تہران(مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کی اعلی فوجی قیادت کا ٹرمپ کو دوٹوک جوابایران کی اعلیٰ فوجی قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں وہم پر مبنی قرار دے دیں۔ ایرانی اعلی مشترکہ فوجی کمان نے بیان میں کہاکہ مشرق وسطی میں امریکا کو رسوائی کا سامنا ہے، ٹرمپ کی دھمکیاں مشرقِ وسطی میں امریکاکی ذلت اور رسوائی کی تلافی نہیں کرسکتیں، نہ ہی یہ خطے میں امریکا کی ناکامیوں کو چھپا سکتی ہیں۔ایرانی فوجی حکام کے مطابق امریکا کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکی آمیز زبان دراصل مشرق وسطی میں اس کی ذلت اور رسوائی کا اعتراف ہے، جسے اس طرح کے بیانات سے ختم نہیں کیا جا سکتا، بیان میں واضح کیا گیا کہ دھمکیوں اور دبا سے نہیں جھکیں گے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر امریکا نے کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوشش کی تو ایران اس کا سخت جواب دے گا، جس کے نتائج خطے کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہو گی۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور ڈیل کے لیے آج رات تک کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں کہاکہ ایران کے لیے آج کی ڈیڈلائن حتمی ہے، انہوں نے ڈیل نہ ہونے کی صور ت میں ایران کے پاور پلانٹ اور انفراسٹرکچر تباہ کرنے کی دھمکی دی اور کہا کہ ڈیل نہ ہوئی تو بارہ بجے سے پہلے ایران میں ہر پاور پلانٹ تباہ کر دیا جائے گا۔دریں اثناء ۔تہران، تل ابیب، واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل نے جنگ کے 39ویں روز بھی جارحیت جاری رکھی اور ایران کے شہری انفراسٹرکچر پر بمباری کی جس سے تہران میں ایک یہودی عبادت گاہ مکمل تباہ ہو گئی، ایران نے بھی جوابی حملوں میں امریکی تنصیبات اور اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کا سب سے بڑا پیٹرو کیمیکل پلانٹ تباہ کر دیا ہے، پاسداران انقلاب کا مالیاتی نظام منظم طور پر ناکارہ بنا رہے ہیں، ایران کے دو بڑے پیٹرو کیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایران کی 85 فیصد سے زیادہ پیٹرو کیمیکل برآمدات غیر فعال ہو گئی ہیں۔ سعودی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 7بیلسٹک میزائل تباہ کر دیئے ہیں، گرنے والے ملبے سے ہونے والے نقصان کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور صورتحال پر مکمل نظر رکھی جا رہی ہے، اپنی سرزمین اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ایران نے کویت میں امریکی بیس پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 15امریکی فوجی زخمی ہوگئے، سی بی ایس نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کویت کے علی السالم ائیر بیس پر حملہ رات گئے کیا گیا۔ادھر اسرائیلی وزارت صحت نے کہا کہ گزشتہ 24گھنٹوں میں 107اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک 7 ہزار سے زائداسرائیلی فوج زخمی ہوچکے ہیں۔ایرانی خبر رساں اداروں مہر اور فارس کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب دارالحکومت تہران اور اس کے مغرب میں واقع شہر کرج کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔دونوں اداروں نے رپورٹ کیا کہ چند لمحے قبل تہران اور کرج کے بعض علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی اطلاع اب تک موصول ہوئی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے جنگ کے دوران ایران میں 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے، یہ بیان سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا۔سینٹ کام کے مطابق 155 سے زائد ایرانی بحری جہازوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا یا تباہ کر دیا گیا ہے۔کمانڈ نے مزید کہا کہ اس آپریشن میں جوہری طاقت سے چلنے والے طیارہ بردار بحری جہاز اور آبدوزیں شامل ہیں، جبکہ F-35 لڑاکا طیارے اور B-52 بمبار طیارے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام کارروائیاں “آپریشن ایپک فیوری” کے تحت کی جا رہی ہیں۔




