8

وزیراعظم کے شفافیت’ احتساب کیلئے اہم اقدامات (اداریہ)

شفافیت اور احتساب کسی بھی ریاست کے مضبوط اور مؤثر نظام حکمرانی کے بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں جب ریاستی ادارے شفاف انداز میں کام کریں اور عوامی نمائندے اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہوں تو نہ صرف کرپشن کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوتا ہے پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران شفاف طرز حکمرانی اور احتسابی نظام کو بہتر بنانے کیلئے مختلف سطحوں پر اقدامات کئے گئے ہیں جن کا مقصد کرپشن کی روک تھام اور ادارہ جاتی اصلاحات کو فروغ دینا ہے اس حوالے سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ملک میں اہم اصلاحی اقدامات تیزی کے ساتھ جاری ہیں میاں شہباز شریف شفافیت اور انتظامی نظم وضبط کے حوالے سے ایک عملی اور نتیجہ خیز طرز حکمرانی کے قائل سمجھے جاتے ہیں ان کے دور حکومت میں سرکاری امور میں تاخیر رکاوٹوں اور بدانتظامی کو کم کرنے پر خاص توجہ دی گئی وزیراعظم نے بیوروکریسی کو کارکردگی’ جواب دہی اور وقت کی پابندی کا پابند بنانے کی کوشش کی’ جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا گیا ان کا موقف رہا ہے کہ شفاف فیصلے اور بروقت عملدرآمد ہی عوامی اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں کرپشن کی روک تھام کے حوالے سے شہباز شریف نے ادارہ جاتی اصلاحات اور ڈیجیٹل نظام کے فروغ پر زور دیا سرکاری خریداری’ مالیاتی نظم وضبوط اور مضبوط اور منصوبہ بندی کے عمل میں شفاف طریقہ کار کو اپنانے کی کوشش کی گئی وہ بار بار اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ احتساب کا عمل سیاسی انتظام کے بجائے قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ نظام پر عوام کا اعتماد قائم رہے ان کا نقطہ نظر شفافیت اور قانون کی بالادستی کے اصولوں کو تقویت دینا ہے جو کسی بھی موثر اور ذمہ دار حکومت کیلئے ناگزیر ہیں، شہباز حکومت نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ کرپشن محض مالی بدعنوانی کا نام نہیں بلکہ یہ ریاستی کارکردگی’ عوامی خدمات اور معاشی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اسی سوچ کے تحت احتساب کے موجودہ نظام کو مضبوط بنانے قوانین میں بہتری لانے اور سرکاری معاملات میں شفافیت بڑپانے پر توجہ دی گئی سرکاری خریداری ترقیاتی منصوبوں اور مالیاتی فیصلوں میں شفاف طریقہ کار کو اپنانا ان اصلاحات کا بنیادی حصہ رہا ہے شفافیت کے فروغ کیلئے ڈیجیٹل نظام کا استعمال ایک اہم قدم ثابت ہوا ہے جس سے انسانی مداخلت کم ہوئی اور بدعنوانی کے امکانات محدود ہوئے شفافیت اور اصلاحات کا مقصد نہ صرف سرکاری امور کو تیز بنانا ہے بلکہ عوام کو یہ اعتماد دینا بھی ہے کہ فیصلے میرٹ اور قواعد کے مطابق ہو رہے ہیں، مالیاتی نظم وضبط کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی گئیں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے اقدامات کئے گئے نان فائلرز کی حوصلہ شکنی اور ڈیجیٹل ٹریننگ جیسے اقدامات کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنایا ہے ایک دستاویزی معیشت میں غیر قانونی لین دین کے امکانات کم ہو جاتے ہیں جو بالواسطہ طور پر کرپشن کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، شہباز حکومت کی جانب سے شفافیت’ احتساب اور کرپشن کی روک تھام کیلئے اقدامات ایک سمت کا تعین ضرور کرتے ہیں ڈیجیٹل اصلاحات’ قانونی بہتری’ پارلیمانی نگرانی اور عوامی رسائی جسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور یہ کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہیں’ ادارے مضبوط ہوں اور عوام بھی اس عمل میں اپنا کردار ادا کریں شفافیت اور احتساب کسی ایک حکومت کا نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے اسی سوچ کے ساتھ ہی پاکستان ایک مضبوط اور بااعتماد نظام حکمرانی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں