صفدر آباد کے اردو بازار کی بیوٹیفکیشن سست روی کا شکار

صفدرآباد(نامہ نگار)اخبارات میں اردو بازار کی ماڈلنگ اور بیوٹیفکیشن میں تاخیر ہونے پر شائع ہونے والی خبروں کو ہوا میں اڑا دیا گیا۔کام پر مامور مستری اورمزدور بہت ڈھیلے ہیں ان کی صحت پر ان خبروں نے کوئی اثر نہ کیا اور یہ لوگ ”وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے” پر پورا اترتے ہوئے کام کرتے ہیں،حیران کن بات یہ ہے کہ شہریوں کی طرف سے ابھی تک کسی ایک شخص نے بھی آواز بلند نہیںکی اور سب دکاندار ویسے تو بڑ بر کرتے رہتے ہیں لیکن کسی نے اسسٹنٹ کمشنر کو باقاعدہ درخواست نہیں دی کہ کام کیوں لیٹ اور سلو اسپیڈ سے ہو رہا ہے۔شہری مریم نواز کی تقاریر میں یہ سنتے ہیںکہ کام چور اور نااہل گھر جائے گا،اگر ایسا ہے تو ابھی تک ان لوگوںکے خلاف کیوں ایکشن نہیں ہوا کہ اتنے کم مزدور اور مستری کیوں لگائے ،کام کرنے والے لوگ زیادہ کیوںنہیں لگائے گئے۔صرف دو تین آدمی کام کر رہے ہیں اس طرح تو ملکوں کا نظام کہیں بھی نہیں چلتا۔کمشنر لاہور،ڈپٹی کمشنرشیخوپورہ نوٹس لیں اور کام میں رفتار تیز کرنے کی ہدایات جاری فرمائیں۔لاہور میںکوئی کام ہورہا ہے تووہاں دن رات کام ہوتا ہے اور مہینوں کا کام دنوںمیںمکمل ہوتا ہے ،شہری پوچھتے ہیں کہ صفدرآباد میںایسا کیوں ہے۔تین ماہ ہو گئے بازار بنتے ہوئے،گاہکوں کا نام و نشان نہیںکہ بازار اکھڑا ہوا ہے، دکاندار فاقہ کشیوں پر نہ آ جائیںکہیں؟کوئی ہے سننے والا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں