7

احتجاجی سیاست،PTIمشکلات سے دو چار

اسلام آباد (بیوروچیف) علیمہ خان کے اعلان سے یوم احتجاج کے غبارے سے ہوا نکل گئی ، تحریک انصاف کے کارکنوں کی احتجاجی سیاست میں عدم دلچسپی سے خان فیملی پسپائی پر مجبور ہیں۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے بانی کی بہن علیمہ خان کے حیرت انگیز اعلان نے کہ 8 فروری کی کال عمران خان کی نہیں اسے حزب اختلاف کے اتحاد نے دیا ہے یوم احتجاج اور تحریک انصاف کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے حالانکہ ان کے مقرر کردہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی بار بار کہتے آئے ہیں کہ 8 فروری کو امیڈیٹ پاور پہیہ جام اور شٹر ڈائون کی ہڑتال کے لئے اسے عمر ان خان نے حکم دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی احتجاجی سیاست میں عدم دلچسپی نے خان فیملی کو پسپائی پر مجبور کردیا ہے جسے ہر ہفتے ا ڈیالہ جیل کے باہر اپنے کارکن جمع کرنے میں ہزیمت کا سامنا رہتا ہے اس منگل کو اڈیالہ کے باہر دس ہزارکا نعرہ تحریک انصاف اور علیمہ خا ن نے سوشل میڈیا کے ذریعے دیا تھا اور وہاں پانچ سو افراد بھی یکجا نہیں ہوسکے تھے آنے والے لوگوں نے اعلان کے مطابق قرآن خوانی کرنے کی بجائے علیمہ خان کی خوشنودی کے لئے نعرے لگانے پر اکتفا کیا یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ پولیس کی کسی انسدادی کارروائی کے بہتر ہی یہ کارکن شدید سردی کے اترنے سے پہلے ہی منتشر ہوگئے کئی ہفتوں کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ پولیس نے پانی کی توپ یا آنسو گیس یا ڈنڈا چلائے بغیر محض پوزیشن سنبھالی تھی کہ کارکن تتر بتر ہوگئے۔ پتہ چلا ہے کہ گزشتہ سے پیوستہ منگل کو سور یاسین کا ختم کرایا گیا تھا پھر قرآن خوانی کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اب جبکہ 8 فروری سے پہلے تین منگل رہ گئے ہیں تحریک انصاف اڈیالہ کے باہر درس حدیث اور آخری منگل کو مناجات کی مجلس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے ان کے احتجاج کو مکمل مذہبی رنگ مل جائے گا۔ اس مرتبہ منگل کو بانی تحریک و جیل میں اس کے لئے فراہم کردہ کتب بھی پہنچادی گئی ہیں اور بشریٰ بی بی سے بھی ملاقات کرادی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں