کسٹم قوانین میں بڑی تبدیلی کا منصوبہ’مسودہ تیار

اسلام آباد (بیوروچیف) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کسٹمز قوانین میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز پیش کرتے ہوئے ایک نیا مسودہ جاری کر دیا ہے، جس کا مقصد برآمدات کے نظام کو زیادہ موثر اور شفاف بنانا ہے۔ان مجوزہ ترامیم کے تحت برآمد کنندگان کو ڈیوٹی فری خام مال درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی تاکہ وہ اسے استعمال کر کے مصنوعات تیار کریں اور بیرون ملک فروخت کر سکیں۔ایف بی آر کے مطابق اس سہولت سے فائدہ اٹھانے والوں پر لازمی ہوگا کہ وہ ہر چھ ماہ بعد تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں، جس میں درآمد شدہ خام مال، تیار کردہ اور برآمد کیے گئے سامان، مقامی فروخت اور ویلیو ایڈیشن کی مکمل تفصیلات شامل ہوں۔ اس کے علاوہ ضائع ہونے والے خام مال اور اس کے استعمال یا تلفی کی معلومات دینا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے، جبکہ یہ رپورٹ مقررہ مدت ختم ہونے کے تیس دن کے اندر جمع کروانا ہوگی۔دوسری جانب بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ قوانین میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں تاکہ پاکستان کی بندرگاہوں کو عالمی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنایا جا سکے۔ ان اقدامات کے تحت غیر ملکی کارگو کو ملک میں محفوظ رکھنے، ہینڈل کرنے اور آگے منتقل کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ سامان کو عارضی طور پر ذخیرہ کر کے دیگر ممالک بھجوانا بھی ممکن ہوگا۔ایف بی آر کے مطابق نئے قواعد کا اطلاق فضائی اور بحری راستوں، جہازوں، کنٹینرز اور ایئر کارگو پر ہوگا۔سکیورٹی اور نگرانی کو مضبوط بنانے کے لیے کارگو کی مکمل اسکیننگ اور جسمانی جانچ کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ چوری، غلط ڈیکلریشن یا نقصان کی صورت میں جرمانے عائد کیے جائیں گے اور متعلقہ شپنگ لائنز یا ایئرلائنز کو ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کرنا ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں