7

ٹرمپ تنازعہ کشمیر بورڈ میں لا سکتے ہیں’ بھارت خوفزدہ (اداریہ)

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت کو یہ خوف لاحق ہے کہ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لا سکتے ہیں، برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے بورڈ آف پیس میں بھارت کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی ہے کئی روز گزرنے کے بعد بھی بھارت نے اس دعوت کا کوئی جواب نہیں دیا، اب تک یہ واضح نہیں کہ بھارت اس دعوت کو قبول کرے گا یا نہیں’ غزہ بورڈ آف پیس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو قائم کرنا اور غزہ کی تعمیر نو کے دوران عبوری حکومت کی نگرانی کرنا ہے ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان ترکیہ’ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے اس مجوزہ بورڈ کی دستاویز پر 59ممالک نے دستخط کئے ہیں ڈیووس میں ہونے والی تقریب میں 19ممالک کی نمائندگی تھی، برٹش میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیووس کے اجلاس میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی لیکن وہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے رپورٹ کے مطابق بھارت کے غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے سے مغربی ایشیا میں استحکام اور امریکہ کے ساتھ بھارت کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں بھارت کو خدشہ یہ ہے کہ کل کو ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ میں لا سکتے ہیں، برطانوی میڈیا کی اس رپورٹ میں بھارت کے ایک سابق سفیر اکبرالدین کا بھی حوالہ دیا گیا اور بتایا گیا کہ سابق سفیر اکبرالدین کے مطابق بھارت کو بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ اکبرالدین کے الفاظ میں’ یہ بورڈ اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم ہو سکتا ہے اور بورڈ میں شامل ہونے سے بھارت بورڈ کے فیصلوں کی توثیق کا ذریعہ بن سکتا ہے ایسا ہی خدشہ ایک اور سابق بھارتی ڈپلومیٹ نے بھی ظاہر کیا’ سابق بھارتی سفیر رنجیت رائے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی کوئی مدت مقرر نہیں’ اسے غزہ کے باہر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے،، بورڈ آف پیس میں بھارت کا شرکت سے فرار حاصل کرنا اس کے خوف کا اظہار ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے گریزاں ہے اور اسی وجہ سے اس نے ڈیووس میں ہونے والے اجلاس سے غیر حاضری کی اور تاحال ٹرمپ کی بورڈ میں شرکت کی دعوت کا کوئی جواب نہیں دیا اور یہ بات بھارت کے حق میں بہتر نہیں ہو گی نریندر مودی کی سیاست کا بُرج الٹ سکتا ہے، اس وقت امریکہ بھارت کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھتا جبکہ بین الاقوامی جریدے ڈی ڈپلومیٹ نے واشنگٹن میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی تعریف کی ہے جریدے میں شائع رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت اب 50فی صد امریکی ٹیرف اور صدارتی دورے سے محرومی کا شکار ہے پاکستان بھارت تنازعہ پر امریکی ثالثی کے دعوے کو بھارت کے مسترد کرنے کے بعد تعلقات منجمند کیفیت میں داخل ہو گئے اسی بحران کو پاکستان نے سفارتی موقع میں بدلا’ پاکستان نے صدر ٹرمپ کے ثالثی کردار کو بھرپور انداز میں سراہا جس کے بعد بھارت تنہائی کا شکار ہو گیا ہے اور اب اس کو یہ خوف ہے کہ وہ عالمی قوتوں کی نظر میں پسندیدہ ملک نہیں اور اس کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں امریکہ کے ساتھ تعلقات ڈانواڈول ہونے پر بھارت کی معیشت کو بھی خطرات لاحق ہیں کیونکہ امریکہ بھارت کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور امریکہ کی ناراضگی کے بعد بھارت کی تجارت میں تنزلی کے آثار نظر آ رہے ہیں نریندر مودی کو بھارت میں سیاسی مخالفت کا بھی سامنا ہے جبکہ بھارتی شہریوں کیلئے امریکی ویزے کو بھی مشکل بنا دیا گیا ہے جس کے اثرات بھارتی عوام کو مودی حکومت سے بدظن کر رہے ہیں اور وہ وقت بھی جلد آنے والا ہے جب مودی حکومت کا بوریا بستر گول ہو جائے گا بھارتی وزیراعظم کو مظلوم کشمیریوں کی بددعائیں لگی ہیں اور وہ اﷲ کی پکڑ میں بھی آ سکتا ہے کیونکہ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں