1

بلوچستان میں دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر (اداریہ)

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے جغرافیے کی وجہ سے وہاں پر بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی ضرورت ہے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ بلوچستان کل پاکستان کا 40فی صد ہے اتنے بڑے علاقے کو کور کرنے کیلئے بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز چاہئیں بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کی خرابی کے بہت سے عوامل ہیں جرائم پیشہ عناصر اور اسمگلرز کے خلاف گھیرا تنگ کیا تو انہوں نے حکومت مخالف علم بغاوت بلند کر دیا بلوچستان میں جو ہوا قوم کے لیے بہت بڑا المیہ ہے دہشت گردی کو افغانستان سے ہوا دی جا رہی ہے دہشتگردوں کے سربراہ افغانستان میں موجود ہیں وہاں سے ان کو مدد ملتی ہے ان دہشتگردوں کے پیچھے بھارت ہے خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے سکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ پراکیسز موجود ہیں بلوچستان اتنا بڑا علاقہ ہے کہ اسے کنٹرول کرنے کیلئے بڑی تعداد میں فورسز کی تعیناتی کی ضرورت ہے،، پاکستان کے دشمنوں نے ہمیشہ بلوچستان میں امن وامان کی خرابی پر سرمایہ کاری کی ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے ڈنگ ٹپائو پالیسیاں اختیار کئے رکھیں بلوچستان کے مسائل کو حل نہ کیا یوں اس صوبہ میں خاطر خواہ ترقی نہ ہو سکی آج دشمن نے بلوچستان میں ایک جنگ مسلط کر رکھی ہے چونکہ بلوچستان کا وسیع وعریض رقبہ ہے ہر جگہ کی نگرانی ممکن نہیں اوپر سے پہاڑوں میں غاریں ہیں دہشتگرد یہاں سے نکلتے ہیں اور کارروائیاں کر کے دوبارہ پہاڑوں میں چھپ جاتے ہیں ازلی دشمن بھارت نے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر دہشت گرد پھیلا رکھے ہیں بھارت بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردانہ کارروائیوں پر سرمایہ لگا رہا ہے افغانستان سے انخلاء کے وقت امریکی فوجیوں کا جو جدید اسلحہ افغانستان میں رہ گیا دہشت گرد اسے استعمال کر رہے ہیں بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) نے قبول کی بی ایل اے کی سفاکیت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے عورتوں اور معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا پاکستانی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے دہشت گردی کی اس کارروائی پر قابو پایا اور 145 دہشت گردوں کو جہنم واصل بھی کیا بلوچستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث بھارت کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کو کچلنے کیلئے بے رحم آپریشن کی ضرورت ہے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنا بہت ضروری ہے اس سلسلے میں بلوچستان میں مقامی آبادی کو اعتماد میں لیا جانا بھی ضروری ہے ناراض لوگوں کو منانا ہو گا ان کی جائز شکایات دور کرنا ان کو قومی دھارے میں شامل کرنا ہو گا بلوچستان کے عوام کی محرومیاں ختم کر کے انہیں باعزت روزگار فراہم کرنا ہو گا پاکستان کو بھارت اور افغانستان کی پاکستان میں مداخلت اور دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنے پر بین الاقوامی اداروں کو باور کرانا ہو گا کہ کس طرح یہ دونوں ممالک مداخلت کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کی معدنیات میں دلچسپی رکھتے ہیں اور بھارت کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی اس لئے وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنیکی سازش کر رہا ہے دشمن کی اس سازش کو ناکام بنانا ناگزیر ہے، جیسا کہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان ایک وسیع علاقہ ہے اور وہاں پر ملک دشمن عناصر پر قابو پانے کیلئے بڑے پیمانے پر فورسز کی تعیناتی کی ضرورت ہے، واقعی وہاں پر قیام امن کیلئے اہم اقدامات ناگزیر ہیں لہٰذا حکومت کو اس سلسلے میں غور کرنا چاہیے تاکہ صوبہ بلوچستان میں ہونیوالی دہشتگردی کی کارروائیاں کرنیوالے دہشتگردوں کا صفایا کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں