چاند رات…عبادت کی رات…انعام کی رات

رمضان المبارک کی رحمتوں سے بھرے ہوئے مہینے کا جب آخری دن ہوتا ہے تو اس کی شام کو عید کا چاند نظر آتا ہے جس سے مسلمانوں کو بے حد خوشی ہوتی ہے کہ رمضان المبارک کے روزے پایہ تکمیل تک پہنچے اور ان روزوں کی عبادت بارگاہ رب العزت میں قبول ہوئی اس کی خوشی میں عید الفطر پڑھی جاتی ہے شوال مکرم کی پہلی تاریخ کو عید الفطر ہوتی ہے اسے نسبت سے اس شب کو شبِ عید یا چاند رات کہا جاتا ہے چاند رات میں مسلمانوں میں بڑی خوشی ہوتی ہے اس رات کو اظہارِ مسرت کے لیے اللہ کی کثرت سے عبادت کی جائے تاکہ ماہ رمضان میں اطاعت الٰہی میں اگر کوئی کمی رہ گئی تو اللہ اس سے درگزر فرما کر روزوں کی عبادت کو قبول فرمالے تاکہ اس شب کی خصوصی عبادت سے اس کی شکر گزاری کیجائے اس رات کی فضیلت کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے : جس عیدین کی راتوں میں ثواب کی نیت سے اللہ تعالی کی عبادت کی تو اس کا دل قیامت کے دن مردہ نہیں ہوگا جب کہ سب لوگوں کے دل مردہ ہوں گے (ابن ماجہ) عید کی اصل خوشی تو اس میں ہے کہ انسان کو بقائے دوام حاصل ہو جائے اس کی آخرت سنور جائے اس کی عبادت اور ریاضت اللہ کے حضور قبول ہو جائے اس سعادت اخروی حاصل ہو اس کی زندگی کا ہر لمحہ اطاعت الٰہی میں گزرے وہ جو کام بھی کرے اس میں اللہ کی خوشنودی شامل حال ہو جب وہ دنیا سے جائے تو صاحب ایمان جائے قبر میں سوال و جواب میں آسانی ہو قبر میں مثل جنت راحت نصیب ہو پھر یوم حساب کو اس کی نجات ہو اس روز جب حساب ہوگا تو ایسے آڑے وقت میں چاند رات میں کی ہوئی عبادت مددگار اور معاون ثابت ہوگی شب عید کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس رات میں کی جانے والی دعا بارگاہ رب العزت میں بہت جلد قبول ہوتی ہے اس کے متعلق حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد پاک ہے؛پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں کی جانے والی دعا رد نہیں ہوتی1 _ شب جمعتہ المبارک2_رجب کی پہلی رات 3 _ شعبان کی پندرہویں رات 4 _ عید الفطر کی شب5_عید الاضحی کی رات (بیہقی)حضرت ابن عباس سے روایت ھے کہ شب عید الفطر کا نام شب جائزہ یعنی انعام کی رات رکھا گیا ہے اور عید الفطر کی صبح کو تمام شہروں کے کوچہ و بازاروں میں فرشتے پھیل جاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں جس کو جن و انس کے سوا تمام مخلوق سنتی ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت رب کریم کی طرف چلو تاکہ وہ تمہیں عظیم عطا فرمائے اور تمہارے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دے لوگ عید گاہ کو نکل جاتے ہیں تو اللہ تعالی فرشتوں سے فرماتا ہے اے میرے فرشتو!فرشتے لبیک کہتے ہوئے حاضر ہو جاتے ہیں حق تعالی فرماتا ہے اس مزدور کی کیا اجرت ہے جو اپنا کام پورا کرے فرشتے جواب دیتے ہیں اے ہمار ے معبود ہمارے آقا اس مزدور کی پوری پوری اجرت دی جائے رب جلیل ارشاد فرماتا ہے اے میرے فرشتو میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کے روزوں اور نماز شب کا اجر خوشنودی اور گناہوں کی مغفرت بنا دیا پھر فرماتا ہے اے میرے بندو مجھ سے مانگو اپنی عزت و جلال کی قسم آج تم اپنی اخرت کے لیے مجھ سے مانگو گے میں وہ تم کو ضرور دوں گا اور جو کچھ اپنی دنیا کے لیے مانگوں گے نہ اس کا لحاظ رکھوں گا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم اور تم کو ان لوگوں کے سامنے جن پر شرعی سزا واجب ہو چکی ہے رسوا نہیں کروں گا جا تمہاری بخشش ہوگئی تم نے مجھے رضا مند کیا میں تم سے راضی ہوگا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے مژدہ سن کر خوش ہو جاتے ہیں اور ماہ رمضان کے خاتمے پر امت محمدیہ کو یہ خوش خبری پہنچاتے ہیں (غنیہ الطالبین)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں