3

پبلک پرائیویٹ جامعات اور فیس سٹرکچر

لکھنا لکھانا بہت ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اچھا لکھنا جانتے ہوں۔ شاید اسی لئے ایرانی شاعر باشی نے بہت ہی پہلے لکھ دیا تھا (گر تومی خواہی کہ باشی خوش نویس۔۔۔می نویس و می نویس و می نویس) اور لکھنے کے لئے پڑھنا بھی پڑھتا ہے لکھنے پڑھنے سے انسان میں شعور پیدا ہوتا ہے باشعور انسان کی سوچ بیدار ہوتی ہے اور وہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ عدالتوں میں اسی لئے ثبوت اکٹھے کئے جاتے ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جاسکے ویسے آج کل دودھ اور پانی کو الگ الگ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے اسی لئے ہمارے ہاں نیوٹریشن کے بہت مسئلے پیدا ہو رہے ہیں اور ہماری فوڈ اتھارٹی دن رات کام کرکے بھی سرخرو ہونے میں تاحال کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ خیر بات لکھنے لکھانے کی ہو رہی تھی۔اور لکھنے کو تو کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے لیکن ابلاغ کے حوالے سے ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور ان تقاضوں کو سمجھنا اور پھر سمجھ کر کوئی ایسا پیغام دینا جس سے سوچ اور فکر میں تبدیلی آئے بلکہ ہر پڑھنے والا سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ اس کو کس طرف جانا چاہیئے اور وہ کس طرف جارہا ہے۔ علم وادب کی خوبصورتی بھی یہی ہے اور دنیا کو خوصورت بنانے میں صاحبان فکرودانش نے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ہے اور ان کا نثری اور شاعری کا کام مدتوں یاد رکھا گیا ہے (پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ ۔۔۔۔مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں) تحریک وتاریخ پاکستان علامہ محمد اقبال کے ذکر کے بغیر نامکمل ہوتی ہے۔ ذہن سازی جب تک نہیں کی جاتی ہے اس وقت تک قوم کی تنظیم سازی کرنا ممکن نہیں ہے۔ سوچ کو بیدار کرنے کے لئے فوڈ فار تھاٹ ضروری ہوتا ہے۔ پنجابی زبان وادب کی اگر بات کی جائے بابا فرید، بلھے شاہ، سلطان باہو، پیر وارث شاہ، خواجہ غلام فرید اور پیر مہر علی شاہ جیسے صوفی شعرا نے اپنے کلام سے غیر مسلموں کو اپنا مذہب چھوڑنے پر تیار کردیا تھا اور یوں جو کام سلاطین دہلی کی تلواریں نہیں کرسکیں تھیں وہ کام ان بابوں کے شعروں نے کردکھایا تھا۔ اصل بات ہے کوالٹی کی۔ کوالٹی شاعری ہر سننے والے کو سوچنے پر مجبور کردیتی ہے ویسے تو شاعری نے ہی کئی حسینوں کو اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کر ان کی پگ نیچے کرنے پر بھی مجبور کردیا تھا اور نوجوانوں کو نکروں کھدروں میں تانک جھانک کرنے پر بھی مجبور کردیا تھا۔ ایسی شاعری تو خیر کن پڑوا دیتی ہے۔ کپڑے پھڑوا دیتی ہے اور جوتوں کا بھی امکان ہوتا ہے۔ شاعری شاعری میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ یہیں آکر تو کوالٹی کا ایشو پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں شاعری کے جملہ پہلوئوں کو تفصیلاً بیان کیا ہے۔ افسوس ہم نے قرآن کو طاق پر رکھ دیا اور اس کے علاوہ ہر کتاب خرید کر پڑھنے کی کوشش کرتے رہے شاید یہی وجہ ہے کہ نہ تتر رہے اور نہ بٹیر۔ ”میں ہو گیا کجھ ہور نیں مینوں کون پچھانے گا”۔ اپنی چیز کے بارے میں پوری واقفیت نہ ہو تو انسان ٹامک ٹوئیاں مارتا ہے اور نہ ادھر کا رہتا ہے اور نہ ہی ادھر کا بلکہ کہیں کا بھی نہیں رہتا۔ اس بھل بھلیکھے میں وقت پورا کردیتا ہے اور پھر بے چینی، ڈپریشن اور غیر یقینی صورتحال۔ایک دوسرے کو الزام اور پھر الزام در الزام یوں معاشرہ فریگمنٹڈ ہو جاتا ہے اور ماں جائے بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں اور بقول شاعر (دوست دوست نہ رہا یار یار نہ رہا۔۔۔زندگی مجھے تو تیرا اعتبار نہ رہا) بے اعتباری ایک ایسی دیمک ہے جو سارے معاشرے کو دیکھتے ہی دیکھتے چاٹ جاتی ہے اور دیکھنے والے کو احساس نہیں ہوتا۔ حساس لوگ بڑے اہم ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایسے حالات پر چپ نہیں رہ سکتے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو جھنجھوڑنے کی پوری شعوری کوشش کرتے ہیں اور اگر واقعی بات لوگوں کے پلے پڑ جائے تو پھر راتوں رات تبدیلی۔ مکرر بات سوچ بچار اور غور وفکر کی ہے ورنہ جنون، شورش اور ہیجان۔ منفیت کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور ہر حد کو پار کرنے والے اپنے آپ کو خراب کر رہے ہوتے ہیں اپنے ماحول کو خراب کررہے ہوتے ہیں اپنے لوگوں کو خراب کررہے ہوتے ہیں بلکہ ہر چیز کو ہی خراب کررہے ہوتے ہیں۔ خرابہ اور پھر خرابے کے نتیجے میں اقدامات۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہوشیار باش۔ ہوش کے ناخن لینا وقت کی ضرورت ہے اور شوریدہ سری کا ایک ہی حل۔ جیسے بھی ہو سکے آنکھیں کھولنا ویسے آنکھیں پھوڑنا بھی ہوتا ہے لیکن دانائی اور حکمت میں ہی ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے۔یہی بات ہے جس کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور پھر اس ساری بات کو مارکیٹ کرنا ہوگا۔ ویسے تو اب تقریبا ہم سب پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ خواندگی کا تناسب نکالنے کے لئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کتنے لوگ محض پڑھ لکھ سکتے ہیں۔ پنجاب کے اعداد و شمار کے اعتبار سے سب سے کم خواندگی والا ضلع راجن پور ہے اور مجھے مذکورہ ضلع کے قیام کے دوران بہت ہی کم لوگ وہاں ایسے ملے ہیں جو اپنا نام پڑھ اور لکھ نہیں سکتے تھے۔ مجموعی طور پر اتنی مایوس کن صورتحال نہیں تھی۔ راجن پور کی حد تک مجھے یقین ہے کہ شرح خواندگی کا تخمینہ لگاتے ہوئے بظاہر اعداد وشمار کے حساب کتاب میں ڈنڈی ماری گئی ہے۔ ویسے تو ہمارے تقریبا سب ہی معاملات میں ڈنڈی ماری گئی ہے اور اب چیزوں کو سدھا پدھرا کرنے کے لئے ڈنڈا چلانا پڑ رہا ہے کیونکہ ڈنڈا وگڑے تگڑوں کے لئے ضروری ہوتا ہے بلکہ بہت ہی ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ ہر شخص اپنی اپنی بولی بولنا شروع ہوجاتا ہے ہر شخص کی بولی نہیں لگائی جاسکتی ہے اور بولی میں اتار چڑھائو کا امکان بھی ہوتا ہے۔ مارکیٹ کا ایک اپنا میکانزم ہے اور اس سارے عمل کو مانیٹر کرنا اس لئے ضروری ہوتا ہے تاکہ سٹیٹ انٹرست بھی ملحوظ خاطر رہے۔ اصل بات تویہ ہے کیونکہ ریاست کا تحفظ شرط اول ہے۔ ریاست سے وابستگی ظاہر کرنا ہم سب کا فرض اولین ہے اور ریاست کے لئے کام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ سارا کچھ کرنے سے ہی ہم ایک ذمہ دار شہری ہونے کا حق ادا کر سکتے ہیں۔ تاحال حق ادا نہیں ہو سکا پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی نوجوان نسل کو پڑھا لکھا کر آئندہ آنے والے وقتوں کے لئے تیار کرے۔ ہماری جامعات۔ فیس سٹرکچر آسمان سے باتیں کرے اور کوالٹی ایجوکیشن کا شدید فقدان۔ صاحب حیثیت ڈگریوں کے انبار لگا رہے ہیں اور نوکری ندارد۔ اچھا انسان بننا خواب بن گیا ہے۔ اور جن کے والدین بے چارے اس لئے بچوں کو پڑھا نہیں رہے کہ وہ بچوں کی تعلیم کے آدھے سفر میں ہی گھر کے سارے اسباب بیچ چکے ہیں۔ اور اب تعلیم ان کے بچوں کا خواب بن گیا ہے۔ کاش سرکار اور پرائیویٹ مالکان اس پہلو کو مدنظر رکھتے تو ہمارا نوجوان تعلیم وتربیت کے حوالے سے ہم سب کا شکرگزار ہوتا اور ہم سب پڑھے لکھے بھی ہوتے اور وقت خوش خوش کاٹنے کا طریقہ جان جاتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں