4

اسلامی نظام میں سب پر یکساں قانون لاگو ہوتا ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان فلاح پارٹی کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین سید آفتاب عظیم بخار ی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”جدید دنیا کے سیاسی، معاشی اور” فکری چیلنجز”نے حکومتی نظام سے ” اخلاق، عدل اور انسانی اقدار کو عملا جدا کر دیا ہے، جس کا سب سے بڑا خمیازہ عام انسان اور پورا معاشرہ بھگت رہا ہے۔ طاقت کو قانون سے بالاتر اور اقتدار کو خدمت کی بجا ئے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ”ناانصافی استحصال” اور بداعتمادی بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی نظام ایک ایسا متوازن اور جامع متبادل پیش کرتا ہے جہاں ”اقتدار” امانت، قیادت ، خدمت اور قانون سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ اسلامی نظام میں حکمران جوابدہ ، معیشت عدل پر مبنی اور معاشرہ اخلاقی اقدار سے مضبوط ہوتا ہے، جس سے فرد اور ریاست دونوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امتِ مسلمہ حقیقی ترقی، استحکام اور عزت کی خواہاں ہے تو اسے محض نعروں کے بجائے اسلامی نظامِ عدل کو عملی طور پر اپنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ظلم، کرپشن اور طبقاتی تفریق کا خاتمہ کر کے ایک منصفانہ، پرامن اور خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ”پاکستان فلاح پارٹی” اسلامی اصولوں پر مبنی ایک اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی، تاکہ عام آدمی کو انصاف، تحفظ اور باوقار زندگی میسر آ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں