6

ٹیکسٹائل اور فیشن کی صنعت محض ایک تصور نہیں بلکہ سیکھنے کا مسلسل سفر ہے

کمالیہ(نامہ نگار)یونیورسٹی آف کمالیہ میں فیشن، ٹیکسٹائل اور سرکولر اکانومی کے موضوع پر ایک نہایت معلوماتی اور بامقصد سیشن منعقد کیا گیا، جس میں طلبہ اور فیکلٹی ممبران نے بھرپور دلچسپی اور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ اس سیشن میں اریانا نیکولیتی اٹلی اور مارینا شبو ن نے بطور مقررین شرکت کی۔ اریانا نیکولیتی سرکولر اکانومی کلچر اور پائیدار حل کی ماہر ہیں، جبکہ مارینا شبون کلوزڈ لوپ فیشن جرمنی کی بانی ہیں اور ٹیکسٹائل و فیشن انڈسٹری میں پائیدار طریق کار کی نمایاں آواز سمجھی جاتی ہیں۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکسٹائل اور فیشن کی صنعت میں پائیداری محض ایک تصور نہیں بلکہ سیکھنے ، جدت، تحقیق اور ذمہ دار فیصلوں کا ایک مسلسل سفر ہے ۔ انہوں نے طلبہ کو آگاہ کیا کہ سرکولر اکانومی کے اصول اپناتے ہوئے وسائل کا درست استعمال، ویسٹ میں کمی، دوبارہ استعمال ، ری سائیکلنگ ، اور ذمہ دار پیداوار کے ذریعے نہ صرف ماحول کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ اخلاقی اور بامقصد کیریئر اور مضبوط پائیدار برانڈز بھی قائم کیے جا سکتے ہیں۔اس سیشن کا بنیادی مقصد طلبہ میں یہ شعور اجاگر کرنا تھا کہ وہ ٹیکسٹائل وسائل کی بہتر مینجمنٹ، فضلے میں کمی، اور ماحول دوست عملی حل اپنا کر مستقبل میں ایک ذمہ دار اور پائیدار صنعت کی تشکیل میں مثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔یونیورسٹی آف کمالیہ اپنے طلبہ میں آگاہی، تنقیدی سوچ، اور عالمی چیلنجز کے حوالے سے عملی فہم پیدا کرنے کے لیے ایسے بامقصد اور تعلیمی سیشنز کے انعقاد کے لیے پرعزم ہے ۔تقریب کے اختتام پر انڈسٹری کے نمائندگان ڈاکٹر ارشد حنیف، ڈاکٹر ریاض اور شیخ عامر شبیر نے مقررین کا شکریہ ادا کیا اور انہیں میڈ ان کمالیہ پراڈکٹس کے تحائف پیش کیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں