جعلی پائلٹ لائسنس کا معاملہ،PIAکو 5سال میں200ارب کا نقصان

اسلام آباد (بیوروچیف) ایون بالا کو بتایا گیا کہ جعلی پائلٹ لائسنس معاملے کی وجہ سے اگست 2020سے دسمبر 2024تک (5سال میں) پی آئی اے کو تقریباً 200ارب روپے کے متوقع ریونیو نقصان کا سامنا کرنا پڑا، بلوچستان میں ائیرپورٹ کے غیر فعال ہونے اور فلائٹس نہ ہونے پر بلوچستان کے سینیٹرز نے احتجاج کیا ، گزشتہ روز سینٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت دفاع کے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں 11ائیرپورٹس ہیں جن میں سے 3آپریشنل ہیں، کوئٹہ، گوادر اور تربت ائیرپورٹ آپریشنل ہیں، دالبدین ائیرپورٹ پر رن وے موجود نہیں ، ژوب، پسنی ، پنجگور، ائیرپورٹ آپریشنل ہیں لیکن فلائٹ آپریشن نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں، خضدار ، سبی ائیرپورٹ پر فلائٹ آپریشن نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں، اوماڑہ اور جیوانی آئیرپورٹ 2004سے بند ہیں اور 2005سے پاکستان نیوی نے مفاہمتی یادداشت کے تحت اس کا انتظام سنبھالا ہوا ہے، وزیر مملکت شزرہ منصب نے کہا بلوچستان میں کمرشل فلائٹ قابل عمل نہیں کیوں کہ وہاں مسافروں کی تعداد کم ہے ، اس دوران بلوچستان کے سنیٹر نے احتجاج کیا جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا پی آئی اے کی منیجمنٹ سے سینیٹرز کی ملاقات کرا دیتے ہیں، تاکہ بلوچستان فلائٹ کے حوالے سے حل نکالا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں