5

موسمیاتی تبدیلی کے زراعت پر اثرات

موسمیاتی تبدیلی آج کے دور کا ایک اہم اور سنگین مسئلہ بن چکی ہے جس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر نمایاں طور پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے یہ مسئلہ اور بھی زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ ہماری معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے۔ بدلتا ہوا موسم، غیر متوقع بارشیں، شدید گرمی، طویل خشک سالی اور اچانک سیلاب زرعی نظام کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں کسان، صارف اور قومی معیشت سب ہی دبائو کا شکار ہیں۔گزشتہ چند دہائیوں میں موسم کے انداز میں واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ پہلے بارشیں ایک خاص وقت اور ترتیب سے ہوتی تھیں جس کی بنیاد پر کسان فصلوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے، لیکن اب بارشیں کبھی وقت سے پہلے اور کبھی بہت دیر سے ہوتی ہیں۔ بعض علاقوں میں بہت زیادہ بارشیں سیلاب کا سبب بنتی ہیں جبکہ کچھ علاقوں میں بارش نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور کسانوں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔درجہ حرارت میں اضافہ بھی زراعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ شدید گرمی فصلوں کی نشوونما کو متاثر کرتی ہے، خاص طور پر گندم، چاول اور مکئی جیسی اہم فصلیں زیادہ درجہ حرارت برداشت نہیں کر پاتیں۔ گرمی کی شدت سے زمین میں نمی کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں آبپاشی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف پانی کے وسائل پر دبائو پڑتا ہے بلکہ کسانوں کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔پاکستان پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار ہے اور موسمیاتی تبدیلی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا ابتدا میں تو سیلاب کا سبب بنتا ہے لیکن طویل مدت میں پانی کی قلت پیدا کر دیتا ہے۔ نہری نظام متاثر ہوتا ہے اور زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ اس صورتحال میں زراعت کو جاری رکھنا ایک مشکل کام بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بارانی زراعت کی جاتی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کے باعث کیڑوں اور بیماریوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ بدلتے ہوئے موسم کی وجہ سے ایسے کیڑے پیدا ہو رہے ہیں جو پہلے کسی خاص علاقے میں موجود نہیں تھے۔ یہ کیڑے فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور کسانوں کو زیادہ زرعی زہریں استعمال کرنے پر مجبور کرتے ہیں، جس سے ماحول اور انسانی صحت دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ فصلوں کی بیماریوں میں اضافہ بھی پیداوار میں کمی کا سبب بن رہا ہے۔سیلاب موسمیاتی تبدیلی کا ایک اور خطرناک نتیجہ ہے۔ پاکستان میں حالیہ برسوں میں آنے والے شدید سیلاب نے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کو تباہ کر دیا۔ کھڑی فصلیں برباد ہو گئیں، مویشی ہلاک ہو گئے اور کسان برسوں کی محنت سے محروم ہو گئے۔ سیلاب کے بعد زمین میں نمکیات کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے آئندہ فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ اس طرح ایک ہی قدرتی آفت کے اثرات کئی سال تک زراعت پر قائم رہتے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کا اثر صرف فصلوں تک محدود نہیں بلکہ مویشیوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ شدید گرمی اور پانی کی کمی کی وجہ سے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے۔ جانوروں کی صحت متاثر ہو رہی ہے جس سے دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی آمدنی کم ہو رہی ہے۔ چونکہ پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ مویشی پالنے سے وابستہ ہیں، اس لیے یہ مسئلہ سماجی اور معاشی سطح پر بھی سنگین نتائج پیدا کر رہا ہے۔ان تمام چیلنجز کے باوجود یہ ضروری ہے کہ ہم موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے موثر اقدامات کر یں ۔ جدید زر عی طریقو ں کو اپنانا، ایسی فصلو ں کی کاشت کو فروغ دینا جو کم پانی اور زیادہ گرمی برداشت کر سکیں، اور آبپاشی کے بہتر نظام متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کسانوں کو موسمی حالات کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کرنا بھی بہت ضروری ہے تاکہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔ حکومت کا کردار اس سلسلے میں نہایت اہم ہے۔ زرعی تحقیق پر سرمایہ کاری، کسانوں کو آسان قرضے، فصلوں کے بیمہ کے نظام اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آگاہی مہمات کے ذریعے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری کو فروغ دینا بھی ضروری ہے کیونکہ درخت ماحول کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے اور اس کے اثرات زراعت پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں غذائی قلت اور معاشی مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ہمیں اجتماعی طور پر اس مسئلے کا ادراک کرنا ہوگا اور اپنی زراعت کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنے کے لیے عملی قدم اٹھانے ہوں گے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں