دنیا کی پہلی کوانٹم بیٹری تیار

کینبرا (مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے دنیا کی پہلی کانسیپٹ کوانٹم بیٹری کو تیار کیا ہے۔کوانٹم بیٹریز کا تصور 2013میں سامنے آیا تھا جب یہ خیال پیش کیا گیا کہ کوان مشینیں توانائی کو ذخیرہ کرسکتی ہیں اور روایتی بیٹریز کے مقابلے میں زیادہ مثر ثابت ہوسکتی ہیں۔اب محققین نے ایک پروٹوٹائپ کوانٹم یٹری تیار کی ہے جو ایک لیزر کے ذریعے وائرلیس چارج ہوتی ہے اور ان کا ماننا ہے کہ یہ مکمل فعال کوانٹم بیٹریز کی جانب سے اہم پیشرفت ہے۔آسٹریلیا کی نیشنل سائنس ایجنسی کے محققین نے اسے تیار کیا اور محقق ڈاکٹر جیمز کواش نے بتایا کہ یہ دنیا کی پہلی پروٹوٹائپ کوانٹم بیٹری ہے، جسے آپ چارج کرسکتے ہیں، توانائی ذخیرہ کرسکتے ہیں اور ڈس چارج کرسکتے ہیں۔روایتی بیٹریز کا حجم جتنا زیادہ ہوتا ہے، انہیں چارج ہونے میں اتنا زیادہ وقت لگتا ہے، جبکہ کوانٹم بیٹری فوری چارج ہوسکتی ہے۔محققین کے مطابق آپ کے موبائل فون کو چارج ہونے میں 30 منٹ لگتے ہیں جبکہ الیکٹرک گاڑی پوری رات چارج ہوتی ہے جبکہ کوانٹم بیٹریز کو آپ کو منٹوں میں چارج کرسکیں گے اور اس لیے یہ زیادہ مثر ثابت ہوں گی۔ان محققین نے پہلے 2022 میں ایک پروٹوٹائپ کوانٹم بیٹری تیار کی تھی مگر اسے سے توانائی کو خارج کرنا ممکن نہیں تھا۔اب نئی پروٹوٹائب بیٹری کے حوالے سے تفصیلات جرنل لائٹ سائنس اینڈ اپلیکیشنز میں جاری کی گئی ہیں۔یہ بیٹری ایک منٹ میں چارج ہوسکتی ہے جبکہ توانائی ذخیرہ کرسکتی ہے اور اسے ایک سے 2 سال تک دوبارہ چارج کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔البتہ ابھی وہ اتنی چھوٹی ہے کہ اس سے کسی ڈیوائس کو پاور فراہم کرنا ممکن نہیں۔محققین کی جانب سے اسے مزید بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ موبائل فونز یا دیگر ڈیوائسز کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں