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ممتاز عالم دین کے لخت جگر ہونے کی حیثیت سے آپ دین علوم سے بہرہ مند ہوئے اور دین کی خدمت کے لیے بہترین مدرسے جامعہ قادر رضویہ کا انتظام سنبھالا جہاں دین متین کا کی درس تدریس کا سلسلہ شب و روز جاری رکھا انہوں نے اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان فاضل بریلی کے ترجمہ قران پاک کنز الایمان کے لاکھوں نسخے مختلف زبانوں میں مخیر حضرات کے تعاون سے شائع کیے اور مفت تقسیم کیے بعد ازاں اسی ترجمہ کو علیحدہ علیحدہ پاروں کی صورت میں بھی پرنٹ کروایا جس سے ترجمہ القران پڑھنے کا شوق رکھنے والوں کو بہت سہولت ہوئی دعا ہے، آپ کے بعد اب آپ کے برابر اصغر صاحبزادہ ضیاالمصطفیٰ نوری نے اس ادارے کو جدید طریقہ سے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور جامعہ قادریہ رضویہ اپنی مثال آپ ہے۔اللہ رب العزت اپنے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقے سے آپ کو کروٹ کروٹ رحمتیں عطا فرمائے اور عظیم بھائیوں اور عظیم بیٹوں کو اپ کا مشن مزید آگے بڑھانے میں کی توفیق عطا فرمائے،آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں