2

فوری تسکین کی نفسیات: جدید دور کا ایک مسئلہ

آج کا انسان ایک ایسی دوڑ میں شامل ہے جس کی کوئی منزل نہیں۔ وہ ہر لمحہ کسی نئی چیز کے حصول میں سرگرداں ہے، مگر حصول کے بعد اطمینان کی بجائے اکثر خالی پن کا احساس ہوتا ہے۔ یہ المیہ ہے فوری تسکین کا، جو جدید ٹیکنالوجی نے ہمارے ہاتھوں میں تھما دیا ہے۔ ہماری ہر خواہش اب انگلی کے ایک حرکت سے پوری ہو سکتی ہے۔ کھانا، تفریح، معلومات، خریداری، حتی کہ تعلقات تک ہماری انگلی کی پوروں کے نیچے آ گئے ہیں۔ درحقیقت، فوری تسکین کا یہ رجحان ہمارے دماغی نظام پر حملہ آور ہے۔ قدرت نے ہمارا دماغ مشکل حاالت میں صبر اور استقامت سے کام لینے کے لیے ڈیزائن کیا ہے۔ جب ہم کسی مقصد کے لیے محنت کرتے ہیں، جدوجہد کرتے ہیں اور پھر کامیابی حاصل کرتے ہیں، تو اس سے ملنے والی خوشی گہری اور پائیدار ہوتی ہے۔ یہ خوشی ہمیں مضبوط، پراعتماد اور باصلاحیت بناتی ہے۔ مگر فوری تسکین ہمیں اس سب سے محروم کر رہی ہے۔ ایک کلک پر ملنے والی خوشی عارضی ہوتی ہے، جس کا اثر فوری طور پر ختم ہو جاتا ہے اور ہم اگلی خواہش کے حصول میں دوڑ پڑتے ہیں۔ یہ ایک لامتناہی چکر ہے جو ہمیں نفسیاتی طور پر تھکا کر رکھ دیتا ہے۔ نتیجہ اضطراب، بے چینی اور اطمینانِ قلب کی مستقل کمی کی صورت میںنکلتا ہے۔ ہم اپنے قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ہاتھ میں یہ آلہ ہمارا مالک بنتا جارہا ہے۔ ہماری خواہشات ہم پر حکمرانی کرنے لگی ہیں۔ یہ وہ صورت حال ہے جس سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ اس کا حل واپس بنیادی انسانی اصولوں کی طرف لوٹنا ہے۔ تاخیر کرناسیکھیں۔ انتظار کی عادت ڈالیں۔ کسی چیز کی خواہش ہو تو اسے فوری پورا کرنے کی بجائے ٹال دیں۔ اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ آج میں ایک گھنٹہ موبائل کے بغیر گزاروں گا۔ کسی ایک کام کو شروع سے آخر تک مکمل کریں، چاہے اس میں وقت لگے۔ اس کے اثرات ہماری روزمرہ زندگی میں صاف نظر آتے ہیں۔ ہماری توجہ کا دورانیہ مختصر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک مضمون کو آخر تک پڑھنا، ایک فلم کو بغیر موبائل چیک کیے دیکھنا، یا کسی سے لمبی بات چیت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے اندر بوریت برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہو رہی ہے۔ لمحہ بھر کے خالی پن کو پر کرنے کے لیے ہم فورا موبائل اٹھا لیتے ہیں۔ یہ عادت ہماری تخلیقی صلاحیتوں کے لیے زہر قاتل ہے، کیونکہ تخلیقی خیال اکثر اسی بوریت اور خاموشی کے لمحات میں جنم لیتے ہیں۔ حقیقی کامیابی، گہری خوشی اور ذہنی اطمینان کا راستہ ہمیشہ سے صبر، استقامت اور تاخیر سے ہو کر گزرا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں