3

پٹرولیم لیوی کی مد میں وصول اربوں روپے قومی خزانے میں جمع نہ ہونیکا انکشاف

اسلام آباد (بیوروچیف) پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے وصول کی جانے والی مکمل رقم کمپنیاں قومی خزانے میں جمع نہیں کرواتیں۔گزشتہ روز قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کی مالی سال2023-24ء کی آڈٹ رپور ٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران پیٹرو لیم لیوی، لیٹ پیمنٹ سرچارج، سبسڈیز، ریکوریز میں ناکا می اور خلاف قواعد پروکیورمنٹ سے اربوں روپے کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔ڈی جی آئل نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں سالانہ تقریبا 1400 ارب روپے وصول کیے جاتے ہیں تاہم کمپنیوں سے مکمل ریکوری کے لیے کوئی مثر اور ٹھوس طریقہ کار موجود نہیں۔اس پر نوید قمر نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لیوی ادا کرے اس کا بھی بھلا اور جو نہ دے اس کا بھی بھلا۔ رکن پی اے سی شازیہ مری نے کہا کہ عوام کو نچوڑ کر لیوی وصول کی جاتی ہے جب کہ کمپنیوں کے لیے کوئی واضح نظام ہی موجود نہیں، اگر ایسا ہے تو عوام کو بھی لیوی میں ریلیف ملنا چاہیے۔کمیٹی نے کمپنیوں سے پیٹرولیم لیوی کی وصولی کے قانون اور طریقہ کار کو سخت بنانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پیٹرول کی تقسیم کار کمپنیاں سنرجی کو اور حیسکول کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور جرمانوں کی مد میں مجموعی طور پر 14 ارب 63 کروڑ روپے واجب الادا تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں