اسلام آباد(بیورو چیف)وزیراعظم شہباز شریف نے نئے بجٹ سے قبل منی بجٹ لانے کی تجاویز مسترد کرتے ہوئے ایف بی آر پر واضح کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں سے عوام پریشان ہے اس لیے مزید ٹیکس لگانے یا منی بجٹ لانے کا مت سوچیں اور ریونیو بڑھانے کے متبادل ذرائع تلاش کیے جائیں۔ایف بی آر ذرائع کے مطابق مشرق وسطی کی کشیدگی کے باعث ٹیکس آمدن بڑھانے سے متعلق ہونے والے اہم اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ٹیکس تجاویز پیش کی گئیں جنہیں وزیراعظم نے مسترد کردیاہے۔ایف بی آر ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ تیل کی قیمتوں سے عوام پریشان ہے اس لیے مزید ٹیکس لگانے یا منی بجٹ لانے کا مت سوچیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ایف بی آر کو مشرق وسطی کی کشیدہ صورت حال کے باعث بجٹ تجاویز میں مفصل مشاورت کا حکم دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کو مشرق وسطی کی کشیدہ صورت حال کے پیش نظر اہداف پر نظر ثانی کیلئے راضی کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے اور آئندہ مالی سال2026-27 کے وفاقی بجٹ کی ترجیحات حالات کے مطابق تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔آئندہ بجٹ میں افراط زر، مالیاتی خسارے سمیت اہم اہداف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی تین سالہ بجٹ حکمت عملی سے اہداف بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اگلے مالی سال کے لیے بجٹ سازی پر کام تیز کردیا گیا ہے اور رواں ماہ سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی کے اجلاس متوقع ہیں اور بجٹ سازی کا عمل مکمل کرکے جون کے پہلے عشرے بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کا امکان ہے۔




