25

ٹیکسٹائل سٹی یا سٹی آف منشیات فروشی۔۔۔؟

منشیات فروشی کرنیوالے وہ ناسور ہیں جنہوں نے لوگوں کی زندگیوں میں زہر گھولنے کو اپنا مکروہ دھندہ بنا رکھا ہے، انسانیت کے ان بدترین دشمنوں کا شکار لوگ جگہ جگہ نظر آتے ہیں، منشیات فروشی کرنیوالوں کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ان کا نشانہ بننے والے لوگوں اور ان کے گھر والوں پر کیا قیمت بیت رہی ہوتی ہے، نشہ کا عادی ایک شخص اپنے ماں باپ’ بیوی بچوں’ عزیزوں’ رشتہ داروں اور دوستوں کی نظروں میں اپنی قدر واہمیت کھو بیٹھتا ہے، اپنے’ بیگانے سبھی اس سے آنکھیں چراتے نظر آتے ہیں، دیکھنے میں آیا ہے کہ نشہ کا عادی بن جانے والے کسی بھی شخص کو پہلے پہل اس کے گھر والے سمجھا کر اسے نشہ کے عفریت سے بچانا چاہتے ہیں کہ ان کا عزیز اس عذاب سے اپنی جان چھڑوالے مگر اکثر اوقات وہ اس نیک مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے اور مایوس ہو کر اپنی مخلصانہ کوششیں ترک کر دیتے ہیں، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے نیک اور عظیم مقصد کی تکمیل کے لیے کوشاں رہیں، اگر کسی شخص کا کوئی عزیز یا کسی گھر کا کوئی فرد نشہ کی لت میں مبتلا ہو بیٹھا ہے تو اسے کسی بھی صورت تنہا اور بے آسرا نہیں چھوڑنا چاہیے، اس دنیا میں آپ کو ایسے بے شمار واقعات ملیں گے کہ انسانوں نے اپنے عزم وہمت سے کام لیتے ہوئے ناممکن کو ممکن بنا ڈالا’ ہمیں اس بات کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے کہ منشیات فروشی کا مکروہ دھندہ کرنیوالے لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں، منشیات فروشوں نے لوگوں کو نشہ کے عادی بنا کر ان کی اور ان گھر والوں کی زندگیاں عذاب بنا ڈالیں، فیصل آباد پنجاب کے دوسرے بڑے شہر اور ٹیکسٹائل سٹی کے نام سے اپنی خوبصورت پہچان رکھتا ہے مگر یہاں پر روزانہ منشیات فروش اتنی تعداد میں پکڑے جا رہے ہیں کہ لگتا ہے کہ یہ ٹیکسٹائل سٹی بلکہ سٹی آف منشیات فروشی تھا، اﷲ کا شکر ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف لوگوں کو درپیش مسائل ومشکلات کے حل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، پنجاب بھر سے منشیات فروشی کے خاتمے کیلئے انہوں نے جو گرانقدر اقدامات اٹھائے وہ قابل تحسین ہے، بلاشبہ! منشیات فروشوں کا قلع قمع کرنا بیحد ضروری ہے، ان لوگوں نے نسل نو کی رگوں میں زہر گھولنے سے بھی گریز نہیں کیا اور اپنے مکروہ دھندے کو تعلیمی اداروں تک پھیلا دیا، لہٰذا ان سے کسی بھی طرح کی رعایت نہیں ہونی چاہیے، وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے احکامات کی روشنی میںمنشیات فروشی کے مکروہ سلسلے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سخت اقدمات کئے گئے، فیصل آباد سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں سے ریکارڈ تعداد میں منشیات فروشوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں اور بھاری مقدار میں منشیات بھی برآمد کی جا چکی ہیں’ لوگوں کی جان ومال سے کھیلنے والے انسانیت کے ان بدترین دشمنوں کی گرفتاریاں اور منشیات برآمدگی کا سلسلہ پورے زور وشور سے ہے اور یہ سلسلہ اس وقت جاری رہنا چاہیے جب تک آخری منشیات فروش بھی نہیں پکڑا جاتا اور ان سے منشیات برآمد کر کے اسے تلف نہیں کر دیا جاتا، یہ بات غور طلب ہے کہ منشیات فروشی کے مکروہ دھندے نے اس قدر زور کیسے پکڑا؟ پولیس کی سستی’ غفلت اور لاپرواہی سمیت اس محکمے میں موجود کالی بھیڑیں منشیات فروشی بڑھنے کا باعث ہیں، اگرچہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اچھے اور برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں، محکمہ پولیس میں اچھی شہرت کے حامل پولیس افسران واہلکاران کی کمی نہیں مگر محکمہ پولیس میں موجود رشوت خور عناصر نے لالچ کی ہوس میں اندھے ہو کر جرائم پیشہ عناصر کو رعایت دینے سے بھی گریز نہیں کیا یہ مکروہ دھندہ پولیس کی معاونت کے بغیر نہیں چل سکتا اس لئے ضروری ہے کہ منشیات فروشوں کو رعایت دینے والے پولیس اہلکاروں کی لسٹیں بنائی جائیں اور انہیں ان کے کئے کی سزا دی جائے، منشیات فروشی کا سلسلہ نہ رکنے سے ہماری نوجوان نسل تباہی کی طرف جا رہی ہے، وہ شروع میں نشہ کو استعمال کرتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ ایک دو بار استعمال کر کے چھوڑ دیں گے مگر اصل میں وہ اپنی موت کی طرف جا رہے ہوتے ہیں اور کئی لوگ ذہنی تنائو کے لیے بھی استعمال کر کے اس کے عادی بن جاتے ہیں، ذہنی تنائو کی وجوہات کی فہرست طویل ہے جس میں گھریلو جھگڑے’ والدین کا بچوں کو وقت نہ دینا’ محبت میں ناکامی وغیرہ شامل ہے، نشہ کا استعمال کرنے والے اپنے پیاروں اور دوست احباب سے دور ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ فٹ پاتھوں’ پارکوں وغیرہ میں بسیرا کئے نظر آتے ہیں، منشیات فروشوں کیساتھ ساتھ ہمارے معاشرے کا کچھ طبقہ بھی نشہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے استعمال ہو رہا ہے، کئی میڈیکل سٹور مالکان نشہ آور ادویات فروخت کرتے ہیں منشیات کے بے دریغ استعمال نے ایک خوفناک حقیقت بن کر لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، بالخصوص نوجوان نسل منشیات کے استعمال سے ملک کے لیے معاشی بوجھ بن رہی ہے، ماضی کی نسبت آج تعلیم عام ہو چکی ہے لیکن آج کے نوجوان کیوں اس شعور سے محروم ہیں کہ نشے جیسی بیماری سے نہ صرف خود اپنی زندگی برباد کرتے ہیں بلکہ ان کے اہلخانہ’ ان کے چاہنے والے’ اردگرد کے لوگ اور معاشرہ بہت حد تک متاثر ہوتا ہے، یہ بات خوش آئند ہے کہ منشیات فروشوں کو نکیل ڈالنے کیلئے سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ انہیں ماضی میں کیوں نہیں پکڑا گیا، بہرحال دیرآید، درست آید کے مصداق اب ان ناسوروں کو کیفرکردار تک پہنچا کر دم لیا جائے، منشیات فروشوں کو عدالتوں سے سزائیں دلانے کو یقینی بنانے پر بھی مکمل توجہ دینی چاہیے، عدالتوں میں ان کے چالان پیش کرتے ہوئے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں اور ان کیخلاف ٹھوس شواہد پیش کئے جائیں تاکہ ان کو کئے کی سزائیں مل سکیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی سرگرمیوں سے فراغت کے اوقات میں نوجوانوں کو مصروف رکھنے کیلئے کھیلوں اور تخلیقی سرگرمیوں کا انعقاد کرے تاکہ نوجوانوں کا رجحان غلط سرگرمیوں کی طرف نہ جائے، حکومت اور تعلیمی اداروں کے علاوہ ماں باپ کو بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے نبھانی چاہیے، ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے، اس لئے ماں باپ کا بچوں کی تر بیت پر مکمل توجہ دینا، ان کے مسائل سے غافل نہ ہونا اور انہیں اچھے’ برے کی تمیز سکھانا ضروری ہے اور ہم سب کو چاہیے کہ اپنی ذمہ دایاں پوری کریں تاکہ معاشرے کو منشیات سے پاک اور نوجوان نسل کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں