14

IMF سے چھٹکارا کیلئے معاشی ترقی ناگزیر قرار (اداریہ)

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو آئی ایم ایف پر اور دوطرفہ شراکت داروں سے قرضوں پر انحصار جاری رکھا جائے یا پیداواری صلاحیت بڑھا کر برآمدات کی بنیاد پر معاشی ترقی حاصل کر کے آئی ایم ایف کو الوداع کہا جائے قرض پر گزارہ نہیں کر سکتے’ برآمدات کا فروغ اور پیداوار بڑپانا IMF سے چھٹکارے کا واحد راستہ ہے، معیشت کا مجموعی حجم 10کھرب ڈالر ہونا چاہیے، برآمدات کو آئندہ 4برس میں 60ارب ڈالر اور 2035ء تک 100 ارب ڈالرز سے تجاوز کرنا ہو گا اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پاکستان کی جی ڈی پی 600 ارب ڈالر تک محدود رہے گی جبکہ ہدف 10کھرب ڈالر ہونا چاہیے، صنعتی شعبے کو قومی تعطیلات میں بھی فعال رکھنے کی تجویز ملی ہے ترقی کیلئے جھٹیوں میں کام کرنا ہو گا مالی سال کے پہلے 6ماہ میں 210 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز خرچ کئے جا چکے ہیں گزشتہ دور حکومت میں 6فیصد گروتھ کیلئے امپورٹ کھولی گئیں اس سے تجارتی خسارے میں 50 ارب ڈالر اضافہ ہوا غیر ملکی زرمبادلہ پاکستان کی معیشت کیلئے آکسیجن ہے ہم مصنوعی جی ڈی پی گروتھ نہیں حکومت کو ایکسپورٹ ایمرجنسی لگانے کی تجویز دی ہے پاکستان امریکہ اور چین سے 10ہزار اسکالرشپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے زیتون اور چائے کی مقامی پیداوار کو فروغ دے رہے ہیں پیر کو دسمبر 2025ء کے ماہانہ ترقیاتی اپڈیٹ کے اجراء کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا وزیراعظم شہباز شریف نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے جو موجودہ 7ارب ڈالر IMF ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلٹی کی تکمیل کے بعد IMF کے بغیر معیشت چلانے کا روڈ میپ تیار کرے گی انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدات میں اضافہ کے لیے کم ویلیو مصنوعات سے ہائی ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی طرف منتقل ہو رہی ہے جبکہ چند منتخب شعبوں پر توجہ دیکر اربوں ڈالر کی برآمدات حاصل کی جائیں گی برآمدات میں آئندہ چند برسوں میں 20 ارب ڈالر تک اضافے کی گنجائش موجود ہے اضلاع کی سطح پر برآمداتی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور پاکستان کو برآمدات کے میدان میں آگے بڑھانے کیلئے سخت محنت کی ضرورت ہے،، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی یہ بات حرف بحرف سچ ہے کہ پاکستان کو معاشی ترقی پر گامزن کرنے کیلئے آئی ایم ایف پر کم سے کم انحصار کرنا ہو گا جب تک آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جاتا ہماری معیشت بہتر نہیں ہو سکتی اس حوالے سے ملکی برآمدات میں اضافہ کا ہی اس کا حل ہے برآمدات میں کمی کی وجہ سے ہم ترقی کے میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں وفاقی وزیر نے معاشی ترقی کیلئے حکومتی حکمت عملی بارے بھی بتا دیا ہے لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملکی برآمدات میں اضافہ کیلئے وہ تمام اقدامات یقینی بنائے جن کی بدولت ہماری برآمدات میں اضافہ ہو اس حوالے سے صنعتکاروں کو بھی اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ مصنوعات کا معیار بہتر کرنا چاہیے تاکہ بیرون ملک پاکستان کا امیج قائم رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں