20

سیاسی عدم استحکام ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ (اداریہ)

وطن عزیز کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی عدم استحکام ہے اور یہ ملک وقوم کو آگے نہیں بڑھنے دیتا جب بھی ملک میں ترقی وخوشحالی کے منصوبے بنتے ہیں یا غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات پید اہوتے ہیں تو سیاسی عدم استحکام کے باعث ملکی ترقی کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان ترقی یافتہ ملکوں سے پیچھے رہ گیا ہے اور مختلف بحرانوں نے ملک کو گھیرے میں لے رکھا ہے موجودہ حکومت سیاسی صورتحال سے فکرمند ہے اور متعدد بار سیاسی راہنمائوں اور پارٹیوں کے سربراہوں کو مذاکرات کی دعوت دے چکی ہے مگر صورتحال میں بہتری نہیں آ رہی پاکستان میں بیشتر وقت مارشل لائی حکومتوں کا دور رہا اگر سویلین حکومتیں قائم رہیں و ان کو عدلیہ کے ذریعے آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی 2018ء اور 2024ء کے الیکسن کو پاکستان کی تاریخ کے متنازعہ انتخابات کے طور پر یاد رکھا جائے گا اپوزیشن نے نتائج تسلیم نہیں کئے نواز شریف 2018ء کے نتائج تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھے لیکن آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان نواز شریف کو پارلیمنٹ میں لے آئے تحریک چلانے کی صورت میں ایک بار پھر مارشل لاء لگنے کا خطرہ تھا سیاست دانوں کی حکمت عملی کے نتیجہ میں عمران خان نے پونے چار سال گزاراہ کیا جب ملک کی کشتی ڈوبنے لگی تو ٹکڑوں میں تقسیم اپوزیشن ایک ہو گئی اور پھر عمران خان کو چلتا کر دیا پی ٹی آئی اس وقت سیاسی استحکام کی راہ میں رکاوٹ ہے سوشل میڈیا پر اداروں کے مخالف مہم چلائی جا رہی ہے جس کے اثرات ملک کی ترقی پر بھی پڑ رہے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کے باعث بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے بیرون ملک کے سرمایہ کار اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر پاکستان میں سیاسی استحکام نہ آ سکا تو ان کا سرمایہ ڈوب بھی سکتا ہے، کسی بھی ملک میں اس وقت کے بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہوتی جب تک اس ملک میں سیاسی حالات میں بہتری نہ آئے سیاسی عدم استحکام ملکی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی احتجاج کیلئے تیاریاں کر رہی ہے اور ان کا ایجنڈہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے جبکہ حکومت کا یہ موقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو عدالت ہی ریلیف دے سکتی ہے البتہ حکومت ان کی پارٹی کی موجودہ قیادت سے مذاکرات کر کے سیاسی عدم استحکام کو کم کرنے کیلئے کردار کیلئے تیار ہے موجودہ پی ٹی آئی قیادت کو پارلیمنٹ میں اپنا بھرپور سیاسی کردار ادا کرنے کی حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے اور پارلیمنٹ کے فورم پر بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ سیاست دانوں کیلئے اس سے بہتر کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے احتجاجی سیاست نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کیا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن اپنے اندر تبدیلی لائے اور ملک میں سیاسی استحکام کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے اسی میں ملک وقوم کی بھلائی کا راز مضمر ہے اور ترقی کا ضامن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں