13

موسمیاتی تبدیلی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کا تناظر

موسمیاتی تبدیلی محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ اب ایک سنجیدہ معاشی اور سماجی چیلنج بن چکی ہے، خصوصا پاکستان جیسے زرعی معیشت پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے۔ اگرچہ پاکستان کا عالمی گرین ہاس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہایت کم ہے، تاہم اس کے باوجود یہ ملک موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات جھیلنے والے ممالک میں شامل ہے۔پاکستان کی معیشت میں زراعت کا حصہ تقریبا 20 تا 23 فیصد ہے جبکہ 30فیصد سے زائد آبادی کا روزگار براہِ راست اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر متوقع بارشیں، طویل خشک سالی اور تباہ کن سیلابوں نے زرعی پیداوار کو شدید متاثر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث گندم جیسی بنیادی فصل کی پیداوار میں 10تا 15 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے، جس سے قومی خوراکی ذخا ئر اور غذائی تحفظ پر دبائو میں اضافہ ہوا ہے۔سیلاب اور خشک سالی کے اثرات سن 2022اور 2024کے شدید سیلابوں نے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں گندم، چاول اور دیگر اہم فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ فصلوں کے نقصان نے نہ صرف خوراک کی دستیابی کو متاثر کیا بلکہ زرعی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچایا۔دوسری جانب سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں مسلسل خشک سالی نے پانی کی قلت کو مزید سنگین بنا دیا۔ اس صورتحال نے کسانوں کو کم پیداوار دینے والی یا کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی طرف جانے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں غذائی اجناس کی کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوا۔خوراک کی قیمتوں میں اضافہ جب موسمیاتی عوامل کی وجہ سے زرعی پیداوار کم ہوتی ہے تو خوراک کی سپلائی متاثر ہوتی ہے، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں 2022کے بعد آٹا، چاول اور سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ سیلاب کے بعد ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں 30تا50فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ خوراک کی قیمتوں میں اس تیزی سے ہونیوا لے اضافے نے عام شہری، خصوصا کم آمدنی والے طبقات کے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ نتیجتاً بہت سے خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس سے غذائی قلت اور غذائی عدم تحفظ کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ غذائی عدم تحفظ اور غربت اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO)کے مطابق پاکستان میں لاکھوں افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، خاص طور پر وہ علاقے جو سیلاب سے متاثر ہو ئے۔ اندازوں کے مطا بق ملک کی تقریباً 20 فیصد آباد ی غذائی قلت کا سامنا کر رہی ہے ، جبکہ بچوں میں غذائی کمی اور مناسب خوراک کی عدم دستیابی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ مستقبل میں خوراکی استحکام کے لیے اقدامات موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو فوری اور مثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانا، خشک سالی اور سیلاب برداشت کرنیوالی فصلوں کو فروغ دینا، اور موسمیاتی سمارٹ زراعت کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کیساتھ ساتھ پانی کے مؤثر انتظام اور غذائی نظام میں پائیداری لانے کے لئے حکومتی پالیسیوں اور پروگراموں کو مضبوط بنانا ہوگا، تاکہ مستقبل میں خوراک کی قیمتوں میں غیر متوقع اضا فے اور غذائی بحران سے بچا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں