انسولین انجکشن ماضی کا قصہ بننے کے قریب

ٹوکیو (مانیٹرنگ ڈیسک) دہائیوں سے ذیابیطس کے بیشتر مریضوں کو بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے روزانہ انسولین کے انجیکشن استعمال کرنا پڑتے ہیں۔مگر امکان ہے کہ مستقبل قریب میں ایک گولیانجیکشن کی ضرورت کو ختم کردے گی۔خیال رہے کہ ذیابیطس کے مرض میں لبلبہ انسولین بنانے سے قاصر ہوجاتا ہے یا اس کی ناکافی مقدار بناتا ہے، یہ وہ ہارمون ہے جو خون میں گلوکوز کی سطح کم کرتا ہے۔جس کے باعث مریضوں کو انسولین کے انجیکشن لگانے پڑتے ہیں ورنہ بلڈ شوگر لیول زیادہ رہنے سے سنگین طبی پیچیدگیوں جیسے گردوں کو نقصان پہنچنا، بینائی متاثر ہونا، امراض قلب اور فالج وغیرہ کا سامنا ہو سکتا ہے۔100 برس سے زائد عرصے سے سائنسدان انسولین کو گولی کی شکل کے خیال کو حقیقت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انسولین کو دوا کی شکل دینا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ ایک پروٹین ہے اور گولی کی شکل میں یہ جگر تک پہنچنے سے پہلے ہی معدے اور آنتوں میں جذب ہو سکتا ہے اور اسی وجہ سے روزانہ انجیکشنز پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس سے معیار زندگی متاثر ہوتا ہے۔مگر جاپان کی Kumamoto یونیورسٹی کے انسولین کی گولی تیار کرنے کے حوالے سے اہم پیشرفت کی ہے۔ماہرین نے اس کے لیے ایک cyclic peptide کو استعمال کیا جو چھوٹی آنت میں چلا جاتا ہے اور اس طرح انسولین کو گولی کی شکل میں فراہم کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔محققین نے اس کے لیے 2 مختلف طریقہ کار اپنائے تاکہ انسولین کی دوا کی شکل میں فراہمی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو عبور کیا جاسکے۔انہوں نے peptide کو زنک کے ذریعے مستحکم انسولین میں مدغم کیا اور پھر اسے ذیابیطس کے متعدد مریض چوہوں کو منہ کے ذریعے استعمال کرایا۔اس امتزاج سے بلڈ شوگر کی سطح دوا کے استعمال کے بعد معمول پر آگئی جبکہ ایک بار دوا کے استعمال سے 3 دن تک انسولین کی سطح کو کنٹرول میں رکھنا ممکن ہوگیا۔دوسرے طریقہ کار میں peptide کو براہ راست انسولین سے منسلک کیا اور اس سے بھی بلڈ شوگر کی سطح کو پہلے طریقہ کار جیسے ہی کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملی۔محقین کے مطابق اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ peptide کے ذریعے انسولین کی فراہمی ممکن ہے۔اس سے پہلے ایک بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ منہ کے ذریعے انسولین کے استعمال کے لیے بہت زیادہ مقدار کو جزوبدن بنانے کی ضرورت تھی۔مگر محققین کے نئے طریقہ کار سے اس مسئلے پر قابو پالیا گیا ہے۔محققین کے مطابق انسولین کے انجیکشنز کا روزانہ استعمال متعدد مریضوں کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے مگر ہمارا طریقہ کار دوا کے ذریعے انسولین کی فراہمی کو ممکن بناسکے گا۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے جبکہ انسانوں پر کلینیکل ٹرائلز بھی ضروری ہیں تاکہ ایک دوا کی تیاری کو ممکن بنایا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں