درختوں کی غیر قانونی کٹائی برداشت نہیں کی جائیگی

اسلام آباد (این این آئی)وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شذرہ منصب علی نے اسلام آباد میں درخت لگانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ درختوں کے نقصان کا باعث بننے والی کسی بھی غفلت سے سختی سے نمٹا جائے گا۔اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کے حالیہ خدشات کے بارے میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران وزیر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد میں درختوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ درختوں کی غیر قانونی کٹائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملوث عناصر کو سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شہر میں درختوں کو محفوظ رکھنے اور ماحولیاتی قوانین کو برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درختوں کی غیر قانونی کٹائی ایک مجرمانہ فعل ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ڈاکٹر شذرہ منصب علی نے تسلیم کیا کہ شہریوں کی طرف سے بتائے گئے پولن سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے بعض درختوں کو ہٹانا کبھی کبھار ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد صحت عامہ کے خدشات کو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ متوازن کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مناسب اجازت کے بغیر ترقی کے نام پر کوئی بھی درخت ہٹایا گیا تو وزیر اعظم کی ہدایات کے تحت سخت انکوائری اور جوابدہی کی جائے گی۔وزیر مملکت نے اسلام آباد کے سبزہ زاروں کے تحفظ اور پائیدار شہری ترقی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ لگائے گئے ہر درخت کے ساتھ 3 سے 10 مقامی درخت قدرتی طور پر اگتے ہیں جو کہ ماحولیات کے لیے ضروری ہے تاہم درختوں کی کسی بھی غیر قانونی کٹائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ہٹائے گئے زیادہ تر درخت جنگلی شہتوت کے تھے جو الرجی کو متحرک کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحیح تعداد کی تصدیق اور ان کے ہٹانے کی وجوہات کو سمجھنے کے لیے مکمل انکوائری جاری ہے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ صحت عامہ اور ماحولیاتی تحفظ دونوں پر غور کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر درخت لگانے کی مہم حکومت کی ایک کلیدی توجہ ہے، جس میں ماحولیات، صحت عامہ اور اسلام آباد کے سبزہ زار کے لیے درختوں کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے ۔ انہوں نے شہریوں کے فائدے کے لیے شہری ہریالی کے تحفظ اور توسیع کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں