15

امدادی کٹوتیوں سے عالمی نظام صحت کو خطرہ لاحق،ڈبیلو ایچ او

اسلام آباد (بیوروچیف) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی امداد میں آنیوالی کمی اور مالی وسائل کی مسلسل قلت کے باعث دنیا میں صحت عامہ کا نظام کمزور پڑ رہا ہے۔ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانو م گیبریاسس نے کہا ہے کہ یہ صورتحال ایسے وقت رونما ہو رہی ہے جب وباں، ادویات کے خلاف جراثیمی مزاحمت اور صحت عامہ کے نازک نظام سے لاحق خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے جنیوا میں ‘ڈبلیو ایچ او’ کے ایگزیکٹو بورڈ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ برس امدادی وسائل میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کے باعث ادارے کو عملے میں کمی کرنا پڑی جس کے سنگین نتائج سامنے آئے ہیں۔امداد میں اچانک اور شدید کمی نے کئی ممالک میں صحت کے نظام اور خدمات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ 2025 ادارے کی تاریخ کے مشکل برسوں میں سے ایک تھا۔ اگرچہ ‘ڈبلیو ایچ او’ زندگی کو تحفظ دینے کی سرگرمیاں جاری رکھنے میں کامیاب رہا، تاہم وسائل کے اس بحران نے صحت عامہ کے عالمگیر نظام میں موجود کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں حالات کہیں خراب ہیں جنہیں بنیادی طبی خدمات کی فراہمی برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ادارہ امدادی مالی وسائل میں کمی کے اثرات سے نمٹنے میں کئی ممالک کی مدد کر رہا ہے تاکہ وہ بنیادی طبی خدمات برقرار رکھ سکیں اور امداد پر انحصار کم کر کے خود کفالت کی طرف بڑھیں۔رکن ممالک کی جانب سے داخلی طور پر وسائل میں اضافہ اس سمت میں اہم حکمت عملی ہو گی جس میں تمباکو، شراب اور میٹھے مشروبات پر صحت سے متعلق ٹیکس بڑھانا بھی شامل ہے۔’ڈبلیو ایچ او’ کے مطابق، دنیا میں 4.6 ارب افراد کو اب بھی بنیادی طبی خدمات تک رسائی حاصل نہیں جبکہ 2.1 ارب افراد طبی اخراجات کے باعث مالی مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ 2030 تک دنیا کو ایک کروڑ 10 لاکھ طبی کارکنوں کی کمی کا سامنا ہو گا جن میں نصف سے زیادہ نرسیں ہوں گی۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ‘ڈبلیو ایچ او’ سنگین مالی دھچکے سے صرف اس لیے بچ سکا کیونکہ رکن ممالک نے لازمی مالی شراکت میں اضافے پر اتفاق کیا جس سے ادارے کا رضاکارانہ اور مخصوص مقاصد کے لیے دی جانے والی مالی امداد پر انحصار کم ہوا۔انہوں نے بورڈ کو بتایا کہ اگر لازمی شراکت میں اضافے کی منظوری نہ دی گئی ہوتی تو صورتحال اس سے کہیں زیادہ خراب ہو سکتی تھی۔ان اصلاحات کی بدولت ادارہ 2026 اور 2027 کے بنیادی بجٹ کے لیے درکار وسائل کا تقریبا 85 فیصد جمع کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں باقیماندہ وسائل کا حصول انتہائی مشکل ہو گا۔ اگرچہ 85 فیصد ایک اچھی شرح ہے مگر مجموعی حالات بہت مشکل ہیں۔ بیماریوں سے نمٹنے کی ہنگامی تیاری، جراثیمی مزاحمت اور موسمیاتی اثرات کے مقابل مضبوطی جیسے اہم شعبوں میں فنڈ کی کمی ایک تشویشناک خلا ہے جسے پر کرنا ضروری ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے گزشتہ برس وبائی امراض سے متعلق معاہدے اور بین الاقوامی طبی ضوابط (آئی ایچ آر) میں ترامیم کی منظوری کو مثبت پیش ہائے رفت قرار دیا جن کا مقصد کووڈ-19 وبا کے بعد ایسے حالات پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر بہتر تیاری کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ‘ڈبلیو ایچ او’ نے بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو وسعت دی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی وبائی معلوماتی نظام متعارف کرایا اور گزشتہ سال سیکڑوں ہنگامی طبی حالات میں رکن ممالک کو مدد دی جن میں سے کئی اس لیے توجہ کا مرکز نہیں بنے کہ بیماریوں پر پھیلنے سے پہلے ہی قابو پا لیا گیا تھا۔تاہم، ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا کہ دنیا میں ہر چھ میں سے ایک جراثیمی انفیکشن اب جرم کش ادویات کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے اور بعض خطوں میں یہ رجحان تشویشناک حد تک تیز ہو رہا ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ کووڈ۔19 وبا نے بہت سے اسباق سکھائے جس میں یہ بھی شامل تھا کہ عالمگیر خطرات کا مقابلہ عالمگیر اقدامات سے ہی کیا جا سکتا ہے اور یکجہتی ہی بہترین تحفظ ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قابل بھروسہ اور مناسب مقدار میں امدادی وسائل فراہم نہ کیے گئے تو آنے والے وقت میں دنیا صحت کے ہنگامی حالات کے لیے خاطرخواہ حد تک تیار نہ ہو گی۔آخر میں انہوں نے بورڈ سے کہا کہ ‘ڈبلیو ایچ او’ کی طاقت ارکان کے اتحاد میں ہے اور ادارے کا مستقبل بورڈ کے فیصلوں پر منحصر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں