7

ایران اکیلا نہیں ہے

کشیدگی کی فضا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ امریکہ واحد سپر پاور ہے اور آخری خبریں آنے تک ٹرمپ سپر مین بن کر پوری کائنات کو تسخیر کرنا چاہتا ہے لیکن بڑا دوراندیش ہے ٹیسٹر لگاتا ہے اور موقع محل دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔ کبھی دھمکیوں سے ڈرانے کی کوشش کرتا ہے، کبھی امن کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی اپنی باڈی لینگویج سے ہنسانے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی موج کا بندہ ہے کسی وقت کچھ بھی کرسکتا ہے۔ امریکہ نے ماضی میں بھی ہر جگہ ٹانگ اڑانے کی کوشش کی ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری وساری ہے تاہم گیلی جگہ پر پائوں نہیں رکھتا ہے ویسے بھی اس کا پائوں بھاری ہے جس جگہ یہ پائوں رکھا جاتا ہے اس جگہ کی حالت کے بارے میں جگہ ہی بتا سکتی ہے ثبوت کے طور پر افغانستان کیس سٹڈی ہے۔ ٹرمپ سپر مین اور پھر ایران کا سرتسلیم خم نہ کرنا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ سارے اسلامی ممالک امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ مسلمان عوام امریکہ جانے کی شدید خواہش مند۔ ویسے بھی امریکہ جیسے ملک کو آنکھیں کھول کر دیکھنے کی ضرورت ہے ہو سکتا ہے ایسا کرنے سے ہماری آنکھیں کھل جائیں اور ہم بھی گریٹ اسلامک ورلڈ کا خواب دیکھنا شروع کردیں۔ بلاشبہ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہوتی ہے تاہم زیادہ تر خواب ادھورے ہوتے ہیں اور ان خوابوں کو پورا کرنے کے لئے نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک کے مسلمانوں کو ایک ہونا پڑتا ہے اور ہم سب بالکنائزیشن کی بدولت پارہ پارہ ہو چکے ہیں. پہلی جنگ عظیم اور متذکرہ بالا فیصلہ۔ مسلم مخالف قوتوں کا فہم وفراست۔ لو اب لڑتے رہو۔ (فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں۔۔کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں)۔ ویسے ہم نے باتیں کیں اور خوب کیں بلکہ ہماری باتوں کا بتنگڑ بن گیا اور ہم سب مسلم ممالک ایک دوسرے سے کھچے کھچے رہنے لگے اور ہمیں ایک دوسرے سے خطرہ لاحق ہو گیا۔ ایران عراق جنگ اور وہ بھی کئی سال تک۔ افغانستان میدان جنگ اور ہم مسلمان ایک دوسرے سے بدظن۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے فا صلے ۔ ترکی اور سعودی کشمکش۔ قطر اور متحدہ عرب امارا ت کے معاملات۔ افغانستان کا پاکستان کے خلاف فل تھراٹل سازش کا پروگرام وغیرہ وغیرہ ۔ سب کی نظریں امریکہ کی طرف۔ بچائو بچائو کی صدائیں۔ ویسے ہم زندہ قوم ہیں اور ہمارے ہاں قوم کی وحدت کا تصور قرآن وحدیث میں پایا جاتا ہے۔ اور اس وحدت کو یقینی بنانے کے لئے ہم سب کو ایک ہونا ہوگا۔ اس کے علاوہ سپر مین کا ایک ہی توڑ علامہ اقبال کا مرد مومن اور پھر تسخیر کائنات۔ ہم مسلمان، ہمارا ماضی اور پھر ہمارا مستقبل۔ اسرائیل کو ہمارے سر پر لا کر بٹھا دیا گیا ہے اور وہ بھی ایک بدمعاش کے طور پر۔ امریکہ جب ہم سب کو پیغام دینا چاہتا ہے تو اسرائیل تھوک کے حساب سے غزہ کے نہتے مسلمان مارنا شروع کردیتا ہے اور ہم سب مل کر اسرائیل کی تباہی وبربادی کی دعائیں کرتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کا اللہ بھلا کرے کہ یہ محض اپنے آپ کو دعائوں تک محدود نہیں رکھتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اسرائیل کو آنکھیں بھی دکھا دیتے ہیں جس سے اسرائیل تھوڑا بہت سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور مذاکرات کی ٹیبل پر آکر معاہدہ کرنے پر آمادہ ہوتا ہے۔ پاکستان کا ایٹم بم دنیا کو چھوٹا موٹا نہیں بہت بڑا پیغام دینے کے لئے کافی ہے اور پھر ہم اس کے ماننے والے ہیں جو کافی بھی ہے اور شافی بھی ہے۔ قوت ایمانی اس وقت ناممکنات کو بھی ممکنات میں تبدیل کردیتی ہے جب مذکورہ قوت کے ساتھ عقل کا استعمال بھی ہوتا ہے اور ہم جنگ کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اپنی ٹیکنالوجی بہتر کرنے کی فکر کرتے ہیں اور اگر ہماری عسکری قوت بھی ٹھیک ٹھاک ہو تو ایسی صورت حال میں ہندوستان کو پاکستان کے خلاف شب خون مارنا مہنگا پڑجاتا ہے اور پوری دنیا کی ایک دفعہ تو آنکھیں کھل جاتی ہیں اور پاکستان کی پوری دنیا میں مانگ بڑھ جاتی ہے بقول شاعر (تیرے حاسدوں کو ملال ہے یہ نصیر فن کا کمال ہے۔۔تیرا قول تھا جو سند رہا تیری بات تھی جو کھری رہی) دشمن ہمیشہ پیچھے سے وار کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اکثر ایسی صورتحال میں وار (جنگ) شروع ہونے کا شدید اندیشہ ہوتا ہے۔ بیرونی مداخلت کی بدولت ایران کے کچھ مکینوں کو ایران کا خیال آگیا اور وہ اپنی ہی حکومت کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ امریکہ اور اسرائیل کی موجیں ہی موجیں ان کو تو انسانی بنیادی حقوق سے پہلے ہی بڑی محبت ہے اور ایران حکومت کا اپنے شرپسند لوگوں کے خلاف کاروائی کرنا۔ یہ تو بہت بڑا جرم ٹھہرا اور اس کے خلاف فوری کارروائی ہوگی اور امریکی بحری بیڑہ کی تیاری اور اس تیاری کا زبردست شوروغوغا تاہم روس اور چین کے مزاج کو بھی امریکہ کو دیکھنا ہوگا بصورت دیگر تیسری جنگ عظیم کے منڈلاتے بادل کیونکہ تنگ آمد بجنگ آمد۔ ہو سکتا ہے اقوام متحدہ بھی خواب غفلت سے بیدار ہو جائے بہرحال اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے البتہ انہونی کسی وقت بھی ہو سکتی ہے۔ مسلم ورلڈ بھی غیرت کھا سکتا ہے اور اخوت کے جذبوں سے یہ قوم سرشار ہو سکتی ہے اور ایسی صورت میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ انتظار انتظار اور بس انتظارایران اور اس کے خلاف امریکہ کی ممکنہ کارروائیوں کے امکان کی صورت حال انتہائی پریشان کن اور تکلیف دہ ہے۔ اس دفعہ خوش آئند بات یہ ہے کہ سعودی عرب، اومان اور ترکی جیسے ممالک نے امریکہ کے ان اقدامات کی مخالفت کی ہے۔ مجموعی طور پر بھی امریکہ کی وینزویلا کے صدر کے خلاف کاروائی کو بھی اچھا نہیں سمجھا گیا ہے۔ چین اور روس نے بھی اپنا ردعمل دیا ہے۔ ان حالات میں ایران کو بھی بڑا ہی دیکھ بھال اور سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھنے چاہئیں اور مسلم ممالک سے چھوٹے موٹے اختلافات ختم کرنا ہونگے۔ مسلمان ممالک کو بھی آئندہ کی صورتحال کو سمجھنا ہوگا۔ کہیں ایک ایک کر کے سارے مسلمان ممالک امریکہ کا نشانہ نہ بن جائیں اور پھر ہم دیکھتے رہ جائیں۔ اس پہلو کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں