سکولوں کا رزلٹ بہتر بنانے کیلئے ہشتم امتحانات میں نقل کا سہارا لیا جانے لگا

ٹھیکریوالہ (نامہ نگار)آٹھویں جماعت کے امتحانات میں رزلٹ بہتر بنانے کے لیے نقل کا سہارا لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس پر تعلیمی حلقوں اور والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب ایجوکیشن اسیسمنٹ اینڈ ٹیسٹنگ اتھارٹی کے تحت جاری آٹھویں جماعت کے امتحانات کے دوران بعض امتحانی مراکز میں اساتذہ کی جانب سے طلبہ کو نقل کروانے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ جیسے ہی امتحانات کا آغاز ہوا تو مبینہ طور پر متعدد سنٹرز پر تعینات بعض اساتذہ خود ہی طلبہ کی مدد کرتے ہوئے انہیں سوالات کے جوابات بتاتے رہے۔ مبینہ طور پر ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ سکولوں کا مجموعی رزلٹ بہتر دکھایا جا سکے۔ مقامی شہریوں اور والدین کا کہنا ہے کہ اگر تعلیمی اداروں میں سال بھر معیاری تدریس نہ ہو اور پھر امتحانات میں نقل کے ذریعے نتائج بہتر بنانے کی کوشش کی جائے تو اس سے نہ صرف تعلیمی معیار متاثر ہوتا ہے بلکہ بچوں کی اخلاقی تربیت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمری میں طلبہ کو نقل جیسے عمل کی ترغیب دینا ان کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طرز عمل سے طلبہ میں محنت اور دیانت داری کی بجائے شارٹ کٹ اپنانے کا رجحان پیدا ہوتا ہے، جو آگے چل کر عملی زندگی میں بھی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔دوسری جانب شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران کی توجہ زیادہ تر فوٹو سیشن اور سوشل میڈیا سرگرمیوں تک محدود دکھائی دیتی ہے جبکہ امتحانات کو شفاف اور میرٹ پر منعقد کروانے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔ والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لیے سخت نگرانی کا نظام متعارف کروایا جائے اور نقل کی حوصلہ شکنی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔والدین اور سماجی حلقوں نے محکمہ تعلیم کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹھویں جماعت کے امتحانات کو مکمل طور پر شفاف اور میرٹ پر منعقد کروانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ کی محنت اور صلاحیت کے مطابق نتائج سامنے آ سکیں اور تعلیمی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں