جنگاں مڑ چھڑ یاں کہ چھڑیاں

ویسے تو آج بہت سارے مضامین دل ودماغ میں گھوم پھر رہے تھے اور یہ جملہ مضامین اپنی نوعیت کے اعتبار سے اہم اور دلچسپ ہیں۔ ان مضامین میں رمضان المبارک کے آخری ایام اور خشوع خضوع، عید سعید اور ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں، پاکستان افغانستان جنگ اور امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ۔ رمضان المبارک رخصت ہو چکا، عید گزر چکی ،جنگیں۔ اللہ اعلم۔ تاہم جب مسلمان رمضان المبارک کے روزے پورے کرکے اپنے رب کو خوش کرلیتے ہیں تو ان کی اس لئے عید ہوتی ہے کہ اللہ کو انہوں نے خوش کرلیا ہے اور ان کی تمام دعائیں قبول کر لی جاتی ہیں۔ ان دعائوں میں ان حالیہ جنگوں کے خاتمے اور مسلمانوں کی کامیابی کی دعا تو سر فہرست ہوگی اور دعا کی قبولیت کے نتیجے میں اسرائیل اور امریکہ تو کم از کم تباہ وبرباد ہو جائیگا۔ یہ ایک اچھا خیال ہے لیکن کائنات کا نظام اللہ تعالی نے فطرت کے تابع کیا ہوا ہے ہاں کبھی کبھار وہ خود مداخلت کرتا ہے اور پھر تو ارض وسما والوں کو حیران کردیتا ہے لیکن ایسا روزانہ کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ غیر مسلم قوتیں بھی بڑی سیانی ہیں انہوں نے بھی مسلم قوم کا ٹھیک ٹھاک ”مکو وٹا” ہوا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے ساتھ ہی انہوں نے سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کردیئے تھے اور وہ بھی بڑے منصوبے کے ساتھ۔ لانگ ٹرم پلاننگ۔ شریف حسین آف مکہ کو اس لئے اٹھا مکہ مدینہ سے باہر پھینکا تھا کہ اس کا دعوی تھا کہ اس کا نسب ہاشمی ہے اور ہاشمی مسلمانوں کے نبی برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاندان ہے۔ یوں مذکورہ شخص کے حوالے اگر مکہ مدینہ کردیا گیا ایک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کا فرد اور اوپر سے مکہ مدینہ کے علاقوں کا حکمران۔ ایک سانپ اور اوپر سے ناگ۔ اف اللہ اس میں قوم مسلم کو اکٹھا کرنے کی کتنی استعداد ہوگی۔ لہذا شریف حسین اپنے انجام کو پہنچا اور اس نے نکرے لگ کر اردن میں حکمرانی کا شوق پورا کیا اور ان کی اولاد اب بھی مزے میں ہے۔ سعود خاندان کو لا کر آرام سے حجاز مقدس میں بٹھاو اور سعودی عرب بنائو۔ عوام بھی ہوش میں رہے اور حکمران بھی جوش میں نہ آئیں۔باقی بھی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اور ٹکڑوں کی شکل میں چھوٹے چھوٹے ملک۔ ہر حکمران دوسرے کے پیچھے اور ان سب کے پیچھے ایران اور اگر استثنائی صورت حال کے پیش نظر یہ سب ایک ہو بھی جائیں گے تو پھر علاقے کا تھانیدار اسرائیل جو بعد ازاں گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھے گا۔۔ مزے تے ماہیا ہون آن گے۔ اگر کوئی اپنے آپ کو بہت ہی غیر محفوظ سمجھے تو پھر ہم امریکہ بہادر آپ کی خدمت کے لئے ہمہ وقت تیار۔ اس ساری صورتحال میں مسلمانوں کے پاس ایک ہی آپشن ہے کہ امریکہ اور اس کے ہمنواں کو دعائوں سے ہی ذلیل ورسوا کیا جائے۔ ابھی تک کے تناظر میں اوّل تو کسی مسلمان کو مردمومن بننے کا شوق نہیں ہوا اور اگر صدام حسین، بشار الاسد اور معمر قذافی نے سر اٹھایا تو پھر سر نہیں رہے گا اور کچھ سالوں سے ایران کے ہاں جذبہ جہاد۔ دشمن کے ساتھ لڑنے کے لئے ضروری ہے کہ جنگ کے لئے تیار رہا جائے اور آج کل بقول شریف کنجاہی (جنگاں مڑ چھڑیاں کہ چھڑیاں۔۔قوماں مڑ بھڑیاں کہ بھڑیاں۔۔۔ دور کتے گجدے نیں جیہڑے ۔۔آوسے جد ویہڑے۔۔۔کی ہووے دا کی بنے دا۔۔۔کی کراں دے کدر جاں دے۔۔گھل مل آئے چار چوفیرے۔۔ بدل جدوں سواہرے مولا خیر گزارے) جنگی سازوسامان اور گھن گرج۔ اف اللہ ہم تو کچھ کہہ بھی نہیں سکتے اور دوسری طرف جذبہ ایمانی اور میزائل ٹیکنالوجی۔ فی الحال تو مقابلہ شدت سے جاری وساری ہے۔ ایران کے بڑے بڑے لوگ ماردیئے گئے ہیں اور اس جنگ نے ایک بات تو ثابت کردی ہے کہ ایران کے لوگ واقعی بڑے لوگ ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا تیار بیٹھا ہے۔ اندھادھند حملے اور ان حملوں کے نتیجے میں ایران کا ناقابل بیان نقصان۔ اس کے علی الرغم ایرانی میزائل اور وہ بھی زیادہ تر عرب ممالک کی تباہی کررہے ہیں۔ فرقہ بندی مزید پروان چڑھنے جارہی ہے اور ممولہ اور شہباز باہم دست وگریبان۔ اسرائیل خبروں کے لحاظ سے نقصان کا سامنا کررہا ہے اور غیر مصدقہ خبروں کی بدولت نیتن یاہو مرگیا ہے اور یہ خبر تاحال غیر مصدقہ ہی ہے اور غالب امکان ہے کہ یہ بھی خیالی پلائو ہے جو کہ سوشل میڈیا کے فیض سے تیار کیا جارہا ہے اور سوشل میڈیا کی خبریں۔ نہ سر نہ پیر۔ قیامت کی نشانیاں۔ ہاں البتہ امریکہ کا بادشاہ اپنا استحقاق سمجھتا ہے کہ سب اس کے سامنے سر تسلیم خم کریں نہیں تو بغاوت کا انجام وینزویلا کے صدر سے پوچھا جا سکتا ہے۔ مرضی صرف ایک امریکہ کی بصورت دیگر ایکشن لیا جائے گا۔ مجموعی طور پر تو قبول قبول ہے کی صدائیں لیکن کوئی تو ہے جو سرچڑھ کے بولے گا۔ ایران تن تنہا بھگتنے کے لئے پوری طرح تیار۔ لوگوں کی ہمدردیاں، روس چائنا سے توقعات اور چائنا کا اپنا میزائل ٹیکنالوجی اور آئل کی صلاحیت۔ بلاشبہ ایران کا بڑا نقصان ہو چکا ہے، اسرائیل کھل کے کھیل چکا ہے اور محترم ٹرمپ کی آنکھوں میں پوری طرح خون اتر آیا ہے اور وہ خون کی ہولی کھیلنے کے لئے ہر لحاظ سے تیار ہے۔ عرب ممالک اپنی مجبوریوں کی بدولت امریکہ کیساتھ شانہ بشانہ اور مسلم ممالک میں سے پاکستان کا ابھی تک بڑا ہی متوازن نقطہ نظر۔ سپ بھی مرنے کے شدید امکانات ہیں اور لٹھ بھی انشااللہ محفوظ رہے گی۔ متذکرہ بالا صورت حال میں ایک ایران کی کامیابی جو کہ اسرائیل اور امریکہ کی ساری کامیابیوں پر پانی پھیر رہی ہے وہ ہے آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال۔ بحری راستہ اور وہ بھی امریکہ اتحادی قوتوں کے لئے غیر محفوظ۔ کسی بھی جنگ میں بحری بیڑہ اصل بیڑہ اٹھاتا ہے اور مزے کی بات ہے اس دفعہ امریکی بحری بیڑہ بھی ٹرام بن گیا ہے اور مذکورہ بحری بیڑا شاں شاں کرتا دم دبا کر یا تو بھاگ گیا ہے یا پھر بھاگنے کے لئے تیار ہے۔ اگر چند دن مزید آبنائے ہرمز کی صورتحال جوں کی توں رہتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایران اپنی ساری کشتیاں جلا چکا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جنگیں ہمیشہ حکمت عملی سے جیتی جاتی ہیں۔ کرامات کا امکان ہوتا ہے لیکن یہ غیر مرئی چیزیں ہیں اور انحصار ہمیشہ وسائل پر اور حکمت عملی پر کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں ایران کے لئے لازم ہے کہ چائنا اور روس کے ذریعے اقوام متحدہ کے فورم پر آواز اٹھائے۔ عرب ممالک سے خانہ جنگی ایران کے لئے مہلک ثابت ہوگی لہذا ایران کو عرب ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کی پالیسی کو واضح کرنا ہوگا۔ تیل کا جنگ کی وجہ سے پوری دنیا میں بحران پیدا ہو چکا ہے اور ان حالات میں اپنی پالیسی کو پوری دنیا پر واضح کرنا ہو گا۔ طویل جنگ دونوں فریقین کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے تمام ممالک کو سفارتی لیول پر ان دونوں فریقین کو ہوش کے ناخن لینے کیلئے دبائو ڈالنا وقت کی اہم ضرور ت ہے۔ ان سارے کاموں کے لئے اقوام متحدہ کا فورم ہی ہے اور اگر اقوام متحدہ کی انتظامیہ احساس ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتی تو تیسری جنگ عظیم کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے لہذا اقوام عالم اور اقوام متحدہ مل کر گہری سوچ میں گم ہو جائیں اور ٹرمپ کی ہٹ دھرمیوں سے دنیائے عالم کو محفوظ بنانے کے لئے حتی المقدور کوشش کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں