جوڈیشل کمیشن کے گل پلازہ کے دورے اور سوالات

کراچی(بیورو چیف)سندھ ہائیکورٹ کے احکامات پر بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کو آتشزدگی کا شکار ہونیوالے گل پلازہ کے دورے کے دوران ہونیوالے سوالات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کے مطابق حکام نے جوڈ یشل کمیشن کو سب سے پہلیعمارت کے فرنٹ سائیڈ اور اندرونی حصوں کا معائنہ کروایا جبکہ موبائل ٹارچ جلا کر عمارت کے گراؤنڈ فلور کے اندرونی حصوں کا دورہ بھی کرایا۔ذرائع نے بتایا کہ کمیشن نے دورے کے دوران اپنے مشاہدات تحریری طور پر ریکارڈ کیے، جس پر جسٹس آغا فیصل نے ڈی سی جنوبی، ریسکیو، کے ایم سی اورپولیس حکام سے سوالات بھی کیے۔ذرائع نے بتایا کہ جسٹس ا?غا فیصل نے حکام سے کہا کہ جس دکان سے آگ کی شروعات ہوئی وہاں کی نشاندہی کی جائے۔جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ جس مقام سے بڑی تعداد میں باقیات ملی تھیں وہ کہاں ہے؟ جس پر حکام نے بتایا کہ عمارت مخدوش ہے اور سیڑھیاں گرچکی ہیں، اوپر کی منزلوں تک رسائی ممکن نہیں۔جسٹس فیصل نے سوال کیا کہ چھت پر جانے کا کوئی راستہ ہے؟ جس پر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عمارت میں اب اوپر جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔کمیشن نے سوال کیا کہ گل پلازہ میں موجود افراد کو کس راستے سے باہر نکالا گیا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں