اسلام آباد (بیوروچیف)پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کا ہدف صرف بچوں کا اسکولوں میں داخلہ نہیں بلکہ انہیں تعلیمی نظام میں برقرار رکھ کر معیاری، محفوظ اور معاون ماحول میں کامیابی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت این اے 57 میں رواں مالی سال کے دوران 39 ہزار بچوں کے داخلے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس میں سے چند ہفتوں میں 5 ہزار بچوں کو اسکولوں میں داخل کیا جا چکا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں ‘سٹیز فار چلڈرن’اور ملالہ فنڈ کے اشتراک سے منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا عنوان ”متحرک تعلیم: ڈراپ آؤٹ میں کمی کے لیے تخلیقی حکمت عملیوں میں سرمایہ کاری” تھا۔ اجلاس میں پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی اور اس امر پر غور کیا کہ بچوں کو نہ صرف تعلیم تک رسائی دی جائے بلکہ انہیں تعلیمی نظام میں برقرار رکھتے ہوئے ان کی ہمہ جہت نشوونما یقینی بنائی جائے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک اور پارلیمانی سیکرٹری برائے تعلیم رابعہ نسیم فاروقی بھی موجود تھیں۔بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ ان کے حلقہ این اے 57 میں جاری اقدامات وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وسیع تعلیمی ویڑن کے عین مطابق ہیں جس کا مقصد تعلیم کے معیار اور رسائی دونوں کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے 20 کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے اسکولوں میں دیواروں، کمروں اور بیت الخلاء کی تعمیر و مرمت کا کام جاری ہے۔ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کے فروغ کے لیے 33 میٹرک ٹیک اسکول قائم کیے گئے، 29 کمپیوٹر لیبارٹریاں بنائی گئیں جبکہ 434 ہائی اسکولوں اور 10 ایلیمنٹری اسکولوں میں لیبارٹریز کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ لڑکیوں کی عملی مہارتوں کے فروغ کے لیے چار گرلز اسکولوں میں میک اپ اور ڈیزائننگ کی کلاسز شروع کی گئی ہیں۔ اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے انگریزی اساتذہ کے تربیتی پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی ڈویڑن نے صوبائی سطح کے اسٹیم (STEAM) مقابلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے عملی تعلیم کی افادیت کو ثابت کیا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری نے مزید بتایا کہ شمولیتی تعلیم کے فروغ کے لیے ٹرانس جینڈر طلبہ کے لیے دو ضلعی اسکول قائم کیے گئے ہیں جہاں 100 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اسی طرح زرعی مزدوری میں مصروف بچوں کے لیے صبح سویرے اسکولوں کا منفرد نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ وہ تعلیم سے محروم نہ رہیں۔انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں 100 اسکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ ڈی آئی ایل فاؤنڈیشن کے تعاون سے 20 اسکولوں کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے۔ گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول ڈھیری حسن آباد کو جدید سہولیات سے آراستہ کر دیا گیا ہے جو علاقے میں معیاری تعلیم کی ایک نمایاں مثال ہے۔بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ یہ تمام اقدامات وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے جامع تعلیمی ایجنڈے کا حصہ ہیں جس کے تحت ”اسکول آن وہیلز” اور ”لائبریری آن وہیلز” جیسے منصوبے متعارف کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ”ہونہار اسکالرشپ پروگرام” کے تحت 25 ہزار سے زائد طلبہ کو وظائف فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ صوبہ بھر میں لیپ ٹاپ اسکیمیں، آئی ٹی حب، اسکول نیوٹریشن پروگرام اور طالبات کے لیے ٹرانسپورٹ سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ علاوہ ازیں خصوصی طلبہ کے لیے 28 سنٹرز آف ایکسیلینس قائم کیے گئے ہیں جہاں سپیچ تھراپی، فزیکل تھراپی اور پیشہ ورانہ تربیت کی سہولیات دستیاب ہیں۔گول میز کانفرنس میں وزارت تعلیم، نان فارمل ایجوکیشن، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور جائیکا سمیت مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی رسائی میں اضافے کے ساتھ ساتھ اسکولوں میں بچوں کے سیکھنے کے معیار کو بہتر بنانا ناگزیر ہے جس کیلئے کھیل کے ذریعے سیکھنے، سماجی و جذباتی نشوونما اور مثبت نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کیلئے صنفی حساس حکمت عملیوں پر بھی اتفاق کیا گیا۔



