13

پاکستان میں غیر معمولی سرد موسم اور گھریلو گھوڑوں کی صحت

موسمیاتی تبدیلی آج دنیا بھر کے ماحول اور زندگی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ پاکستان بھی اس عالمی مسئلے سے مستثنی نہیں ہے جہاں حالیہ برسوں میں موسموں کے غیر متوقع اتار چڑھا اور شدت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر اس سال ملک میں غیر معمولی سردی نے نہ صرف انسانوں بلکہ گھریلو جانوروں، خصوصا گھوڑوں کی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والے شدید سرد موسم میں درجہ حرارت میں غیر معمولی کمی، برف باری اور طویل سرد راتیں گھوڑوں پر جسمانی دبا (Cold Stress) کا باعث بنتی ہیں۔ اس دبائو سے ان کے مدافعتی نظام کمزور ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ مختلف بیماریو ں بالخصوص آنتوں کے پیراسائٹک انفیکشنز کے شکار بن جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، موسمیاتی تبد یلی کی وجہ سے بارشوں کے انداز اور شدت میں تبدیلی آتی ہے جس سے چراگاہوں کی حالت متاثر ہوتی ہے اور پیراسائٹس کیلئے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔
سرد موسم گھوڑوں کی وضعی عادات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ شدید سردی کے دوران گھوڑے زیادہ تر زمین کے قریب چرنے اور محدود جگہوں پر جمع ہونے لگتے ہیں، جس سے چراگاہ آلودہ ہو جاتی ہے اور پیراسائٹ انفیکشنز کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ تمام عوامل موسمیاتی تبدیلی کے پیچیدہ اثرات کا حصہ ہیں جو گھوڑوں کی صحت کو متاثر کر کے انسانی زندگی اور دیہی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
“ون ہیلتھ”کے نظریے کے تحت، گھوڑے انسانی اور حیوانی صحت کے درمیان ایک اہم ربط کا کردار ادا کرتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بڑھنے والی بیماریوں کی پیچیدگیاں نہ صرف جانوروں بلکہ انسانوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں انسان اور جانور قریبی ماحول میں رہتے ہیں۔ اس لیے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سمجھنا اور اس کے مطابق موثر اقدامات کرنا عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
پاکستان میں گھوڑوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر ر کھتے ہوئے ان کی دیکھ بھال، مناسب خوراک، بہتر رہا ئش ، باقاعدہ ڈی ور منگ اور چراگاہوں کی صفائی جیسے اقداما ت کو فروغ دیا جائے۔ اسکے علاوہ موسمیاتی تبد یلی کے اثرات پر تحقیق اور نگرانی کا تسلسل بھی لاز می ہے تاکہ مستقبل میں بہتر حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں غیر معمولی سرد موسم موسمیاتی تبدیلی کی ایک نمایاں علامت ہے، جس کے منفی اثرات گھوڑوں کی صحت اور عوامی صحت پر گہرے پڑ رہے ہیں۔ اس سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے سائنسی تحقیق، اجتماعی آگاہی اور مربوط حکومتی پالیسیاں لازم ہیں تاکہ جانوروں اور انسانوں دونوں کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں